
آنکھیں خواب دیکھتی ہیں……ناصف اعوان
ان کی سوچ میں وہ تبدیلی واقع نہیں ہو رہی جو مجموعی طور سے عوامی مفاد میں ہو ۔ وہ ابھی تک روایتی طرز حکمرانی کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں
اناسی برس گزرنے کے بعد بھی ہمارا سیاسی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوا وہی لوگ اقتدار میں آتے ہیں جو شروع دن سے ہیں ان کی خواہش ہے کہ لوگ ان پڑھ غریب اور پسماندہ رہیں تاکہ وہ اقتدار کے حصول میں دلچسپی نہ لیں۔ یہ کہ وہ مسائل کی دلدل میں دھنسے رہیں ان کی اسی سوچ نے آج ملک کو آگے نہیں جانے دیا معیشت کو مستحکم نہیں ہونے دیا اور قرضوں کے جال میں الجھا دیا۔ اس وقت پیدا ہونے والا ہر ایک بچہ قریباً ساڑھے تین لاکھ کا مقروض ہے۔ اس قرض کو ادا کرنے کے لئے مزید قرض لیا جا رہا ہے علاوہ اذیں ٹیکس وصولی میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی تلخ سے تلخ تر ہو چکی ہے جس سے عوام حکمرانوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں ان میں بیداری کی لہر ابھرتی ہوئی صاف نظر آرہی ہے لیکن حکمران اس کو اہمیت نہیں دے رہے ان کی سوچ میں وہ تبدیلی واقع نہیں ہو رہی جو مجموعی طور سے عوامی مفاد میں ہو ۔ وہ ابھی تک روایتی طرز حکمرانی کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔جبکہ جاگ گئے ذہنوں کا مطالبہ ہے کہ ان کو شریک اقتدار کیا جائے ان کے دیرینہ مسائل کو نئے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔ اظہار رائے کی آزادی سے لے کر تعلیم وصحت تک کی سہولتیں مفت فراہم کی جائیں کیونکہ ریاست کی یہ زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں دینے سے متعلق سوچے اور اس پر عمل کرے مگر حکمران طبقات کی خواہش بھی ہے اور کوشش بھی کہ یہ منظر اسی طرح رہے اور وہ حکمرانی سے لطف اندوز ہوتے رہیں مگر اب یہ ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہو نے جا رہا ہے کیونکہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ ابھی تک ایک ہی طبقہ ان پر حکم چلاتا آرہا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے کہ اگر عوام اپنی قیادت خود کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے اس حوالے سے آوازیں اٹھنےبھی لگی ہیں مگر ابھی وہ اہل اقتدار کی توجہ حاصل نہیں کر پا رہیں کیونکہ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ ان کا جاہ وجلال اور اختیارات عام لوگوں کے ہاتھ میں چلے جائیں مگر یورپ و مغرب میں صورت حال مختلف ہے وہاں کے لوگوں نے طویل جدو جہد کے بعد نظام کہنہ کو تبدیل اور اداروں کو مستحکم کیا ہے لہذا جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے مفادات پر زد پڑ رہی ہے تو وہ کسی لیڈر شپ کے بغیر احتجاج کی راہ پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور حکمران پیچھے ہٹنے پرمجبور ہوتے ہیں۔
ہمارے پڑوس میں حالیہ بیداری نے دنیا بھر کے دانشوروں کو حیران کر دیا ہے کہ بھارتی طلباء میں نصابی سرگرمیاں اور معلومات ہی در نہیں آئیں وہ سیاسی و علمی معلومات سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک سوچ اور نظریہ کے تحت احتجاج کیا اور اپنی بات منوائی انہیں کاکروچ کہنے والا عوام بیزار عنصر حیران رہ گیا کہ پورے بھارت میں طلباء نے کاکروچ بن کر دکھا دیا جس نے ان کی نیندیں حرام کر دیں اگرچہ ریاستی تشدد بھی ہوا مگر طلباء نے سرینڈر کرنے سے انکار کر دیا اس احتجاج میں شعور کی ایک جھلک یہ بھی دکھائی دی کہ تمام طلباء ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نظر آئے اور ایک دوسرے کے دکھ محسوس کرتے ہوئے دامے درمے سخنے مدد کرتے رہے۔ یہ بھی وہاں کے حکمرانوں کو وارے میں نہیں کیونکہ وہ اب تک لوگوں کو آپس میں لڑواتے چلے آئے ہیں مگر نئی نسل کو اس بات کی سمجھ آگئی ہے لہذا وہ ان کی عیاریوں کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پسماندہ ملکوں کے عوام میں بھی آگہی آرہی ہے اور ان کو حقیر جاننے اور بیوقوف بنانے والوں کو مان لینا چاہیے کہ وہ ارتقائی عمل کو نہیں روک سکتے ۔ دانائی تو یہ ہے کہ اس کے مطابق وہ خود کو ڈھالنے کی کوشش کریں اور لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ریاستی وسائل پر اب تک وہی قابض رہے ہیں لہذا انہوں نے آنے والی سات نسلوں کے لئے بھی دولت جمع کر لی ہے مگر عام لوگ زندگی کے لازمی لوازمات کےلئے بھی ترس رہے ہیں۔
