کالمزعلی عباس کاظمی

ڈیجیٹل دور کا منتشر انسان…… علی عباس کاظمی

اس تبدیلی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی توجہ کی قیمت پہچاننا بھول گئے ہیں۔ وقت ضائع ہونے کا احساس تو کبھی نہ کبھی ہو جاتا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان کے پاس دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنے کے لیے وقت ہے، مگر اپنی زندگی کا جائزہ لینے کے لیے فرصت نہیں۔ صبح آنکھ کھلتے ہی ہاتھ موبائل کی طرف بڑھتا ہے اور رات کو سونے سے پہلے بھی آخری نظر اسکرین پر پڑتی ہے۔ دن بھر کی تھکن، گھریلو پریشانیاں، معاشی دباؤ، بچوں کا مستقبل اور اپنے اندر جمع ہونے والی بے شمار الجھنوں کے باوجود موبائل اسکرین پر ہر لمحہ کوئی نئی چیز ہماری توجہ کھینچنے کے لیے موجود ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چند ویڈیوز دیکھ کر ذہن ہلکا کر رہے ہیں، لیکن کبھی غور نہیں کرتے کہ جس ذہن کو سکون دینے نکلے تھے، اسے مزید منتشر کرکے واپس آ رہے ہیں۔ یہ محض ایک ذاتی عادت نہیں رہی، بلکہ ہمارے اجتماعی طرزِ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔آج اسکرولنگ صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، توجہ حاصل کرنے کی ایک بڑی دوڑ بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم اس طرح بنائے گئے ہیں کہ صارف زیادہ سے زیادہ دیر ان پر موجود رہے۔ نئی ویڈیو، نئی اطلاع، نیا تبصرہ اور نئی بحث انسان کو بار بار اسکرین کی طرف کھینچتے ہیں۔ یہاں ہر چیز فوری ردعمل مانگتی ہے، مگر بہت کم چیزیں گہرے غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ ہم چند سیکنڈ میں کسی شخص کو پسند یا ناپسند کر دیتے ہیں، کسی خبر کو سچ مان لیتے ہیں، کسی واقعے پر غصہ ظاہر کرتے ہیں اور پھر اگلے ہی لمحے سب کچھ بھول کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس ماحول میں سوچنے سے پہلے فیصلہ کرنا اور سمجھنے سے پہلے رائے قائم کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں اختلاف بڑھنے، افواہوں کے پھیلنے اور معمولی باتوں پر شدید ردعمل سامنے آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم نے ٹھہر کر سوچنے کی عادت کمزور کر دی ہے۔
اس تبدیلی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی توجہ کی قیمت پہچاننا بھول گئے ہیں۔ وقت ضائع ہونے کا احساس تو کبھی نہ کبھی ہو جاتا ہے، لیکن توجہ ضائع ہونے کا نقصان زیادہ دیر تک محسوس نہیں ہوتا۔ گھر میں کوئی بات کر رہا ہوتا ہے تو اس کی آواز سنائی دیتی ہے، مگر ذہن کہیں اور مصروف رہتا ہے۔ بظاہر انسان سب کچھ کر رہا ہوتا ہے، مگر کسی ایک کام یا تعلق کو پوری توجہ نہیں دے پاتا۔ یہی منتشر کیفیت آہستہ آہستہ تعلیم، کام، فیصلہ سازی اور گھریلو زندگی میں اپنی جگہ بناتی ہے۔ جب ذہن مسلسل بیرونی اشاروں کا محتاج ہو جائے تو انسان کے لیے اپنی ترجیحات خود طے کرنا بھی مشکل ہونے لگتا ہے۔ہمارے معاشرے میں اس مسئلے کو اکثر نوجوانوں کی خرابی کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ بڑوں کے رویے بھی اس صورتِ حال کو مضبوط کرتے ہیں۔ والدین بچوں کو موبائل سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں، مگر خود کھانے کی میز پر فون دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اساتذہ طلبہ کی کم ہوتی توجہ پر تشویش ظاہر کرتے ہیں، مگر ہم نے تعلیم کو بھی کئی جگہ محض نمبر، امتحان اور جلد نتیجہ حاصل کرنے تک محدود کر دیا ہے۔ ہم بچوں سے صبر، مطالعے اور غور و فکر کی توقع رکھتے ہیں، لیکن ان کے سامنے ایسا ماحول رکھتے ہیں جہاں ہر خواہش فوری پوری کرنے اور ہر خالی لمحے کو تفریح سے بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نئی نسل معمولی ناکامی پر پریشان کیوں ہو جاتی ہے، طویل مطالعے سے کیوں گھبراتی ہے اور مشکل کام کے لیے مستقل مزاجی کیوں پیدا نہیں کر پاتی۔ بچوں کی عادتوں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے طرزِ زندگی کا احتساب کرنا بھی ضروری ہے۔
