اہم خبریںانٹرٹینمینٹ

پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کو بااختیار بنانے، میرٹ اور آئین کی حکمرانی سے وابستہ ہے، مقررین کا دی یونیورسٹی آف لاہور میں بین النسل ڈائیلاگ سے خطاب

قومی رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور سابق سول و فوجی افسران کی شرکت؛ نوجوانوں کے روزگار، تعلیم، سیاسی شمولیت، ٹیکنالوجی، خواتین کو مساوی مواقع، ادارہ جاتی اصلاحات اور قومی ترقی پر تفصیلی تبادلہ خیال

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور: دی یونیورسٹی آف لاہور کے سینٹر فار پالیسی اینڈ نیشن بلڈنگ کے زیر اہتمام قومی رہنماؤں، ماہرین تعلیم، سابق سول و فوجی افسران اور طلبہ نمائندوں کے مابین ایک اہم بین النسل (انٹر جنریشنل) پالیسی ڈائیلاگ منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے مستقبل، نوجوانوں کی امنگوں، تعلیم و روزگار، ٹیکنالوجی، آئین کی حکمرانی، سیاسی و سماجی شرکت اور قومی اداروں کی کارکردگی سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

’’تبدیلی کی راہ پر گامزن نسلیں: چیلنجز، امنگیں اور پاکستان کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس ڈائیلاگ کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کے خیالات، سوالات اور مستقبل سے وابستہ توقعات کو سینئر سیاسی رہنماؤں، دانش وروں اور تجربہ کار پیشہ ور شخصیات کے مشاہدات اور تجربات کے ساتھ یکجا کرنا تھا، تاکہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی، تعلیمی اور سماجی چیلنجز کے حل کے لیے بامعنی مکالمے اور قابل عمل تجاویز کو فروغ دیا جا سکے۔

تقریب کے دوران مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے نوجوانوں کی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی آبادی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد، بدلتی ہوئی عالمی معیشت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور روزگار کے نئے تقاضوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ پالیسی سازی میں نوجوانوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ مقررین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فکری فاصلے کو کم کرنے، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بہتر بنانے، میرٹ کو فروغ دینے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر پائیدار قومی ترقی کا حصول مشکل ہوگا۔

اویس رؤف کی زیر صدارت پالیسی ڈائیلاگ، نوجوانوں کے مستقبل پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور

پالیسی ڈائیلاگ کی صدارت اور نظامت دی یونیورسٹی آف لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اویس رؤف نے کی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان ایسے سوالات اٹھا رہے ہیں جو ماضی کی نسلوں کے لیے اس انداز میں موجود نہیں تھے، جبکہ وہ ایسی مہارتیں حاصل کر رہے ہیں جو روایتی تعلیمی نصاب سے آگے کی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔

اویس رؤف نے کہا کہ موجودہ نوجوان یونیورسٹی کی تعلیم کے ابتدائی مراحل ہی میں کاروباری سرگرمیوں اور انٹرپرینیورشپ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، نوجوان تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا، ٹیکنالوجی اور روزگار کے نئے مواقع کو اپنی گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں مختلف انداز سے سمجھتے ہیں۔ اس تبدیلی کو تسلیم کرنا اور نوجوانوں کے تجربات سے سیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مستقبل کے حوالے سے ایک نسبتاً واضح تصور موجود تھا، لیکن آج نوجوانوں کو روزگار، معاشی استحکام اور اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

اویس رؤف نے دی یونیورسٹی آف لاہور کے حالیہ کانووکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً پانچ ہزار طلبہ فارغ التحصیل ہوئے، جن میں سے دو ہزار پہلے ہی بیرون ملک جا چکے تھے۔ ان کے مطابق، نوجوانوں کی بیرون ملک منتقلی ایک ایسا رجحان بنتی جا رہی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملک میں مستقبل کے روشن امکانات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل سنے جائیں، ان کی صلاحیتوں کو سمجھا جائے اور انہیں یہ اعتماد دیا جائے کہ پاکستان میں بھی ترقی، روزگار اور کامیابی کے مواقع موجود ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور سینئر نسل کے درمیان مکالمہ محض خیالات کے تبادلے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی اقدامات، بہتر پالیسیوں اور نوجوانوں کے لیے زیادہ مؤثر مواقع کی فراہمی میں تبدیل ہونا چاہیے۔