وطن عزیز کے اہل اختیار و اقتدار شاید دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے بے خبر ہیں وہ پہلے سے بھی زیادہ خود کو مضبوط بنانے کی تگ و دو میں ہیں اس کے لئے انہوں نے ہتھ ہولا نہیں بھاری کر دیا ہے کہ کوئی بھی اپنے بنیادی حقوق کی بات کرے گا تو وہ اس پر ایسا پڑے گا کہ اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔ برسوں سے یہی کچھ ہو رہا ہے لہذا ایک رد عمل کا آغاز ہو چکا ہے اس پر قابو پانے کی ہر طرح کی حکمت عملیاں اپنائی گئی ہیں مگر ناکام ہوئی ہیں۔ مثال کے طور سے پی ٹی آئی کو سہمانے کے لئے ہر طریقہ آزمایا گیا ہے مگر وہ اتنا ہی ابھر کر سامنے آجاتی ہے اس کے کارکنان دبک بھی سکتے ہیں اگر ان کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولے جاتے ہیں۔ انہیں تو اس وقت ٹیکسوں نے بد حال کر دیا ہے مہنگائی بے روزگاری سے وہ پریشان ہیں۔ تیل کی قیمتوں سے ان کی سانسیں اکھڑی جا رہی ہیں بجلی اور گیس کے بلوں نے ان کی گھریلو استعمال کی چیزوں کو فروخت کروانا شروع کردیا ہے لہذا وہ کہتے ہیں کہ وہ کیسے موجودہ حکومت کے گُن گائیں؟
یہاں ہم یہ بھی بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ امریکا جو سٹیٹس کو کا بہت بڑا حمایتی ہے اپنے ملک میں تو شعوری عمل کو نہیں روکتا مگر کمزور ملکوں میں ایسا نہیں چاہتا کہ وہ اس کے آشیر بادی حکمرانوں کو ہی تسلیم کریں اور موجود فرسودہ نظام کو ہی بر قرار رکھیں۔ اگر ان میں عوامی تبدیلی آتی ہے تو اس پر چڑھائی کر دیتا ہے جیسا کہ ایران میں رجیم چینج کرکے اپنی طرز کا نظام وحکومت چاہتا ہے مگر وہ اس میں ناکام رہا ہے اس نے اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی بھی استعمال کر ڈالی جو کارگر ثابت نہیں ہو سکی کیونکہ عوام نے امریکی چالوں کو سمجھ لیا ہے وگرنہ ان میں شعور پیدا نہیں ہوتا تو وہ فوراً موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے مگر نہیں انہوں نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا تباہی و بربادی بھی کروا لی مگر اس کے آگے جھکے نہیں لہذا بہتر یہی ہے کہ جب اجتماعی سوچ تبدیل ہو جائے تو اس کے آگے رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔
بہرکیف بہتر یہی ہے کہ بدلتے حالات سے رخ نہ موڑا جائے انہیں سمجھا جائے ان کا مقابلہ ہمدردی اور ایثار کے ساتھ کیا جائے مگر عام آدمی کی کون سنتا ہے اگر سن لی جائے تو کبھی بھی اضطراب و نفرت جنم نہ لیں اور کسی کے لئے بھی پریشانی کا سبب نہ بنیں مگر مجال ہے کہ عوام کی بات کو اہم سمجھا جائے ان کی خواہشوں کو پیش نظر رکھا جائے جن کا خیال رکھنا ہوتا ہے وہ‘ وہ ہوتے جو اقتدار کی راہیں ہموار کرتے ہیں اور ان کو محفوظ بناتے ہیں مگر یہ سلسلہ اب ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے کیونکہ جہاں کہیں بھی استحصال ہو رہا ہے وہاں کے لوگ اس کے حصار کو توڑ رہے ہیں وہ خوف کی دہلیز کو پار کرنے لگے ہیں اِسے ہی ارتقاء کہتے ہیں جو کبھی بھی ایک شکل میں قائم نہیں رہتا دوسری میں تبدیل ہو جاتا ہے اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے لہذا اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے کیونکہ تاریخ ہمیشہ اصلاح کرتی ہے جو اسے نظر انداز کرتے ہیں وہ سکون و راحت سے محروم ہو جاتے ہیں۔