سوشل میڈیا نے ہماری خوشی کو بھی ایک عجیب مقابلے میں بدل دیا ہے۔ کسی کی نئی گاڑی، بیرونِ ملک سفر، خوب صورت گھر، مہنگے کپڑے یا کامیابی کی خبر سامنے آتی ہے تو اپنی زندگی اچانک معمولی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ دوسروں کی دکھائی جانے والی زندگی مکمل زندگی نہیں ہوتی۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں، ناکامیوں اور کمزوریوں کو دنیا کے سامنے نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود ہم اپنی حقیقی زندگی کا مقابلہ دوسروں کے چنے ہوئے خوش نما مناظر سے کرتے ہیں۔ ایک عام ملازم اپنی تنخواہ کو کسی کی دولت سے تولتا ہے، ایک نوجوان اپنے مستقبل کو دوسروں کی کامیابی سے ناپتا ہے اور ایک گھریلو خاتون اپنی محنت کو ان تصویروں کے سامنے کم تر سمجھنے لگتی ہے جن میں زندگی ہمیشہ ترتیب سے سجی دکھائی دیتی ہے۔ یوں وہ چیزیں بھی بے قدر ہونے لگتی ہیں جو حقیقت میں ہماری زندگی کا سہارا ہوتی ہیں۔اس موازنے کو بڑھانے میں صرف صارف کی عادت ذمہ دار نہیں، وہ کاروباری نظام بھی اہم ہے جو ہماری توجہ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اشتہارات، مقبولیت کے پیمانے، پسندیدگیوں کی تعداد اور دوسروں کے ردعمل کو بار بار سامنے لانے کا مقصد اکثر ہماری دلچسپی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ جب انسان کی پسند، خواہش اور کمزوری کو کاروباری فائدے کے لیے استعمال کیا جائے تو اپنی عادتوں پر قابو رکھنا صرف انفرادی قوتِ ارادی کا مسئلہ نہیں رہتا۔ پلیٹ فارم بنانے والوں، پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں اور خاندانوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ، شفاف اور انسانی ضروریات کے مطابق بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔ صارف کو مکمل قصوروار قرار دے دینا اتنا ہی نامکمل رویہ ہے جتنا ہر نقصان کا الزام ٹیکنالوجی پر ڈال دینا۔
اسکرولنگ کا ایک اور پہلو ہماری اجتماعی حساسیت سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم روزانہ جنگ، بھوک، غربت، حادثات، ظلم اور انسانی المیوں کی خبریں دیکھتے ہیں۔ کسی بچے کی موت یا کسی مظلوم کی فریاد ہماری آنکھوں کے سامنے آتی ہے، لیکن چند لمحوں بعد ہم کسی مزاحیہ ویڈیو یا مشہور شخصیت کی سرگرمی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہر انسان کا اگلی پوسٹ کی طرف بڑھ جانا بے حسی کی علامت نہیں، لیکن جب دکھ مسلسل مواد کی شکل میں سامنے آئے اور اس پر غور یا عملی ردعمل کی جگہ نہ بچے تو دوسروں کی تکلیف سے ہمارا تعلق سطحی ہو سکتا ہے۔ ہم واقعات سے واقف تو ہو جاتے ہیں، مگر ان کے اسباب، نتائج اور اپنی ذمہ داری پر کم غور کرتے ہیں۔ کسی مظلوم کے لیے افسوس کا اظہار کرنا آسان ہے، لیکن اپنے رویے، خرچ، ترجیحات یا اجتماعی نظام میں ایسی تبدیلی لانا مشکل ہے جو کسی کے لیے حقیقی فائدے کا باعث بنے۔یہی کیفیت ہمارے سیاسی اور سماجی رویوں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہم اکثر اپنی پسند کے مطابق مواد دیکھتے ہیں اور پھر اسی مواد کو اپنی رائے کی سچائی کا ثبوت سمجھنے لگتے ہیں۔ اختلاف کرنے والے کو سمجھنے کے بجائے اسے برا بھلا کہنا آسان معلوم ہوتا ہے۔ اس ماحول میں مکالمہ کمزور اور شور طاقتور ہو جاتا ہے۔ ایک باشعور معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے ہر فرد کی رائے ایک جیسی ہو، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود لوگ دلیل سن سکیں، غلطی تسلیم کر سکیں اور کسی بات کو صرف اس لیے درست نہ مانیں کہ وہ ان کے جذبات کو خوش کرتی ہے۔
