
ہالی ووڈ کا رخ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف، سیم آلٹمین، ایلون مسک اور مارک زکربرگ منفی کرداروں میں نمایاں
ٹیکنالوجی کے ارب پتی بانیوں کا سنہرا دور ختم؟ نئی فلمیں اور دستاویزی پروگرام بدلتی عوامی سوچ کی عکاسی کرنے لگے
ہالی ووڈ: ایک وقت تھا جب ٹیکنالوجی کی دنیا کے بانیوں کو مستقبل کے معمار، غیر معمولی ذہانت کے مالک اور انسانیت کے مسائل حل کرنے والے وژنری کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، لیکن اب منظرنامہ تیزی سے بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہالی ووڈ کی بڑی فلمیں، دستاویزی فلمیں اور ٹی وی پروجیکٹس ٹیکنالوجی کے طاقتور ترین افراد کو ہیرو کے بجائے متنازع، خود غرض، طاقت کے بھوکے اور بعض اوقات خطرناک کرداروں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
موسمِ خزاں اور آنے والے کرسمس سیزن میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے ناموں پر مبنی کئی فلمیں اور دستاویزی منصوبے سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک، میٹا کے بانی مارک زکربرگ، کرپٹو دنیا کے سابق ارب پتی سیم بینک مین فرائیڈ اور تھیرانوس کی بانی الزبتھ ہومز جیسے نام شامل ہیں۔

یہ محض ہالی ووڈ کی دلچسپی کا معاملہ نہیں بلکہ ماہرین کے مطابق ان فلموں میں معاشرے کے اس بدلتے ہوئے رویے کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے جو گزشتہ ایک دہائی میں ٹیکنالوجی کے ارب پتیوں کے بارے میں پیدا ہوا ہے۔
سیم آلٹمین: اپنی ہی فلم سے ناخوش
اوپن اے آئی کے بانی سیم آلٹمین اس نئی لہر کے نمایاں ترین کرداروں میں شامل ہیں۔ ان کی کمپنی اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں غیر معمولی اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن اب ان کی زندگی کے ایک انتہائی ڈرامائی باب کو ہالی ووڈ کی فلم کا موضوع بنایا گیا ہے۔
’آرٹیفیشل‘ (Artificial) نامی فلم، جو کرسمس کے موقع پر ریلیز ہونے والی ہے، آلٹمین کے اوپن اے آئی سے اچانک اخراج اور پھر چند ہی دنوں میں دوبارہ کمپنی میں واپسی کے واقعے کے گرد گھومتی ہے۔
فلم میں سیم آلٹمین کا کردار معروف اداکار اینڈریو گارفیلڈ ادا کر رہے ہیں جبکہ ہدایت کاری کی ذمہ داری معروف فلم ساز لوکا گواداگنینو نے سنبھالی ہے۔

آلٹمین خود اس فلم کے ٹریلر سے زیادہ متاثر نظر نہیں آئے۔ انہوں نے حال ہی میں سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلم کا ٹریلر دیکھا ہے اور انہیں یہ ایک ’’بہت بری فلم‘‘ دکھائی دیتی ہے۔
تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی قدر کرتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ ردعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے وہ افراد جو اپنی کمپنیوں، مصنوعات اور برانڈز پر مکمل کنٹرول رکھنے کے عادی ہیں، اب اپنی زندگی کے ایسے ورژن کو پردۂ اسکرین پر دیکھنے پر مجبور ہیں جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں۔
’ٹیک برو‘ فلموں کا نیا دور
آلٹمین کی فلم کوئی الگ تھلگ مثال نہیں۔ ہالی ووڈ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیکنالوجی کے بانیوں اور ارب پتیوں پر مبنی فلموں اور دستاویزی پروگراموں کی ایک نئی صنف ابھر رہی ہے، جسے غیر رسمی طور پر ’ٹیک برو‘ فلموں کا رجحان کہا جا رہا ہے۔
