
پنجاب میں انسدادِ انتہا پسندی کے لیے 50 کروڑ روپے کی سیڈ منی منظور، نوجوانوں کے جدید منصوبوں کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ
پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 میں 51 جامعات کے 154 تخلیقی منصوبے پیش، ڈی این اے ٹیسٹنگ، کینسر کی تشخیص اور بچوں کو موبائل پر نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے کے منصوبے نمایاں قرار
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب میں سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے بورڈ آف گورنرز کے پانچویں اجلاس میں ادارے کے لیے فنڈ قائم کرنے اور 500 ملین روپے، یعنی 50 کروڑ روپے کی سیڈ منی کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سماجی مسائل کا حل تلاش کرنے، معاشرے میں امن و برداشت کا پیغام عام کرنے اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر اور چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اس موقع پر پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس کے مطابق صوبے بھر کی 51 جامعات نے مجموعی طور پر 154 جدید اور تخلیقی منصوبے مقابلے میں پیش کیے۔ ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی نے شفاف جانچ پڑتال کے بعد 50 بہترین منصوبوں کو شارٹ لسٹ کیا، جبکہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ نے بورڈ آف گورنرز کے سامنے اپنے منصوبے پیش کیے۔
اجلاس میں نوجوانوں کے لیے امن، رواداری اور برداشت پر مبنی آگاہی سرگرمیوں کے انعقاد، تعلیمی اداروں میں مثبت مکالمے کے فروغ اور باصلاحیت طلبہ کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
سینٹر آف ایکسیلینس کے لیے 50 کروڑ روپے کی سیڈ منی منظور
بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے لیے فنڈ کے قیام اور 500 ملین روپے کی سیڈ منی کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد ادارے کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے، انتہا پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کی معاونت اور معاشرے میں امن و رواداری کے فروغ سے متعلق منصوبوں کو تقویت دینا ہے۔
اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے چوتھے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی، جبکہ متعلقہ حکام نے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ شرکاء نے ادارے کی جاری سرگرمیوں، مستقبل کے لائحہ عمل اور نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں سے منسلک کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ انسدادِ انتہا پسندی کی کوششوں کو محض انتظامی اقدامات تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، تحقیق، نفسیاتی معاونت، تخلیقی سرگرمیوں اور سماجی شعور کی بیداری کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جائے تاکہ نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 کی رپورٹ پیش
اجلاس کا ایک اہم ایجنڈا سینٹر آف ایکسیلینس کے زیرِ اہتمام منعقدہ پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔ بورڈ کو بتایا گیا کہ اس مقابلے میں صوبے بھر کی 51 جامعات سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے 154 جدید اور تخلیقی منصوبے پیش کیے۔
مقابلے میں نوجوانوں نے صحت، سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور معاشرتی مسائل کے حل سے متعلق مختلف نوعیت کے منصوبے پیش کیے۔ ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی نے منصوبوں کی جانچ پڑتال کے لیے شفاف طریقہ کار اختیار کیا، جس کے بعد 50 بہترین منصوبوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔
شارٹ لسٹ کیے گئے طلبہ کو اپنے منصوبوں کی افادیت، عملی امکانات اور معاشرے کے لیے ان کی اہمیت واضح کرنے کا موقع دیا گیا۔ مقابلے میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ نے بورڈ آف گورنرز کے سامنے اپنے منصوبے پیش کیے، جنہیں نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور مسائل کے جدید حل تلاش کرنے کی کوششوں کی نمایاں مثالوں کے طور پر سامنے لایا گیا۔
اجلاس میں اس امر کو اہم قرار دیا گیا کہ جامعات کے طلبہ کو تحقیق اور اختراع کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کے خیالات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے اور معاشرے کو درپیش مسائل کے حل میں استعمال کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
ڈی این اے ٹیسٹ کی لاگت کم کرنے کا منصوبہ پہلی پوزیشن لے گیا
پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کی طالبات نے ڈی این اے ٹیسٹ کی لاگت کم کرنے اور اس کے معیار کو بہتر بنانے سے متعلق منصوبے پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
یہ منصوبہ سائنسی جانچ کے عمل کو زیادہ مؤثر اور کم خرچ بنانے کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹنگ کا استعمال طبی تحقیق، تشخیص اور فرانزک سائنس سمیت مختلف شعبوں میں کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے منصوبوں سے ٹیسٹنگ کے اخراجات میں کمی اور معیار میں بہتری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کی کاوش کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا گیا کہ مقابلے میں اول آنے والی ٹیم کو 10 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ اس کامیابی کو نوجوان خواتین کی سائنسی تحقیق اور اختراعی صلاحیتوں کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا گیا۔
کینسر کی تشخیص اور علاج کی لاگت کم کرنے کا منصوبہ دوسرے نمبر پر
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات نے کینسر کی تشخیص اور علاج کے اخراجات کم کرنے سے متعلق منصوبہ پیش کرکے مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔
کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج کے اخراجات میں کمی صحت کے شعبے کے اہم چیلنجز میں شامل ہیں۔ اس تناظر میں طالبات کے منصوبے کو ایسے مسئلے کے حل کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے جس کا تعلق مریضوں اور ان کے خاندانوں کو درپیش مالی مشکلات سے ہے۔
مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو ساڑھے سات لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے نوجوانوں کو طبی تحقیق اور صحت عامہ کے مسائل کے لیے قابلِ عمل اور جدید حل پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
بچوں کو موبائل پر نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبہ
سپیریئر یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایسے ماڈل کا منصوبہ پیش کیا جو بچوں کے موبائل فون پر قابلِ اعتراض مواد کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکے۔ اس منصوبے نے مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بچوں کی آن لائن حفاظت والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے لیے ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے نظاموں کا مقصد بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کو زیادہ محفوظ بنانے اور نامناسب مواد تک رسائی محدود کرنے کے امکانات پیدا کرنا ہے۔
مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو پانچ لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کو سماجی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو متعلقہ سرکاری اداروں سے منسلک کیا جائے گا
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس میں بتایا کہ مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی، محکمہ صحت اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد طلبہ کو اپنے منصوبوں پر مزید کام کرنے، متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنے تخلیقی خیالات کو عملی شکل دینے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
سرکاری اداروں کے ساتھ رابطے سے طلبہ کو سائنسی تحقیق، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنے منصوبوں کی افادیت جانچنے اور ان کی عملی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح جامعات میں سامنے آنے والے جدید خیالات کو حقیقی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اس امید کا اظہار کیا کہ باصلاحیت نوجوان



