انٹرٹینمینٹتازہ ترین

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026 کے سلسلے میں آرٹ نمائش کا انعقاد، طلبہ کا رنگوں کے ذریعے جذبات کا تخلیقی اظہار

’’تھراپیوٹک آرٹ: کلرز اِن موشن‘‘ میں طلبہ کے تجریدی فن پاروں کی نمائش، 88 شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم، تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے ذہنی صحت کے فروغ اور جذباتی اظہار کی اہمیت اجاگر

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026 کے موقع پر ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی، تخلیقی اظہار اور فنونِ لطیفہ کی افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے آرٹ نمائش ’’تھراپیوٹک آرٹ: کلرز اِن موشن‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ نمائش کا افتتاح یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری نے کیا۔ اس موقع پر طلبہ کے تجریدی فن پارے پیش کیے گئے، جن میں رنگوں، حرکات اور مختلف اشاروں کے ذریعے انسانی جذبات اور احساسات کے غیر لفظی اظہار کو نمایاں کیا گیا۔

تقریب میں یونیورسٹی کے ڈائریکٹرز، معزز شرکاء، نمائش کی منتظم ڈاکٹر ثمینہ ضیاء شیخ اور پرنسپل لوئر مال کیمپس پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر سلیم سمیت دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں کا مشاہدہ کیا اور طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔

نمائش کا بنیادی مقصد فنونِ لطیفہ کے ذریعے ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، طلبہ کو اپنے جذبات کے اظہار کے لیے مثبت اور تعمیری مواقع فراہم کرنا اور تعلیمی اداروں میں ذہنی و جذباتی فلاح و بہبود کے حوالے سے شعور پیدا کرنا تھا۔

’’تھراپیوٹک آرٹ: کلرز اِن موشن‘‘ — رنگوں میں جذبات کی عکاسی

ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026 کے سلسلے میں منعقدہ اس نمائش میں طلبہ کے تجریدی فن پاروں کو خصوصی طور پر پیش کیا گیا۔ ’’تھراپیوٹک آرٹ: کلرز اِن موشن‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس سرگرمی میں ایکشن پینٹنگ اور مشاہداتی رنگوں کے استعمال کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔

طلبہ نے مختلف رنگوں، حرکات، خطوط اور اشاروں کے ذریعے اپنے جذبات اور احساسات کو کینوس پر منتقل کیا۔ ان فن پاروں میں تخلیقی آزادی اور غیر لفظی اظہار کے مختلف پہلو سامنے آئے، جہاں رنگوں اور فنکارانہ حرکات کے ذریعے ان کی سوچ اور انفرادی تجربات کی ترجمانی کی گئی۔

تجریدی فن میں روایتی شکلوں اور واضح مناظر کے بجائے رنگوں، خطوط، ساخت اور حرکات کے ذریعے خیالات و احساسات کی عکاسی کی جاتی ہے۔ اس نمائش نے طلبہ کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کرنے اور آرٹ کے ذریعے اپنے جذبات کے اظہار کا موقع فراہم کیا۔

تقریب میں اس امر کو نمایاں کیا گیا کہ فنونِ لطیفہ طلبہ کے لیے اپنی سوچ اور احساسات کو سمجھنے اور انہیں مثبت انداز میں بیان کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ایسے مواقع تعلیمی ماحول میں تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ اور ذہنی صحت سے متعلق گفتگو کو آگے بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

آرٹ نمائش کے ساتھ خصوصی تخلیقی سرگرمی کا انعقاد

نمائش کے ساتھ ’’ابسٹرکٹ کلر ایکسپریشن آرٹ ایکٹیویٹی‘‘ کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں طلبہ کے ساتھ مہمانوں کو بھی براہِ راست فنکارانہ عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا۔

اس سرگرمی کے دوران شرکاء نے رنگوں اور مختلف تجریدی انداز کو استعمال کرتے ہوئے اپنی کمپوزیشنز تخلیق کیں۔ اس طرح تقریب محض فن پاروں کی نمائش تک محدود نہیں رہی بلکہ شرکاء کو عملی طور پر تخلیقی سرگرمی کا حصہ بننے کا موقع بھی ملا۔

شرکاء کی براہِ راست شرکت نے فن کے مختلف طریقوں کو سمجھنے، رنگوں کے ذریعے اظہار کرنے اور اجتماعی تخلیقی تجربے سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ اس سرگرمی کا مقصد آرٹ کو ایک قابلِ رسائی اور مثبت سرگرمی کے طور پر متعارف کرانا اور طلبہ میں تخلیقی اعتماد کو فروغ دینا تھا۔

ایسی سرگرمیاں طلبہ کو روایتی تعلیمی سرگرمیوں سے ہٹ کر اپنی صلاحیتیں دریافت کرنے، نئے انداز میں سوچنے اور دوسروں کے ساتھ مل کر تخلیقی کام کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