شاہد خاقان عباسی: نوجوانوں کو سننے اور ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تقریب میں خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈائیلاگ میں شرکت کا مقصد نوجوانوں کو سننا اور ان سے سیکھنا ہے، کیونکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پرانی سوچ اور روایتی طریقہ کار پر انحصار کافی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سینئر نسل کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ وہ بعض معاملات میں پرانے طریقوں کے ذریعے ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے، جبکہ موجودہ نوجوانوں کی ضروریات، توقعات اور ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، دنیا کے متعدد ممالک نے انسانی ترقی کو ترجیح دے کر اپنی معاشی اور سماجی صورت حال میں بہتری پیدا کی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی ان شعبوں میں مؤثر سرمایہ کاری اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان حکومت کے ساتھ اپنے تعلق، اپنے حقوق اور ریاست سے اپنی توقعات کے بارے میں پہلے سے زیادہ آگاہ ہے۔ وہ سوال اٹھانا جانتا ہے اور اپنے مسائل کے جواب چاہتا ہے، اس لیے نوجوانوں کی آواز کو سننا اور ان کے سوالات کا سنجیدہ جواب دینا ضروری ہے۔

سابق وزیراعظم نے بھارت میں باصلاحیت افراد کی وطن واپسی کے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کون سے عوامل کسی ملک کو اپنے ہنرمند شہریوں کو واپس لانے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے قابل بناتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ معیشت کو مضبوط بنانا ضروری ہے، تاہم ان کے نزدیک آئین کی حکمرانی اور سیاسی استحکام کے بغیر پائیدار معاشی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے مستحکم سیاسی ماحول، قابل اعتماد ادارے اور قانون کی بالادستی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

سوال و جواب کی نشست کے دوران انہوں نے سیاسی قیادت کی کارکردگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کی کوشش کی۔ اس گفتگو میں سیاسی قیادت کی کامیابیوں، ناکامیوں اور عوامی توقعات کے درمیان موجود فاصلے پر بھی غور کیا گیا۔

ملک محمد احمد خان: قومی مسائل کی ذمہ داری تمام اداروں پر عائد ہوتی ہے

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کے متعدد پہلو ہیں اور ان کے حل کے لیے صرف ایک ادارے یا طبقے کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں اور سیاسی قیادت کی نیت اپنی جگہ، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال صرف سیاست دانوں کی ناکامی نہیں بلکہ اس میں عدلیہ، فوج، الیکشن کمیشن، بیوروکریسی اور یونیورسٹیوں سمیت مختلف قومی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

ملک محمد احمد خان نے قومی مسائل کی وضاحت کرتے ہوئے تین بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق، پہلی خرابی ملک کے لیے واضح سمت کا فقدان ہے، دوسری خرابی غلطیوں کی اصلاح کے لیے مطلوبہ کوششوں کی کمی ہے، جبکہ تیسرا اہم مسئلہ عوام کو آئین کے مطابق حکمرانی اور فیصلہ سازی میں وہ اختیار نہ ملنا ہے جس کا انہیں حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور ملک میں ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں عوام کی رائے، آئینی اصولوں اور جواب دہی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے نوجوانوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک نوجوانوں کو ترقی کے لیے مناسب مواقع، وسائل اور سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جائے گا، ان سے بڑے نتائج کی توقع رکھنا مشکل ہوگا۔

ان کے مطابق، نوجوانوں کو صرف مستقبل کی امید قرار دینا کافی نہیں بلکہ انہیں تعلیم، روزگار، سیاسی شرکت اور قومی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔

فواد حسن فواد: اقتدار کی منتقلی ہوتی رہی، عوام کو اختیار نہیں ملا

سابق وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے ڈائیلاگ میں پاکستان کے سیاسی اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ مسائل کو سمجھنے کے لیے تاریخ، سیاسی ارتقا اور اداروں کی تشکیل کے پس منظر کا مطالعہ ضروری ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ کی تاریخی تشکیل اور ارتقا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اسے ابتدا ہی سے ایک مکمل سیاسی جماعت کے طور پر تشکیل نہیں دیا گیا تھا، اور انہوں نے اسے ملک کے ابتدائی سیاسی مسائل میں سے ایک قرار دیا۔

فواد حسن فواد نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار ایک گروہ سے دوسرے گروہ کو منتقل ہوتا رہا، لیکن عوام کو حقیقی اختیار اور فیصلہ سازی میں مطلوبہ حصہ نہیں مل سکا۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال محض انتظامی خرابی نہیں بلکہ ایک وسیع ادارہ جاتی مسئلہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے نظام کی بنیادوں اور تاریخی عوامل کا جائزہ لینا ہوگا۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سطحی نعروں اور فوری ردعمل سے آگے بڑھیں، تاریخ کا مطالعہ کریں اور اپنے پاس موجود معلومات کا معروضی انداز میں تجزیہ کرنا سیکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ معلومات کی دستیابی بذات خود علم کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان مختلف معلومات کو سمجھنے، ان کا تقابل کرنے اور ان کی بنیاد پر درست نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔

فواد حسن فواد کے مطابق، قومی مسائل کا مؤثر حل تلاش کرنے کے لیے نوجوانوں کو تنقیدی سوچ، تاریخی شعور اور ادارہ جاتی معاملات کی گہری سمجھ پیدا کرنا ہوگی، تاکہ وہ پیچیدہ مسائل کو محض نعروں یا جذبات کی بنیاد پر دیکھنے کے بجائے ان کے بنیادی اسباب تک پہنچ سکیں۔

ڈاکٹر معید یوسف: میرٹ، شہری شعور اور شفافیت قومی ترقی کے بنیادی تقاضے

بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کے مسائل قومی ڈھانچے میں اس حد تک سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں تبدیل کرنے کے لیے محض رسمی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق، معاشرے میں تبدیلی کے لیے افراد کو خود بھی اپنی سوچ، رویوں اور طرزِ عمل میں اصلاح کرنا ہوگی۔

انہوں نے فرد اور معاشرے کی سطح پر چار بنیادی مسائل کی نشاندہی کی: میرٹ کا فقدان، شہری شعور کی کمی، قابل تقلید کرداروں کی قلت اور شارٹ کٹ اختیار کرنے کی ثقافت۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں ترقی کے لیے ضروری ہے کہ افراد کی صلاحیتوں اور کارکردگی کو اہمیت دی جائے، شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں، معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے والی شخصیات کو اہمیت دی جائے اور کامیابی کے لیے محنت اور مستقل مزاجی کو ترجیح دی جائے۔

انہوں نے بعض ممالک کی معاشی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک کی مجموعی قومی پیداوار میں بیس برس کے دوران 450 فیصد اضافہ ہوا، ان میں قیادت، سیاسی نظام کا تسلسل، شہریوں کی عزتِ نفس اور حکومتی شفافیت جیسے عوامل مشترک تھے۔

ان کے مطابق، قومی ترقی کے لیے صرف معاشی وسائل یا قدرتی ذخائر کافی نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسا نظام بھی ضروری ہے جو شہریوں کو عزت دے، میرٹ کی بنیاد پر مواقع فراہم کرے اور حکومتی فیصلوں میں شفافیت یقینی بنائے۔

ڈاکٹر معید یوسف نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذات اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے میرٹ، شہری ذمہ داری، محنت اور دیانت داری کو اہمیت دیں۔

فواد چوہدری: باصلاحیت افراد کی بیرون ملک منتقلی قومی چیلنج

سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ملک میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کی بیرون ملک منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کا وہ طبقہ جو نئی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کے ذریعے ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے، اگر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو تو اس سے قومی صلاحیتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کے مطابق، پاکستان کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں افراد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، تحقیق، کاروبار اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع میسر ہوں۔

فواد چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں فرد کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان کے نزدیک انسانی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا قومی ترقی اور مستقبل کی معیشت کے لیے اہم ہے۔

ڈائیلاگ میں اس موضوع کو نوجوانوں کے روزگار، تعلیم، ٹیکنالوجی اور بیرون ملک منتقل ہونے کے رجحان سے جوڑ کر دیکھا گیا۔ مقررین نے اس بات پر گفتگو کی کہ کس طرح نوجوانوں کو ملک میں ایسے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں جو انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے اور قومی ترقی میں حصہ لینے کا اعتماد دیں۔

ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی: نوجوانوں کو واضح سمت اور عملی اہداف درکار ہیں

ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی نے کہا کہ پاکستان میں اکثر مسائل کے بنیادی اسباب کو سمجھنے کے بجائے ان کے نتائج پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، جب تک مسائل کی جڑ تک پہنچ کر اصلاحی اقدامات نہیں کیے جائیں گے، دیرپا بہتری حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

انہوں نے نوجوانوں کی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نوجوانوں کو یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ آئندہ پانچ برس میں خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں یا اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیے انہیں کن مراحل سے گزرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواب اور آرزوئیں انسانی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان خوابوں کو عملی عزائم اور واضح اہداف میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کریں اور اپنی منزل کے حصول کے لیے مستقل محنت کریں۔ ان کے مطابق، ذاتی ترقی کے ساتھ قومی ترقی کے لیے بھی ایسے نوجوان درکار ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوں اور واضح مقاصد کے ساتھ آگے بڑھیں۔

ڈاکٹر سویرا مجیب شامی: نوجوان لڑکیوں کو تحفظ، اعتماد اور مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ڈیجیٹل میڈیا کی چیئرپرسن ڈاکٹر سویرا مجیب شامی نے صنفی امتیاز، باصلاحیت افراد کی بیرون ملک منتقلی اور نوجوان خواتین کو درپیش سماجی رکاوٹوں پر گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کو نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں، کو تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق، اعتماد اور خودمختاری کی بنیاد گھر سے شروع ہوتی ہے، اس لیے خاندان اور معاشرے دونوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر بروئے کار لا سکیں۔

ڈاکٹر سویرا مجیب شامی نے کہا کہ معاشرے کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اوقات قومی شخصیات اور رول ماڈلز کی خدمات کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں متنازع بنانے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں میں نوجوانوں کی حقیقی شمولیت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نوجوانوں کو سیاسی عمل میں محض نعرے لگانے یا حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا انہیں فیصلہ سازی میں بھی مناسب جگہ دی جاتی ہے۔

ان کے مطابق، نوجوان خواتین کی سیاسی، تعلیمی اور معاشی شرکت کو بڑھانے کے لیے محفوظ ماحول، مساوی مواقع اور ادارہ جاتی معاونت ضروری ہے۔ اس طرح نہ صرف انفرادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے بلکہ معاشرے میں اعتماد اور شمولیت کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

استعماری نظام اور آئینی اصلاحات کی ضرورت پر گفتگو

ڈائیلاگ میں پاکستان کے انتظامی اور آئینی ڈھانچے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین نے اس امر کی نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے بعض پہلو استعماری دور کے انتظامی تصورات سے متاثر ہیں، جن میں بنیادی توجہ عوامی خدمت کے بجائے حکمرانی اور انتظامی کنٹرول پر رہی۔

پینلسٹس کے مطابق، وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی اداروں کے کردار، عوامی خدمات کی فراہمی، جواب دہی اور شہریوں کی شرکت کا جائزہ لیا جائے۔

گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد محض انتظامی تبدیلیاں کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے طریقہ کار تشکیل دینا بھی ضروری ہے جن کے ذریعے شہریوں کو بہتر خدمات، مساوی مواقع اور آئینی حقوق کی مؤثر فراہمی ممکن ہو۔

مقررین نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ملکی نظام کے مسائل کو سمجھنے کے لیے تاریخ، آئین، سیاسی اداروں اور انتظامی ڈھانچے کا مطالعہ کریں۔ ان کے مطابق، اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ مسائل کی شناخت کے ساتھ ان کے بنیادی اسباب اور ممکنہ حل پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

مراعات یافتہ طبقے کا اثر، وسائل کی تقسیم اور الزام تراشی کی سیاست

پالیسی ڈائیلاگ میں معاشرے میں مراعات یافتہ طبقے کے اثر و رسوخ، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور الزام تراشی پر مبنی سیاسی رویوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

مقررین نے اس امر پر توجہ دلائی کہ جب مواقع اور وسائل تک رسائی محدود طبقوں تک رہ جائے تو معاشرے میں عدم مساوات بڑھ سکتی ہے اور نوجوانوں کے لیے ترقی کے راستے محدود ہو سکتے ہیں۔

اس تناظر میں میرٹ کی بنیاد پر تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے، عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال اور اداروں میں شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

پینلسٹس نے معلومات کی بھرمار اور غیر جانبدارانہ علم کی کمی کو بھی ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق، ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کو بہت بڑی مقدار میں معلومات تک رسائی حاصل ہے، لیکن ان معلومات کی صحت، سیاق و سباق اور اعتبار کا جائزہ لینے کی صلاحیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

مقررین نے کہا کہ معاشرے میں محنت کی قدر، تنقیدی سوچ اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے کی صلاحیت کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کو بھی قومی ترقی کی پالیسیوں کا اہم حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

دی یونیورسٹی آف لاہور کے اسٹوڈنٹ گلڈ میں 700 طلبہ شامل

سوال و جواب کی نشست کے دوران اویس رؤف نے دی یونیورسٹی آف لاہور کے اسٹوڈنٹ گلڈ کا تعارف کروایا، جس میں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 700 طلبہ شامل ہیں۔

اس موقع پر طلبہ نے سینئر رہنماؤں اور ماہرین تعلیم سے پاکستان کے سیاسی مستقبل، نوجوانوں کے لیے مواقع، خواتین کی سیاسی شرکت، شہری حقوق اور نسلوں کے درمیان فکری فاصلے سے متعلق سوالات کیے۔

نوجوانوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ سینئر نسل اکثر جنریشن زی کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتی۔ اس کے جواب میں پینلسٹس نے معاشرتی رویوں اور تاریخی تجربات کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے مطابق، ماضی میں سوال پوچھنے کی حوصلہ شکنی اور اختلافی رائے کو ناپسند کرنے کا رجحان اس فاصلے کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سوال پوچھنا، مختلف آرا کو سننا اور دلائل کی بنیاد پر گفتگو کرنا کسی بھی زندہ معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ نوجوانوں کے سوالات کو تنقید یا مخالفت سمجھنے کے بجائے انہیں مسائل کی نشاندہی اور بہتر حل تلاش کرنے کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔

پینلسٹس نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تعلیمی ادارے طلبہ کو محض امتحانات اور ڈگریوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں سماجی ذمہ داری، شہری شعور، تحقیق اور قومی امور میں بامعنی شرکت کے مواقع بھی فراہم کریں۔

خواتین کو بااختیار بنانے، میرٹ اور علاقائی مساوات پر اہم نکات

ڈائیلاگ کے دوران جغرافیائی بنیادوں پر افراد کی پروفائلنگ، ثقافتی رکاوٹوں، خواتین کو بااختیار بنانے، میرٹ، آئین کی حکمرانی اور شہریوں کے تحفظ میں ریاست کے کردار پر بھی گفتگو کی گئی۔