اس رجحان میں ٹیکنالوجی کے بانیوں کو صرف کامیاب کاروباری شخصیات کے طور پر نہیں بلکہ ایسے طاقتور افراد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن کے فیصلے پوری دنیا کے معاشروں، معیشتوں، سیاست، میڈیا اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
آنے والے عرصے میں ناظرین کو کئی اہم منصوبے دیکھنے کو ملیں گے، جن میں:
- سیم آلٹمین پر مبنی فلم ’آرٹیفیشل‘
- مارک زکربرگ پر مبنی ’دی سوشل ریکوننگ‘
- ایلون مسک پر الیکس گبنی کی طویل دستاویزی فلم ’مسک‘
- سیم بینک مین فرائیڈ کے عروج و زوال پر نیٹ فلکس سیریز ’دی آلٹروئسٹس‘
- تھیرانوس کی بانی الزبتھ ہومز پر مبنی دستاویزی منصوبہ
شامل ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے کردار اب ہالی ووڈ کے لیے وہی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جو ماضی میں سیاست دانوں، صنعت کاروں، جرائم پیشہ شخصیات اور دیگر طاقتور افراد کو حاصل تھی۔
کبھی ٹیکنالوجی کے بانی ’نجات دہندہ‘ سمجھے جاتے تھے
ٹیکنالوجی کے ارب پتی بانیوں کے بارے میں عوامی تاثر ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔
2010 کی دہائی میں فیس بک، اسمارٹ فونز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سوشل میڈیا اور نئی ڈیجیٹل سروسز کے پھیلاؤ کے ساتھ ٹیکنالوجی کو دنیا بدلنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
مارک زکربرگ، اسٹیو جابز، ایلون مسک اور بعد میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کو ایسی شخصیات کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جو روایتی صنعتوں کو تبدیل کر رہی ہیں اور مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔
یہ تاثر صرف کاروباری حلقوں تک محدود نہیں تھا۔ میڈیا میں بھی ٹیکنالوجی کے بانیوں کو نوجوان ذہانت، جدت اور غیر معمولی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے منفی اثرات، ڈیٹا پرائیویسی، غلط معلومات، انتخابی سیاست پر اثراندازی، اجارہ داری، ملازمین کے حقوق، مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور ارب پتی ٹیک کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت جیسے مسائل نے اس تصور کو شدید متاثر کیا۔
مصنوعی ذہانت نے سوالات مزید بڑھا دیے
اب مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ٹیکنالوجی کی صنعت کے بارے میں عوامی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اے آئی کے ذریعے کام کی جگہوں میں تبدیلی، ملازمتوں کے مستقبل، جعلی تصاویر اور ویڈیوز، غلط معلومات، ڈیٹا کے استعمال، کاپی رائٹ، انسانی تخلیقی صلاحیت اور مستقبل میں طاقتور اے آئی نظاموں کے ممکنہ خطرات پر مسلسل بحث جاری ہے۔
اسی وجہ سے ٹیکنالوجی کے ارب پتیوں کے بارے میں وہ پرانا جوش، جو کبھی انہیں مستقبل کے ہیرو کے طور پر پیش کرتا تھا، اب کئی حلقوں میں تشویش اور شکوک میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہالی ووڈ کی نئی فلمیں اسی تبدیلی کو ثقافتی سطح پر منعکس کر رہی ہیں۔
مارک زکربرگ: ’دی سوشل نیٹ ورک‘ سے ’دی سوشل ریکوننگ‘ تک
مارک زکربرگ اس تبدیلی کی شاید سب سے نمایاں مثال ہیں۔
2010 میں ریلیز ہونے والی ’دی سوشل نیٹ ورک‘ نے نوجوان زکربرگ کی کہانی کو دنیا بھر میں مقبول کر دیا تھا۔ فلم میں جیسی آئزنبرگ نے زکربرگ کا کردار ادا کیا۔
