مشرق وسطیٰتازہ ترین

یمن میں حوثیوں کے خلاف اتحادی افواج کی بڑی کارروائی، 82 فوجی اہداف تباہ

صوبہ صعدہ کے پہاڑی علاقوں میں قائم بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرہ کرنے کی 11 تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان و سعودی فضائیہ نے یمن کے صوبہ اِب (Ibb) میں یریم کیمپ پر ائیر سٹرائیک کی۔ فضائی حملوں میں راکٹ لانچ کرنے والے پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کے لیے مسلسل اس کیمپ کا استعمال کرتی ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران 1,747 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا زخمی کرکے جنگ سے باہر کر دیا گیا جبکہ سینکڑوں جنگجو باب المندب کے علاقے میں گھیرے جانے کی اطلاعات ہیں۔

تاہم دستیاب رپورٹس میں اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی لیے تقریباً 2,000 حوثیوں کی ہلاکت کا دعویٰ فی الحال ایک فریق کی جانب سے بیان کردہ جنگی اعداد و شمار کے طور پر ہی بیان کیا جا سکتا ہے

یمن میں قانونی حکومت کی خودمختاری کی حمایت کرنے والے اتحاد نے حوثی ملیشیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں اس کے 82 فوجی اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اتحادی افواج کے مطابق کارروائی کے دوران حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مواصلاتی نظام، ہتھیاروں کے گودام اور جنگجوؤں کے اجتماع کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں شہریوں، شہری تنصیبات اور اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے حملے بغیر جواب کے نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری آبادی اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک سنگین کارروائی ہے اور اتحادی افواج حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ اتحادی فورسز نے یمن کے صوبوں صعدہ، الحدیدہ، الجوف اور مارب میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف ایک جامع کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران ایسے اہداف کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا جنہیں حوثی ملیشیا سعودی عرب اور دیگر علاقوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے استعمال کرتی تھی۔

صعدہ میں بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر تباہ

ترجمان کے مطابق اتحادی کارروائی میں یمن کے صوبہ صعدہ کے پہاڑی علاقوں میں قائم بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرہ کرنے کی 11 تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان تنصیبات کو حوثی ملیشیا کی میزائل صلاحیت کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کارروائی میں حوثیوں کے زیر استعمال کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مواصلاتی نظام، میزائل اور ہتھیاروں کے گودام اور جنگجوؤں کے اجتماع کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد حوثی ملیشیا کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کرنا اور سعودی عرب سمیت خطے میں شہریوں کو میزائل و ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

ریاض اور ابھا ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد کارروائی

اتحادی افواج کی جانب سے یہ کارروائی سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ریاض اور جنوب مغربی خطے عسیر میں واقع ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کے بعد کی گئی۔

عرب نیوز کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر تین افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوئے۔ ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جاں بحق ہوئیں جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک سوڈانی شہری جاں بحق ہوا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد سعودی حکام نے شہری تنصیبات اور فضائی سفر کے مراکز کو لاحق خطرات کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے ہیں۔

ریاض پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا میزائل لانچ پلیٹ فارم تباہ

اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ سعودی دارالحکومت ریاض پر حملے میں استعمال ہونے والے بیلسٹک میزائل لانچ پلیٹ فارم کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعا میں اس لانچ پلیٹ فارم کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں سے سعودی عرب پر ایک اور بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد ان کے حملہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہے تاکہ سعودی عرب کے شہروں، ہوائی اڈوں اور دیگر شہری تنصیبات کو مزید حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ریاض کے شمال میں بیلسٹک میزائل مار گرایا گیا

اس سے قبل بدھ کی صبح یمن میں قانونی حکومت کی خودمختاری کی حمایت کرنے والے اتحاد نے بتایا تھا کہ سعودی فضائی دفاع نے ریاض کے شمالی علاقے کی جانب آنے والے حوثیوں کے ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرایا۔

سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو شہری علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

عدن ایئرپورٹ بھی بیلسٹک میزائلوں کی زد میں

یمن کی حکومت نے بھی بدھ کی صبح دعویٰ کیا کہ حوثی ملیشیا نے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

یمن کے حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے مسلسل میزائل حملے ملک کے پہلے سے پیچیدہ سکیورٹی اور انسانی بحران میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ عدن حکومت کے زیر انتظام اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ملک کے لیے اہم فضائی رابطے کا مرکز ہے۔

نجران اور جازان کے ہوائی اڈے بھی نشانہ بنے

اس سے قبل پیر کے روز سعودی عرب کے محکمۂ ہوا بازی نے بتایا تھا کہ نجران اور جازان کے ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔

سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکا ہے۔ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ ان حملوں میں شہری علاقوں اور بنیادی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

باب المندب پر کنٹرول کی جنگ

یمن میں جاری تنازع میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ اور قانونی یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی اتحادی افواج کے درمیان طویل عرصے سے لڑائی جاری ہے۔ اس تنازع کی اہمیت صرف یمن تک محدود نہیں بلکہ بحیرۂ احمر اور اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے باب المندب بھی اس کشیدگی کا اہم مرکز ہے۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے۔ اس راستے سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑی تعداد میں بحری جہاز گزرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یمن میں جاری لڑائی اور حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں کے علاقائی اور عالمی تجارت پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

حوثی ملیشیا کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں اتحادی افواج کی حالیہ کارروائیوں سے یمن میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا بنیادی مقصد حوثیوں کی عسکری تنصیبات اور حملہ کرنے کی صلاحیت کو نشانہ بنانا ہے، جبکہ یمن میں جاری تنازع کے باعث شہری آبادی کے تحفظ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے مطالبات بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

حالیہ واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ یمن کا تنازع بدستور علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے، جہاں ایک جانب حوثی ملیشیا سعودی عرب اور دیگر اہداف پر میزائل و ڈرون حملوں کی صلاحیت برقرار رکھتی ہے، جبکہ دوسری جانب اتحادی افواج حوثیوں کے عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button