مقررین نے اس امر پر توجہ دلائی کہ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہونے چاہییں۔ کسی فرد کے علاقائی پس منظر، ثقافتی شناخت یا صنف کی بنیاد پر اس کے امکانات محدود نہیں ہونے چاہییں۔

اس سلسلے میں گلگت بلتستان اور بلوچستان کے طلبہ کو درپیش مسائل، علاقائی محرومیوں اور ترقی کے مواقع میں فرق پر بھی بات ہوئی۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام علاقوں کے شہریوں کو برابر کے حقوق، مناسب سہولتیں اور فیصلہ سازی میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

گفتگو میں ایک جغرافیائی خطے کے غلبے کے تاثر اور اس سے پیدا ہونے والے خدشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مقررین کے مطابق، وفاقی نظام میں اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تمام علاقوں کی ضروریات کو پالیسی سازی میں اہمیت دینا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی فنانس کمیشن، نئے صوبوں اور ڈویژنز کے قیام، انتظامی اصلاحات اور اختیارات کی مؤثر تقسیم جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ شرکا نے ان معاملات کو انتظامی کارکردگی، مقامی ضروریات اور شہریوں کو خدمات کی فراہمی کے تناظر میں دیکھا۔

سوال کرنے کی آزادی اور ریاست کے کردار پر زور

پالیسی ڈائیلاگ میں سوال پوچھنے کی آزادی، شہری حقوق اور ریاست کی ذمہ داریوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مقررین نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے مسائل بیان کرنے، حکومتی پالیسیوں کے بارے میں سوالات اٹھانے اور قومی امور پر اپنی رائے دینے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس عمل سے نہ صرف اداروں کی جواب دہی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان اعتماد کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔

شرکا نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ریاست کا کردار شہریوں کے تحفظ، حقوق کی ضمانت اور مساوی مواقع کی فراہمی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آئین کی حکمرانی، شفاف انتظامی طریقہ کار اور قانون کے یکساں اطلاق کو قومی استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

گفتگو میں ثقافتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور مختلف سماجی طبقات کے درمیان بہتر روابط قائم کرنے کی ضرورت پر بھی توجہ دی گئی۔ مقررین کے مطابق، نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں ایسا ماحول دینا ضروری ہے جہاں وہ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی میں آگے بڑھ سکیں۔

ذمہ دار عالمی شہریوں کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈاکٹر معید یوسف

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر معید یوسف نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں حاصل کرنے والے افراد تیار کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے ذمہ دار شہریوں کی تربیت بھی ہونی چاہیے جو مقامی اور عالمی سطح پر اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوں۔

انہوں نے میرٹ، شہری شعور، سخت محنت، عاجزی اور شفافیت کو ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی اصول قرار دیا۔

ان کے مطابق، تعلیم کا حقیقی مقصد طلبہ کو صرف پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں تنقیدی سوچ، اخلاقی ذمہ داری، دوسروں کے احترام اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔

تقریب کے اختتام پر اویس رؤف نے تمام مہمانوں، مقررین، ماہرین تعلیم، سابق سول و فوجی افسران اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔

دی یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام منعقدہ اس بین النسل ڈائیلاگ میں نوجوانوں کے مستقبل، قومی اداروں کی اصلاح، آئینی حکمرانی، سیاسی استحکام، تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی، صنفی مساوات اور علاقائی ترقی جیسے موضوعات پر ہونے والی گفتگو نے اس ضرورت کو نمایاں کیا کہ پاکستان کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں مختلف نسلوں کے تجربات اور نوجوانوں کی امنگوں کو یکجا کیا جائے۔

مقررین کے خیالات کا مجموعی محور یہ تھا کہ ملک میں پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا، میرٹ کو مضبوط بنانا، اداروں کی جواب دہی یقینی بنانا اور آئینی اصولوں کے مطابق عوامی شرکت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے مکالمے کو عملی پالیسیوں اور قابل پیمائش اقدامات میں تبدیل کرنا اہم ہوگا، تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک زیادہ مستحکم، شفاف اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button