فلم کا آغاز ہارورڈ یونیورسٹی کے ان دنوں سے ہوتا ہے جب نوجوان زکربرگ ایک ویب سائٹ تیار کرتے ہیں، جو بعد میں فیس بک کی بنیاد بنتی ہے۔

فلم میں زکربرگ کو انتہائی ذہین، تیز رفتار اور کمپیوٹر کوڈنگ میں غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے نوجوان کے طور پر دکھایا گیا، لیکن ساتھ ہی انہیں سماجی طور پر مشکل، مغرور اور بعض اوقات بے رحم شخصیت کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔
کہانی میں ان کے ذاتی تعلقات اور کاروباری شراکت داری کے تنازعات بھی نمایاں کیے گئے، خاص طور پر ان کے دوست ایڈورڈو سیورین کے ساتھ تعلقات۔
نوجوان زکربرگ کا ’اینٹی ہیرو‘ کردار
جیسی آئزنبرگ کا زکربرگ ایک روایتی ولن نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا اینٹی ہیرو تھا جو بیک وقت قابلِ تعریف بھی محسوس ہوتا تھا اور قابلِ تنقید بھی۔
اس کی ذہانت، رفتار اور تخلیقی صلاحیت ناظرین کو متاثر کرتی تھی، جبکہ اس کے رویے اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ اسے ایک پیچیدہ کردار بناتے تھے۔
یہی پیچیدگی ’دی سوشل نیٹ ورک‘ کی کامیابی کا ایک اہم عنصر بنی۔
تاہم زکربرگ خود اس فلم سے خوش نہیں تھے اور اسے اپنے لیے ایک تکلیف دہ تجربہ قرار دے چکے ہیں۔
اب طویل عرصے بعد مارک زکربرگ کی ایک نئی تصویر سامنے آنے والی ہے۔
’دی سوشل ریکوننگ‘ میں اداکار جیریمی اسٹرانگ زکربرگ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ آرون سورکن کی ’دی سوشل نیٹ ورک‘ کے طویل عرصے سے متوقع سیکوئل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔

نوجوان زکربرگ کی کہانی کے بجائے توجہ اس دور پر ہے جب وہ کئی برسوں سے ارب پتی بن چکے تھے اور فیس بک کے عالمی اثر و رسوخ کے ساتھ متعدد بڑے تنازعات بھی سامنے آ چکے تھے۔
نئے زکربرگ کی تصویر پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تاریک دکھائی دیتی ہے۔
جیریمی اسٹرانگ کا کردار ایک ایسے انتہائی طاقتور شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کے فیصلوں کے اثرات صرف اس کی کمپنی تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے تک پھیلتے ہیں۔
یہ تبدیلی خود اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی کے بارے میں ہالی ووڈ کا زاویہ بھی بدل چکا ہے۔
’ٹیک ہنی مون‘ کا اختتام؟
ماہرین کے مطابق ایک وقت میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے بارے میں جوش، مثبت سوچ اور اعتماد پایا جاتا تھا، وہ اب نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔
’وائرڈ‘ کی ایڈیٹر ان چیف کیٹی ڈرمونڈ کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق عوامی جوش اور اعتماد میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔
ان کے مطابق عام لوگوں کے اندر ان انتہائی دولت مند افراد کے بارے میں ناراضی بڑھ رہی ہے جو معاشرے کے ایک محدود اور الگ تھلگ دائرے میں رہتے ہیں اور جن کے پاس عام انسان کے مقابلے میں ناقابلِ تصور وسائل موجود ہیں۔
یہ ناراضی اس وقت مزید نمایاں ہوتی ہے جب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز متعارف کراتی ہیں جن کے بارے میں عام صارف یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا انہیں واقعی ان کی ضرورت ہے یا نہیں۔
ایلون مسک بھی ہالی ووڈ کی نظر میں
دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک بھی اس نئے ثقافتی رجحان سے باہر نہیں۔
ٹیسلا، اسپیس ایکس، ایکس اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی بڑے شعبوں میں سرگرم مسک کی زندگی پہلے ہی فلمی کہانی سے کم نہیں۔

اب معروف دستاویزی فلم ساز الیکس گبنی نے مسک پر تقریباً چار گھنٹے طویل دستاویزی فلم تیار کی ہے۔
مسک کی شخصیت میں پہلے ہی کئی ایسے عناصر موجود ہیں جو ہالی ووڈ کے لیے غیر معمولی کشش رکھتے ہیں: بے پناہ دولت، خلائی پروگرام، الیکٹرک گاڑیاں، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، سیاسی تنازعات اور متنازع بیانات۔
لیکن نئی دستاویزی فلم میں صرف ان کی کاروباری کامیابیوں پر توجہ نہیں بلکہ ان کی شخصیت، طاقت اور اثر و رسوخ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیم بینک مین فرائیڈ: کرپٹو انقلاب سے جیل تک
ٹیکنالوجی اور ارب پتی بانیوں کی نئی کہانیوں میں کرپٹو کرنسی کے سابق بڑے نام سیم بینک مین فرائیڈ بھی شامل ہیں۔
ایک وقت میں وہ کرپٹو دنیا کے کامیاب ترین نوجوان کاروباری افراد میں شمار ہوتے تھے، لیکن ان کے کاروباری ادارے کے خاتمے کے بعد ان کی شہرت مکمل طور پر بدل گئی۔
اب نیٹ فلکس پر ان کے عروج و زوال سے متعلق ’دی آلٹروئسٹس‘ نامی سیریز پیش کی جا رہی ہے۔
یہ کہانی اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی کامیابی کو صرف جدت اور کاروباری ذہانت کے زاویے سے نہیں بلکہ طاقت، دولت، اخلاقیات اور احتساب کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
الزبتھ ہومز کی کہانی بھی اسی سلسلے کا حصہ
تھیرانوس کی بانی الزبتھ ہومز بھی ٹیکنالوجی کے ’وژنری‘ تصور کے تاریک پہلو کی ایک بڑی مثال بن چکی ہیں۔
خون کے ٹیسٹ کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کے دعووں سے شہرت حاصل کرنے والی ہومز کی کمپنی بعد میں شدید تنازعات کا شکار ہوئی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔

اب ناتھن فیلڈر اور لانس اوپن ہائیم کی جانب سے ہومز پر ایک نئی دستاویزی فلم بھی اس سلسلے میں شامل ہو رہی ہے۔
اس طرح ہالی ووڈ اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ٹیکنالوجی کی دنیا کی کہانیاں ایک مشترکہ سوال اٹھاتی نظر آتی ہیں: کیا غیر معمولی ذہانت اور دولت کسی شخص کو غیر معمولی طاقت استعمال کرنے کا حق بھی دیتی ہے؟
’سلیکون ویلی سنیما‘ کے کئی ادوار
فلمی اسکالر جو اسٹریٹ، جنہوں نے ٹیکنالوجی اور فلم کے تعلق پر ’سلیکون ویلی سنیما‘ نامی کتاب لکھی ہے، کے مطابق ہالی ووڈ میں ٹیکنالوجی کے بانیوں کی تصویر کشی کئی مراحل سے گزری ہے۔
2010 کی دہائی کے آغاز میں زکربرگ جیسے ٹیکنالوجی کے بانی اگرچہ مکمل طور پر پسندیدہ نہیں تھے، لیکن انہیں غیر معمولی ذہانت اور کامیابی کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔
اسی دور میں HBO کی مشہور سیریز ’سلیکون ویلی‘ نے ٹیکنالوجی کے کاروباری افراد کو مزاحیہ اور عجیب و غریب انداز میں پیش کیا۔
دوسری جانب 2013 کی فلم ’جابز‘ میں اسٹیو جابز کو ایک پیچیدہ مگر غیر معمولی ذہانت رکھنے والے جینیئس کے طور پر دکھایا گیا۔
یعنی اس دور میں ٹیکنالوجی کے بانیوں کی خامیوں کے باوجود ان کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیت کے لیے ایک خاص احترام موجود تھا۔
اب کہانی ’جینیئس‘ سے ’احتساب‘ تک پہنچ گئی
آج کا ہالی ووڈ اسی کردار کو زیادہ سخت سوالات کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ کوئی بانی کتنا ذہین ہے یا اس نے کتنی بڑی کمپنی بنائی ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
اس طاقت کا استعمال کیسے ہوا؟
اس کے فیصلوں سے عام لوگوں پر کیا اثر پڑا؟
کیا ٹیکنالوجی نے معاشرے کو واقعی بہتر بنایا یا نئے مسائل پیدا کیے؟
کیا ارب پتی ٹیکنالوجی کے بانیوں کے پاس اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ ان کے فیصلے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکیں؟
یہی وہ سوالات ہیں جو نئی فلموں اور دستاویزی پروگراموں میں بالواسطہ یا براہِ راست سامنے آ رہے ہیں۔
عوامی اعتماد میں کمی نے ہالی ووڈ کی کہانی بھی بدل دی
ٹیکنالوجی کی صنعت کے بارے میں عوامی رویے میں آنے والی تبدیلی کا براہِ راست اثر تفریحی صنعت پر بھی پڑا ہے۔
جب عوام کسی شعبے کو امید اور ترقی کی علامت سمجھتے ہیں تو فلمیں بھی اس شعبے کے کرداروں کو زیادہ مثبت یا کم از کم پیچیدہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔
لیکن جب وہی شعبہ نگرانی، ڈیٹا، اجارہ داری، مصنوعی ذہانت کے خطرات، ملازمتوں کے مستقبل اور ارب پتیوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی و سماجی اثر و رسوخ سے جوڑ دیا جائے تو کہانی کا انداز بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کے ٹیک بانی ہالی ووڈ میں اکثر ایسے کردار بن رہے ہیں جنہیں سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان سے سوال بھی کیا جاتا ہے۔
تاہم اس رجحان کو صرف ٹیکنالوجی مخالف جذبات قرار دینا بھی شاید درست نہیں ہوگا۔
فلمیں اور دستاویزی پروگرام معاشرے میں موجود سوالات اور بحثوں کو منعکس کرتے ہیں۔ وہ لازماً کسی شعبے کے خلاف حتمی فیصلہ نہیں ہوتیں۔
ممکن ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور دیگر شعبوں میں کامیابیاں ایک مرتبہ پھر عوامی اعتماد بحال کریں۔
لیکن فی الحال ہالی ووڈ کے لیے ٹیکنالوجی کے ارب پتی بانیوں کی زندگیوں میں ڈراما، تنازع، طاقت، دولت اور اخلاقی سوالات کا امتزاج انتہائی پرکشش موضوع بن چکا ہے۔
نتیجہ: ’ٹیک ہیرو‘ سے ’ٹیک اینٹی ہیرو‘ تک
سیم آلٹمین، مارک زکربرگ، ایلون مسک، سیم بینک مین فرائیڈ اور الزبتھ ہومز کی کہانیاں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن ان سب میں ایک مشترکہ پہلو موجود ہے: غیر معمولی ٹیکنالوجی، غیر معمولی دولت اور غیر معمولی طاقت۔
ایک وقت میں یہی عناصر انہیں جدید دنیا کے ہیرو بناتے تھے۔
اب یہی عناصر انہیں ہالی ووڈ کے لیے متنازع اور پیچیدہ کردار بنا رہے ہیں۔
سیم آلٹمین اپنی فلم کے ٹریلر کو دیکھ کر اسے ’’بہت بری فلم‘‘ قرار دے سکتے ہیں، زکربرگ ’دی سوشل نیٹ ورک‘ کو تکلیف دہ قرار دے سکتے ہیں اور دیگر ٹیک ارب پتی بھی اپنی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویر سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اس حقیقت کو نظرانداز کرنا مشکل ہے کہ ہالی ووڈ نے معاشرے میں موجود ایک بڑے سوال کو پکڑ لیا ہے:
کیا ٹیکنالوجی کے انقلابی بانی واقعی مستقبل کے نجات دہندہ ہیں، یا وہ ایسی طاقت کے مالک بن چکے ہیں جس کا احتساب اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے؟
فی الحال اس سوال کا جواب ہالی ووڈ کے پاس نہیں، لیکن بڑی اسکرین پر اس سوال کی گونج پہلے سے کہیں زیادہ واضح سنائی دے رہی ہے۔