ذہنی صحت کے فروغ میں فنونِ لطیفہ کی اہمیت اجاگر

ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کے موقع پر منعقد ہونے والی اس نمائش میں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس موقع پر فنونِ لطیفہ کو جذباتی اظہار اور ذہنی و جذباتی فلاح و بہبود کے فروغ کے ایک مثبت ذریعے کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

ذہنی صحت انسانی زندگی کا اہم پہلو ہے، جو تعلیم، روزمرہ معمولات، تعلقات اور مجموعی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ طلبہ کو درپیش تعلیمی دباؤ اور دیگر روزمرہ چیلنجز کے تناظر میں ایسی سرگرمیاں اہمیت رکھتی ہیں جو انہیں اپنے احساسات کے اظہار اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کریں۔

آرٹ پر مبنی سرگرمیوں کے ذریعے افراد رنگوں، اشکال اور تخلیقی عمل کی مدد سے ایسے احساسات بھی بیان کر سکتے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔ تاہم ایسی سرگرمیاں ذہنی صحت کی پیشہ ورانہ تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں، بلکہ مناسب حالات میں جذباتی فلاح و بہبود کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

یونیورسٹی میں منعقدہ اس تقریب نے ذہنی صحت سے متعلق مثبت مکالمے کو فروغ دینے اور تعلیمی اداروں میں ایسی سرگرمیوں کی اہمیت اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری نے نمائش کا افتتاح کیا

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری نے نمائش کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹرز، معزز شرکاء، نمائش کی منتظم ڈاکٹر ثمینہ ضیاء شیخ اور پرنسپل لوئر مال کیمپس پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر سلیم کے ہمراہ موجود تھے۔

افتتاح کے بعد وائس چانسلر اور دیگر شرکاء نے نمائش میں پیش کیے گئے طلبہ کے فن پاروں کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے رنگوں کے استعمال، تجریدی طرزِ اظہار اور طلبہ کی تخلیقی کاوشوں کا جائزہ لیا۔

تقریب میں یونیورسٹی کی جانب سے ذہنی صحت کے موضوع پر تخلیقی سرگرمیوں کے انعقاد کو اہمیت دی گئی۔ اس نوعیت کے پروگرام طلبہ کو اپنی صلاحیتیں سامنے لانے کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے بارے میں معاشرتی شعور بڑھانے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

88 طلبہ اور شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم

آرٹ نمائش اور اس سے منسلک تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے مجموعی طور پر 88 طلبہ اور شرکاء میں سرٹیفکیٹس آف پارٹیسپیشن تقسیم کیے گئے۔

سرٹیفکیٹس کی تقسیم کا مقصد سرگرمی میں حصہ لینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ان کی تخلیقی کاوشوں کو تسلیم کرنا تھا۔ اس موقع پر شرکاء کی شرکت اور فنکارانہ عمل میں دلچسپی کو اہمیت دی گئی۔

تعلیمی اداروں میں ایسی سرگرمیاں طلبہ کی غیر نصابی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے اور انہیں مختلف تخلیقی شعبوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ثمینہ ضیاء شیخ کی کاوشوں سے خصوصی نمائش کا اہتمام

نمائش کی منتظم ڈاکٹر ثمینہ ضیاء شیخ نے ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026 کے سلسلے میں اس پروگرام کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ تقریب میں طلبہ کے تجریدی فن پاروں کی نمائش اور شرکاء کی عملی شرکت پر مبنی آرٹ سرگرمی کو یکجا کیا گیا۔

اس پروگرام کے ذریعے طلبہ کو اپنے فن پارے پیش کرنے، تخلیقی عمل میں حصہ لینے اور ذہنی صحت کے موضوع کو فنونِ لطیفہ کے تناظر میں سمجھنے کا موقع ملا۔

تقریب میں شریک یونیورسٹی کے عہدیداران اور دیگر مہمانوں نے نمائش کا مشاہدہ کیا، جبکہ سرگرمی میں حصہ لینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت سے متعلق سرگرمیوں کی ضرورت

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں منعقدہ یہ نمائش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لیے تخلیقی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دی جا سکتی ہے۔ فنونِ لطیفہ، مکالمے اور اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور جذباتی تجربات پر مثبت انداز میں غور کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی، مناسب معاونت تک رسائی اور مثبت تعلیمی ماحول کی فراہمی طلبہ کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہیں۔ اس مقصد کے لیے آرٹ نمائشوں، مباحثوں اور دیگر تعمیری سرگرمیوں کا انعقاد طلبہ میں شعور اور تخلیقی اعتماد پیدا کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ’’تھراپیوٹک آرٹ: کلرز اِن موشن‘‘ کے عنوان سے منعقدہ نمائش میں طلبہ نے رنگوں، حرکات اور تجریدی کمپوزیشنز کے ذریعے اپنے فن کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر 88 شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جبکہ ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026 کے موقع پر ذہنی صحت کے فروغ اور تخلیقی اظہار کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button