انسانی رشتوں پر اس کے اثرات بھی خاموش مگر گہرے ہیں۔ ایک ہی گھر میں بیٹھے افراد ایک دوسرے سے زیادہ اپنی اسکرینوں کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ والدین بچوں کی روزمرہ باتیں پوری توجہ سے نہیں سنتے، دوست ملاقات کے دوران بھی پیغامات دیکھتے رہتے ہیں اور میاں بیوی بعض اوقات ایک دوسرے کی خاموشی کو سمجھنے کے بجائے الگ الگ ڈیجیٹل دنیا میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ تعلقات صرف ایک جگہ موجود رہنے سے مضبوط نہیں ہوتے۔ انہیں وقت، توجہ، برداشت اور بے تکلف گفتگو چاہیے۔ جب ہر خاموشی کو موبائل سے بھر دیا جائے تو انسان اپنے اندر کی بات بھی نہیں سن پاتا اور دوسروں کے دل میں چھپی پریشانی بھی اس کی نظر سے اوجھل رہتی ہے۔ یوں رابطوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود قربت کم ہو سکتی ہے۔اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے کسی بڑے انقلاب یا ٹیکنالوجی سے مکمل دشمنی کی ضرورت نہیں۔ ضرورت ان چھوٹے فیصلوں کی ہے جن سے انسان اپنی زندگی پر دوبارہ اختیار حاصل کر سکے۔ صبح بیدار ہوتے ہی فون دیکھنے کے بجائے اپنے دن کی منصوبہ بندی کرنا، کھانے کے دوران موبائل ایک طرف رکھنا، غیر ضروری اطلاعات بند کرنا، سونے سے پہلے اسکرین سے فاصلہ رکھنا اور روزانہ کچھ وقت کتاب، مطالعے، چہل قدمی یا اہلِ خانہ کے لیے مخصوص کرنا عملی آغاز ہو سکتا ہے۔ والدین بچوں کے لیے صرف پابندیاں مقرر نہ کریں بلکہ خود بھی ان اصولوں پر عمل کریں۔ تعلیمی ادارے ڈیجیٹل شعور کو تعلیم کا حصہ بنائیں اور صارفین معلومات آگے بڑھانے سے پہلے ان کی سچائی جانچنے کی عادت اپنائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر شخص کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر مقبول چیز مفید نہیں اور ہر فوری دلچسپی اس کے وقت کی حق دار نہیں ہوتی۔
موبائل سے غیر ضروری وابستگی بعض اوقات تنہائی، بے روزگاری، ذہنی دباؤ یا زندگی میں مقصد کی کمی سے بچنے کا راستہ بن جاتی ہے۔ جب حقیقی زندگی میں مواقع محدود ہوں، گفتگو کے لیے کوئی میسر نہ ہو یا روزمرہ مسائل ناقابلِ برداشت محسوس ہوں تو مجازی دنیا عارضی پناہ فراہم کرتی ہے۔ اس لیے صرف نصیحت کرنا کافی نہیں۔ نوجوانوں کے لیے کھیل، مطالعے، ہنر سیکھنے، روزگار اور صحت مند سماجی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ خاندانوں میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں لوگ اپنی پریشانیاں بیان کر سکیں، ان کا مذاق نہ اڑایا جائے اور مدد مانگنے کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انسان کو صرف اسکرین سے دور کرنا کافی نہیں، اسے زندگی سے جڑنے کے بہتر مواقع بھی دینے ہوں گے۔آخرکار ہمیں طے کرنا ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک مفید ذریعہ رہے گی یا ہماری توجہ، خواہشات اور تعلقات کی سمت بھی وہی طے کرے گی۔ تبدیلی کا آغاز کسی قانون، مہم یا دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنی روزمرہ عادتوں کے جائزے سے ہوتا ہے۔ آج اگر ہم چند لمحوں کے لیے فون ایک طرف رکھ کر اپنے بچوں کی بات سن لیں، کسی بزرگ کے پاس بیٹھ جائیں، کسی کتاب کے چند صفحات پڑھ لیں یا کسی پریشان حال انسان کی مدد کر دیں تو شاید ہمیں احساس ہو کہ حقیقی زندگی اب بھی ہمارے قریب موجود ہے۔ لیکن اگر ہم ہر خالی لمحے سے گھبرا کر اسکرین میں پناہ لیتے رہے تو ممکن ہے ایک دن ہمارے پاس دکھانے کے لیے بہت سی یادیں ہوں، مگر یاد کرنے کے لیے ایسے تجربات کم رہ جائیں جنہیں ہم نے پوری توجہ سے جیا ہو۔ ہمیں یہ فیصلہ آج کرنا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مالک بننا چاہتے ہیں یا اپنی توجہ کے اس کاروبار میں صرف ایک اور صارف بن کر رہ جانا چاہتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button