
ترکمانستان میں بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ کا انعقاد، حنا پرویز بٹ کا خواتین کے تحفظ، قیامِ امن اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی تعاون پر زور
خواتین کو محفوظ بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، خواتین صرف امن سے فائدہ اٹھانے والی نہیں بلکہ امن کی معمار بھی ہیں، چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا خطاب
سید کاشف ندیم ارحم-پاکستان
ترکمانستان میں خواتین کے کردار، قیامِ امن اور پائیدار ترقی کے موضوع پر بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے شرکت کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ، بااختیار بنانے، فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی اور عالمی سطح پر مشترکہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین کو محفوظ بنائے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ خواتین نہ صرف امن کے ثمرات سے مستفید ہوتی ہیں بلکہ تنازعات کے حل، سماجی ہم آہنگی اور پُرامن معاشروں کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں قیامِ امن، پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر نمائندگی فراہم کی جائے۔
حنا پرویز بٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں خواتین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں خواتین کے لیے ایک مربوط حفاظتی نظام فعال ہے، جس کے تحت تشدد اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنے والی خواتین کو قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد، مضبوط اداروں، عوامی آگاہی اور عالمی سطح پر تجربات کے تبادلے کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
خواتین قیامِ امن اور پائیدار ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں
بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر امن، سماجی استحکام اور پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول مشکل ہے۔ خواتین خاندان، معاشرے اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا اور انہیں عملی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو محض امن کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے والے طبقے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ انہیں امن کے قیام اور تنازعات کے حل میں فعال شراکت دار تسلیم کیا جانا چاہیے۔ خواتین اپنے تجربات، سماجی روابط اور مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت کے ذریعے معاشروں میں مکالمے، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دے سکتی ہیں۔

حنا پرویز بٹ کے مطابق خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی میں شرکت سے پالیسیوں کو زیادہ جامع بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر خواتین کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ اپنے خیالات پیش کر سکیں اور معاشرتی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خواتین کی شمولیت کو محض نمائشی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی پالیسیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کا مستقل حصہ بنایا جائے۔
پنجاب میں خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے اقدامات جاری ہیں
حنا پرویز بٹ نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو تشدد، ہراسانی اور دیگر مسائل سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اداروں کا وجود ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے قانونی تحفظ کے ساتھ ایسے معاونتی نظام کی ضرورت ہے جہاں متاثرہ خواتین اپنی شکایات درج کرا سکیں، رہنمائی حاصل کریں اور مشکل حالات سے نکلنے کے لیے ضروری مدد تک رسائی حاصل کر سکیں۔
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے مطابق خواتین کے تحفظ کے لیے قائم ویمن پروٹیکشن سینٹرز متاثرہ خواتین کو قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ایسے مراکز کا مقصد متاثرہ خواتین کو درپیش مشکلات کے ازالے میں مدد دینا اور انہیں محفوظ ماحول میں ضروری رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری، خدمات تک آسان رسائی اور عوامی سطح پر آگاہی میں اضافہ ضروری ہے، تاکہ خواتین اپنے حقوق سے واقف ہوں اور ضرورت پڑنے پر بروقت مدد حاصل کر سکیں۔
قوانین کے ساتھ مؤثر عمل درآمد اور عوامی آگاہی ناگزیر ہے
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، تاہم قوانین کے مثبت نتائج اسی وقت سامنے آ سکتے ہیں جب ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پولیس، عدالتی نظام، متعلقہ سرکاری اداروں اور معاونتی مراکز کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں خواتین کے حقوق، ان کے احترام اور ان کے تحفظ سے متعلق شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد اور امتیازی رویوں کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ خاندانوں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خواتین کے لیے ایسا ماحول تشکیل دیا جا سکے جہاں وہ بلاخوف اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کا تحفظ صرف ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی سماجی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل کے لیے قانون، اداروں اور عوامی شعور کو یکجا کرنا ہوگا۔
معاشی خودمختاری کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور
بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ میں حنا پرویز بٹ نے خواتین کی معاشی خودمختاری کو پائیدار ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر خودمختار خواتین اپنے خاندانوں کی فلاح و بہبود میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں اور قومی معیشت میں بھی اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ خواتین کو ملازمتوں، کاروبار اور پیشہ ورانہ ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے سے نہ صرف ان کی انفرادی صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے بلکہ مجموعی معاشی ترقی کے امکانات بھی بڑھتے ہیں۔
