
پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان نے فتح فور گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔بیان کے مطابق ’فتح فور کا توسیع شدہ ورژن جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشن سسٹم سے لیس ہے اور طویل فاصلے تک اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
انڈیا کے ساتھ سنہ 2025 میں ہونے والی محدود فوجی لڑائی کے بعد پاکستان کا ’فتح فور‘ میزائل کے ایکسٹنڈڈ ورژن کی صلاحیت حاصل کرنا دفاعی طور پر ایک اہم اور مضبوط پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اردو نیوز نے ’فتح فور‘ کے ایکسٹنڈ ورژن کے حصول اور انڈیا کے تناظر میں اس پیش رفت کے اثرات سمجھنے کے لیے دفاعی امور پر دسترس رکھنے والے تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان سے بات کی۔
بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان کے مطابق پاکستان کے پاس مختلف نوعیت کے میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ، یعنی ’میزائل آرسنل‘ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس آرسنل میں ایسی صلاحیت رکھنے والے میزائل شامل ہیں جو انڈیا کے مختلف حصوں میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں بنیادی طور پر انڈیا کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے پاس ایسے میزائل بھی موجود ہیں جو جوہری وارہیڈ (Nuclear Warhead) لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں سمندر، فضا اور زمین، تینوں ذرائع سے فائر کیا جا سکتا ہے۔‘
بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان نے بتایا کہ ’اس صلاحیت کے ذریعے انڈیا میں سیاسی و تزویراتی (Politico–Strategic)، فوجی اور ٹیکٹیکل (Tactical) اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ صلاحیت کسی بھی ملک کے خلاف نفسیاتی دباؤ، حوصلہ شکنی یا ’سٹریٹیجک پیرالیسس‘ یعنی تزویراتی مفلوجیت پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی اپنی ان صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان کی دوسری اہم طاقت اس کی سٹریٹیجک ڈیٹرنس، یعنی تزویراتی بازدار صلاحیت ہے، جس کا بنیادی مقصد کسی بھی صورتحال کو مزید کشیدگی اور بڑے تصادم کی طرف بڑھنے سے روکنا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے پاس فتح سیریز (Fatah Series) کے چار میزائل موجود ہیں۔ ان میں پہلا فتح ون تھا، جس کی رینج تقریباً 140 کلومیٹر ہے، جبکہ فتح ٹو کی رینج 300 کلومیٹر ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’فتح ون اور فتح ٹو کے ذریعے بھی پاکستان نے اپنی میزائل صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور ان کے ذریعے دشمن پر دباؤ اور حوصلہ شکن اثر پیدا کرنے کی صلاحیت کا اظہار کیا گیا۔ اس کے بعد فتح تھری سامنے آیا، جس کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر ہے اور یہ سُپرسانک رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان نے کہا ’اب فتح فور کا حالیہ تجربہ کیا گیا ہے، جس کی رینج 750 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق اس میزائل کی خاص بات یہ ہے کہ ستمبر 2025 میں اس کا تربیتی تجربہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد رواں سال مئی میں بھی اس کا ایک اور تجربہ کیا گیا جبکہ حالیہ تجربے میں اسے مزید بہتر اور جدید شکل میں پیش کیا گیا ہے جسے’ایکسٹینڈڈ ورژن‘ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ گزشتہ دونوں تجربات سے حاصل ہونے والے تجربات اور معلومات کی بنیاد پر اس میں مزید بہتری اور تکنیکی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’فتح فور میں جدید ترین اسٹیٹ آف دی آرٹ سسٹمز شامل کیے گئے ہیں۔ اس میزائل میں جدید نیوی گیشنل ایڈز یعنی راستے اور سمت کا تعین کرنے والے نظام، اور جدید ایویانکس، یعنی پرواز اور کنٹرول سے متعلق الیکٹرانک نظام بھی شامل ہیں۔ ان جدید نظاموں کے نتیجے میں اس کی درست نشانہ بندی، یعنی ہائی پریسیژن، اور مؤثر حملہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس میزائل میں نمایاں تبدیلیاں اور بہتری کی گئی ہیں اور 750 کلومیٹر کی رینج بھی ایک خاصی بڑی رینج ہے۔ تجربات کے بعد اس میں مزید تکنیکی خصوصیات اور پیرامیٹرز شامل کیے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے فتح فور کا تجربہ پاکستان کے دفاعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے اور اسے ایک توسیعی اور مستقبل پر مبنی وژن کے ساتھ تیار اور آزمایا گیا ہے۔‘
انڈیا کے تناظر میں فتح فور کے ایکسٹینڈ ورژن کی اہمیت
بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان کے مطابق پاکستان کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں بنیادی طور پر انڈیا کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہیں اور اسی تناظر میں ’فتح فور‘ کی توسیعی صلاحیت کو دیکھا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق ’پاکستان آرمی پہلے ہی ’آرمی راکٹ فورس کمانڈ‘ قائم کر چکی ہے، جس کے لیے ایک آزاد کمانڈر مقرر کیا گیا ہے اور یہ کمانڈ براہِ راست جنرل ہیڈکوارٹرز (GHQ) کو جواب دہ ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس کمانڈ کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فیصلے کرنے میں غیر ضروری وقت ضائع نہ ہو، فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور ضرورت پڑنے پر میزائلوں کی فوری تعیناتی اور فائرنگ ممکن بنائی جا سکے۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے آرمی راکٹ فورس کمانڈ پہلے ہی فعال ہے۔
بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان کے مطابق اس پورے تناظر میں ’فتح فور‘ پاکستان کی میزائل اور دفاعی صلاحیت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’یہ میزائل کروز میزائل ہے۔ اسے کروز میزائل اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں ہوائی جہاز کی طرح ’ونگز‘ اور جیٹ انجن موجود ہوتے ہیں اور یہ ایک طیارے کی طرح فضا میں پرواز کرتے ہوئے اپنے ہدف کی جانب بڑھتا ہے۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ ’اس کے برعکس بیلسٹک میزائل عموماً فضا میں بلند ہوتا ہے اور پھر اپنے ہدف کی جانب گرتے ہوئے پہنچتا ہے، جبکہ کروز میزائل نسبتاً کم بلندی پر ہوائی جہاز کی طرح پرواز کرتے ہوئے ہدف تک پہنچتا ہے۔ فتح سیریز کی رفتار عام طور پر تقریباً مَیک 2 سے مَیک 3 تک بتائی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے اس کی رفتار اور درست نشانہ بندی قابلِ ذکر ہے۔‘
بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان کے مطابق ’دنیا میں امریکی ٹوماہاک جیسے کروز میزائل بھی اپنی انتہائی درست نشانہ بندی اور مؤثر حملہ کرنے کی صلاحیت کے لیے معروف ہیں۔ کروز میزائل ٹیکنالوجی میں جدید نظام، درست نشانہ بندی اور مؤثر حملہ کرنے کی صلاحیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔‘



