
جمہوری نظام کا نیا امتحان……. علی عباس کاظمی
کسی صوبے میں دہشت گردی، بدامنی یا انتظامی ناکامی سنگین صورت اختیار کر لے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے
پاکستانی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اصول اکثر اقتدار کے دروازے پر دم توڑ دیتے ہیں۔ جو جماعت اپوزیشن میں آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کے لیے آواز اٹھاتی ہے، وہی حکومت میں آ کر اپنے مخالفین کے اختیارات محدود کرنے کو قومی ضرورت قرار دینے لگتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی بحث نے ایک مرتبہ پھر اس سیاسی تضاد کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ معاملہ محض ایک صوبائی حکومت کے مستقبل کا نہیں بلکہ اس جمہوری نظام کی ساکھ کا امتحان ہے جس میں اقتدار عوام کے ووٹ سے حاصل ہوتا ہے، مگر اس کے استعمال پر غیر منتخب طاقت کے مراکز کے اثرات کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔
کسی صوبے میں دہشت گردی، بدامنی یا انتظامی ناکامی سنگین صورت اختیار کر لے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔ تاہم امن و امان کے نام پر غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے لیے واضح آئینی جواز، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں۔ کسی منتخب حکومت کی خراب کارکردگی یا سیاسی مخالفین سے اختلاف اپنے آپ میں گورنر راج کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر حالات واقعی ایسے اقدام کے متقاضی ہیں تو حکومت کو اس کی وجوہات، قانونی بنیاد اور متوقع نتائج واضح کرنے چاہییں۔ ریاستی اختیار کو سیاسی ضرورت کے تابع کر دیا جائے تو قومی سلامتی کا تصور بھی سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگتا ہے۔پاکستان میں سیاسی قیادت کی ایک بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے اکثر طاقت کے استعمال سے قابو پانے کی کوشش کرتی ہے۔ مذاکرات ناکام ہوں تو مخالف کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا جاتا ہے اور سیاسی حکمت عملی کی ناکامی کو انتظامی کارروائی کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن دباؤ سے پیدا ہونے والی خاموشی، حقیقی اتفاقِ رائے نہیں ہوتی۔ سیاسی اختلاف کی وجوہات برقرار رہیں تو بحران کسی نئی صورت میں دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔ سنجیدہ قیادت وہ ہوتی ہے جو مخالف کو کمزور کرنے کے بجائے تنازع کی بنیاد سمجھنے اور اس کا قابلِ قبول حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
جب حکومت منتخب نمائندوں کے پاس ہو، مگر اہم فیصلوں میں غیر منتخب طاقت کے مراکز کے کردار پر سوالات موجود رہیں تو جمہوری جواب دہی کمزور پڑ جاتی ہے۔ عوام ووٹ کے ذریعے اپنی قیادت منتخب کرتے ہیں، لیکن انہیں یہ یقین نہیں رہتا کہ حکومتی فیصلے واقعی عوامی نمائندگی کے تحت ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں سیاست دان بھی اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری لینے کے بجائے طاقت ور حلقوں کی حمایت تلاش کرتے ہیں۔یوں جمہوریت عوامی خدمت کے نظام کے بجائے اقتدار حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اگر منتخب قیادت اپنے فیصلوں کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی تو اسے اپنی سیاسی خود مختاری اور حکمرانی کی اہلیت پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار بھی اسی اصولی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔ اس جماعت کی تاریخ میں جمہوریت، عوامی حقوق اور آمریت کے خلاف جدوجہد کے اہم ابواب موجود ہیں، لیکن تاریخی قربانیاں موجودہ فیصلوں کے لیے دائمی جواز نہیں بن سکتیں۔ اگر کوئی جماعت اپنے ماضی کو جمہوری جدوجہد کی علامت قرار دیتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ آج بھی انہی اصولوں کا دفاع کرے، خصوصاً اس وقت جب کسی مخالف جماعت کے انتخابی اختیار یا سیاسی آزادی کا معاملہ ہو۔ جمہوریت کی حمایت کا حقیقی امتحان اپنے حامیوں کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ مخالفین کے حقوق کو بھی تسلیم کرنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) سمیت تمام حکمران جماعتوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار ریاست پر ملکیت کا نام نہیں۔ مخالف آواز کو دبانے سے وقتی فائدہ مل سکتا ہے، مگر اس سے جمہوری نظام کی بنیادیں مضبوط نہیں ہوتیں۔
احتجاجی سیاست، مذاکرات کے بارے میں رویے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے طریقوں پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ عوامی حمایت کسی جماعت کے ہر فیصلے کو درست ثابت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی رہنما کو قانون سے بالاتر بناتی ہے۔ تاہم سیاسی قیادت کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر اس کے ووٹروں کے مینڈیٹ کو نظرانداز کرنا بھی جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ عوام کا ووٹ کسی جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کا احترام سیاسی اختلاف کے باوجود ضروری ہے۔ کسی جماعت سے اختلاف کا جواب قانونی اور جمہوری طریقے سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے حامیوں کو سیاسی عمل سے غیر متعلق سمجھ کر۔عمران خان کی قید اور رہائی کے معاملے میں بھی سیاسی بیان بازی کے بجائے قانون کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ کسی رہنما کی قید کا تعلق اس کے احتجاج، سیاسی مقبولیت یا حکومت سے اختلاف کے بجائے مقدمات، شواہد اور عدالتی کارروائی سے ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جن سے یہ تاثر پیدا ہو کہ سیاسی سرگرمیوں کا نتیجہ کسی شخص کی قید کی مدت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ نہ کسی سیاسی رہنما کواستثنیٰ ملنا چاہیے اور نہ ہی اختلافِ رائے کی وجہ سے کسی شہری کو قانونی تحفظ سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے اس سیاسی کشمکش سے زیادہ اہم امن، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتیں ہیں۔اگر گورنر راج یا کوئی غیر معمولی اقدام واقعی عوامی تحفظ کے لیے ضروری ہے تو اس کی کامیابی سیاسی مخالف کی پسپائی سے نہیں بلکہ امن و امان اور شہری زندگی میں بہتری سے ناپی جانی چاہیے۔ قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا بھی درست نہیں۔ ایک ذمہ دار ریاست دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے آئینی حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے، بشرطیکہ اختیارات قانون کے تابع ہوں اور ان کے استعمال کی نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہو۔ہمارے معاشرے میں شخصیت پرستی اور جماعتی تعصب نے سیاسی احتساب کو کمزور کیا ہے۔ ہم مخالف جماعت کی غلطی پر فوراً تنقید کرتے ہیں، لیکن اپنی جماعت کے فیصلے پر سوال اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی رویہ سیاست دانوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ان کے حامی ہر صورت ان کا دفاع کریں گے۔ باشعور ووٹر وہ نہیں جو صرف اپنے پسندیدہ رہنما کے حق میں نعرے لگائے، بلکہ وہ ہے جو اس کی کارکردگی، فیصلوں اور وعدوں کا حساب بھی مانگے۔ نوجوان نسل کو بھی سیاسی خاندانوں اور مقبول نعروں سے آگے بڑھ کر یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سی قیادت تعلیم، روزگار، انصاف اور شہری آزادیوں کے لیے قابلِ عمل منصوبہ پیش کرتی ہے۔
پاکستان کو ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں آئینی حدود کے پابند ہوں اور ریاستی ادارے اپنے مقررہ دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے جواب دہی قبول کریں۔ گورنر راج کے فیصلے کا جواز قانون اور شواہد کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے، سیاسی مفاد کی بنیاد پر نہیں۔ حکومت کو اپنے اقدامات کی وضاحت کرنی چاہیے، اپوزیشن کو ذمہ دار سیاسی طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے اور تمام جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جمہوریت کی کمزوری صرف آئینی بحرانوں سے ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت بھی سامنے آتی ہے جب سیاسی انتقام کو حکمت عملی، مخالف کے حقوق کی پامالی کو کامیابی اور عوامی خاموشی کو حمایت سمجھ لیا جائے۔ اقتدار عارضی ہے، مگر اس کے غلط استعمال کے اثرات معاشرے میں دیر تک باقی رہتے ہیں۔ اگر آج کسی مخالف کے خلاف غیر منصفانہ طریقہ اختیار کیا جائے گا تو کل یہی طریقہ کسی دوسری جماعت کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل اس بات سے طے ہو گا کہ اس کی سیاسی قیادت طاقت کے بجائے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے یا نہیں۔ عوام کو بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ سیاست کے تماشائی بنے رہیں گے یا سوال کرنے، جواب طلب کرنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے باشعور کردار ادا کریں گے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے سے مضبوط نہیں ہوتی، اسے زندہ رکھنے کے لیے حکمرانوں کا احتساب اور شہریوں کا فکری شعور دونوں ضروری ہیں۔