حنا پرویز بٹ کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو انہیں تعلیم کے حصول، جدید ہنر سیکھنے اور روزگار کی منڈی میں اپنی جگہ بنانے میں مدد دیں۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کے لیے معاشی مواقع بڑھانے کے ساتھ ان کے لیے محفوظ اور باوقار کام کے ماحول کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے، تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ عملی زندگی میں حصہ لے سکیں۔
ڈیجیٹل دور میں خواتین کی آن لائن حفاظت اور رازداری اہم ترجیح
حنا پرویز بٹ نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں خواتین کی آن لائن حفاظت اور نجی معلومات کی رازداری یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے خواتین کے لیے تعلیم، روزگار، کاروبار اور اظہارِ خیال کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کے دوران ہراسانی، ذاتی معلومات کے غلط استعمال اور رازداری سے متعلق مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔
ان کے مطابق خواتین کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے مؤثر قانونی اقدامات، متعلقہ اداروں کی استعداد میں اضافہ اور عوامی آگاہی ضروری ہے۔ خواتین کو یہ معلومات فراہم کرنا بھی اہم ہے کہ آن لائن ہراسانی یا کسی دوسرے مسئلے کی صورت میں وہ کہاں شکایت درج کرا سکتی ہیں اور اپنے حقوق کا تحفظ کیسے کر سکتی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ترقی کے فوائد سے خواتین کو بھرپور استفادہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے، جبکہ ان کی سلامتی، عزت اور نجی زندگی کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔
خواتین کی فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت وقت کی اہم ضرورت
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے کہا کہ خواتین کی فیصلہ سازی میں شرکت اور قیامِ امن میں ان کے کردار کو مضبوط بنانا عالمی برادری کی اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو پالیسی سازی، انتظامی امور اور سماجی ترقی کے منصوبوں میں مناسب نمائندگی فراہم کرنے سے ایسے فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوں۔
حنا پرویز بٹ کے مطابق خواتین کو قیادت کے مواقع فراہم کرنا صرف مساوی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔ خواتین کے تجربات اور نقطۂ نظر کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے سے مسائل کی بہتر نشاندہی اور ان کے مؤثر حل تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے عالمی شرکاء پر زور دیا کہ خواتین کی قیادت کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ان کی نمائندگی کو عملی نتائج سے منسلک کیا جائے۔
عالمی تجربات سے استفادہ اور مشترکہ تعاون کی ضرورت
حنا پرویز بٹ نے خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے عالمی تجربات سے استفادہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کو خواتین کے حقوق کے تحفظ، تشدد کی روک تھام، معاشی خودمختاری اور قیامِ امن کے شعبوں میں اپنے تجربات اور بہترین عملی طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو درپیش بہت سے مسائل سرحدوں سے ماورا ہیں، اس لیے ان کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون اور ادارہ جاتی رابطہ کاری اہمیت رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق مشترکہ عالمی عزم کو عملی تعاون، مضبوط اداروں اور مؤثر پالیسیوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ عالمی سطح پر تعاون کے ذریعے خواتین کے تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے، متعلقہ اداروں کی استعداد بڑھانے اور خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور مساوی مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ جیسے فورمز مختلف ممالک کو اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے، مشترکہ چیلنجز پر غور کرنے اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے قابلِ عمل حکمت عملی وضع کرنے کا موقع فراہم کرتے رہیں گے۔
ترکمانستان کو 2028 کو عالمی قانون کا سال قرار دینے پر مبارکباد
اپنے خطاب میں حنا پرویز بٹ نے 2028 کو عالمی قانون کا سال قرار دینے کے اقدام پر ترکمانستان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو قانون کی اہمیت، بین الاقوامی تعاون اور عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ، ان کی سلامتی اور فیصلہ سازی میں ان کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے قانونی اصولوں اور مؤثر ادارہ جاتی اقدامات کی بنیادی اہمیت ہے۔
حنا پرویز بٹ نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی سطح پر خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے کیے جانے والے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے تاکہ خواتین کو محفوظ ماحول، معاشی مواقع اور سماجی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔
خواتین کے محفوظ مستقبل کے لیے مشترکہ عزم ضروری
بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ میں حنا پرویز بٹ کے خطاب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ خواتین کا تحفظ، معاشی خودمختاری، ڈیجیٹل سلامتی اور قیامِ امن میں مؤثر شرکت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم معاملات ہیں۔ ان شعبوں میں پیش رفت کے لیے حکومتوں، متعلقہ اداروں، تعلیمی مراکز اور سول سوسائٹی کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خواتین کو محفوظ اور بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ قانونی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے، خواتین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں اور انہیں معاشرے کے ہر اہم شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا جائے۔
حنا پرویز بٹ کے مطابق ایک پُرامن، منصفانہ اور خوشحال معاشرے کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو ترقی کے عمل میں برابر کا شریک بنایا جائے اور ان کے حقوق، سلامتی اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے عالمی عزم کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔



