
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی ناگزیر !! …… پیر مشتاق رضوی
ایوان صدر میں ہونے والے فیصلے کئے گئے جن کی بنیاد وہ ناقابل تردیدحقائق ہیں جنہوں نےایمرجنسی کو ناگزیر بنایا اعداد و شمار چیخ کر بتا رہے ہیں کہ صوبہ ایک مکمل سکیورٹی رسک بن چکا ہے
صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1)کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہوا، جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کی۔صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔سرکاری اعلان کے مطابق صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو اس اقدام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں تزویراتی اور امن وامان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی ایک آئینی حقیقت بن گئی ہے۔ اس کے پس منظر میں صرف محاذ آرائی کی سیاست ہی نہیں، بلکہ تین سال سے مسلسل بڑھتا ہوا ایک سکیورٹی بحران ہے جسے سیاسی مصلحتوں کی نذر کر دیا گیا تھا۔ وفاقی کابینہ میں پیش کردہ تازہ سکیورٹی رپورٹس اور گزشتہ ،48گھنٹوں میں ایوان صدر میں ہونے والے فیصلے کئے گئے جن کی بنیاد وہ ناقابل تردیدحقائق ہیں جنہوں نےایمرجنسی کو ناگزیر بنایا اعداد و شمار چیخ کر بتا رہے ہیں کہ صوبہ ایک مکمل سکیورٹی رسک بن چکا ہے۔یکم اگست 2021ء سے 28 فروری 2024ء تک کل ہلاکتین 3,951 تھیں، جبکہ یکم مارچ 2024ء سے 23 ستمبر 2026ء تک یہ تعداد 8,442 ہو گئی، یعنی 113.7 فیصد اضافہ۔ ماہانہ اوسط دہشت گردی کے واقعات 93.9 سے بڑھ کر 275.4 ہو گئے، 193.3 فیصد اضافہ۔ 2022 میں 1,037 واقعات تھے، 2025ء میں 3,774 اور 2026 میں صرف ستمبر تک 2,857 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔دھشت گردوں کاطریقہ واردات مکمل بدل چکا ہے۔ 2024ء میں ڈرون حملہ صفر تھا، 2025ء میں 82 اور 2026ء میں 170 ہو چکا ہے۔ جنوری میں 29، فروری میں 31، مارچ میں 18، جولائی میں 21 ڈرون حملے ہوئے۔ فائرنگ کے واقعات 2025ء میں 687، آئی ای ڈی حملے 2025 میں 181 تک پہنچ گئے۔ دہشت گرد اب تھرمل اور نائٹ ویژن سائٹس استعمال کر رہے ہیں، پہلے ڈرون سے فضائی حملہ، پھر دشتگردی زمینی یلغار جاری ہے خزینہ بانڈہ ہنگو، فتح خیل بنوں، کوہاٹ پولیس لائنز اور ڈومیل بنوں پر اسی پیٹرن سے حملے ہوئے جہاں گاڑیاں، اے پی سی اور اینٹی ڈرون سسٹم تک لوٹ لیے گئے۔اس سال 73 فیصد حملوں کا بنیادی نشانہ پولیس اور سکیورٹی فورسز ہیں۔ 2026ء میں 445 حملے صرف پولیس پر، 303 دیگر اداروں پر۔ 2024ء سے 2026ء تک 518 جوان شہید اور 1,014 زخمی ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق کے پی پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، حال ہی میں صرف 3550 نئی آسامیاں بنائی گئیں۔ 84 بکتر بند گاڑیوں کی اپ گریڈیشن اگست 2026ء تک بھی مکمل نہیں۔ نائٹ ویژن، تھرمل امیجنگ، جدید سرویلنس آلات موجود نہیں۔ سیف سٹی منصوبہ صرف پشاور تک محدود، باقی پورا صوبہ اندھا ہے۔ دھماکہ خیز مواد سڑکوں پر آزادانہ منتقل ہو رہا ہے۔ کاؤنٹر ڈرون سسٹم جہاں لگا وہاں حملے رکے، لیکن وہ چند تھانوں تک محدود ہے۔ یہ ہے وہ رپورٹ جو گورنر فیصل کریم کنڈی نے وفاق کو دی۔اس سلسلے 10 اکتوبر کو ایوان صدر میں صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی اہم ملاقات ہوئی۔ اسحاق ڈار، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، رانا ثنا اللہ شریک تھے۔ وہیں فیصلہ ہوا کہ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلائے جائیں اور 11 اکتوبر صبح ساڑھے نو بجے وفاقی کابینہ سے ایمرجنسی کی حتمی منظوری لی گئ۔ اب پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہوچکی ہی ، 12 اضلاع پر خصوصی فوکس، اور براہ راست وفاق کے کنٹرول میں ہو ۔ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی کہا تھا کہ انہیں گورنر راج نہیں بلکہ طویل ایمرجنسی نظر آ رہی ہے۔ گذشتہ ہفتہ حکومت اور پی ٹی آیی کے مابین نتیجہ خیز مذاکرات ہوے تھے لیکن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبو تاژ کرکے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ آئینی حق تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے وقت میں جب صوبے کے تھانے ڈرون حملوں سے جل رہے ہیں، بظاہر لانگ مارچ کامقصد سیاسی محاذ آرائی اور نتیجہ انتشار کے سوا کچھ حاصل نہیں تھا حکومتی بیانیہ اسے مذاکرات کو سبوتاژ کرنا قرار دے رہا ہے۔سیاسی محاذ آرائی سے بلاواسطہ دھشت گردی میں اضافہ کا موجب بھی قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ٹکراؤ اور وزیراعلی’ سہیل نیازی کی نااھل اور ناکام حکومت نے وفاق کو ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز فراہم کیا ہے یہ حقیقت ہے کہ کے پی کے انتہائی مخدوش حالات کے ذمہ دار وزیراعلی’ سہیل آفریدی ہیں۔ یہ انتظامی اور اجتماعی ناکامی ہے۔ لیکن اس کا سیاسی خمیازہ پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑے گا۔ اگر آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 کے تحت ایمرجنسی نفاذ سے کے پی حکومت عملاً ختم ہو گئی ہے، پی ٹی آئی کا آخری مضبوط سیاسی قلعہ ہاتھ سے نکل گیا، پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست مکمل بلاک ہوکر رہ جاۓ گی، عمران خان کے لیے پہلے سے نامساعد حالات مزید سخت ہو جائیں گے، اور پارٹی کو ناقابل تلافی سیاسی نقصان پہنچے گا۔ کے پی میں ایمرجنسی ایک شخص کی ضد کا نتیجہ ہے یہ تین سال کی مجرمانہ غفلت، وسائل کی کمی، مذاکرات میں عدم لچک اور غلط سیاسی ٹائمنگ کا مجموعہ ہے۔ اس کا حل صرف طاقت نہیں، بلکہ سکیورٹی فورسز کو فوری جدید وسائل، 9 ہزار خالی آسامیوں پر ہنگامی بھرتیاں، پورے صوبے میں سیف سٹی اور کاؤنٹر ڈرون نیٹ ورک اور ایک متفقہ قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ورنہ ایمرجنسی سے صوبہ تو بچ جائے گا، لیکن کے پی کے میں جمہوری نظام کا تسلسل باقی نہ رہے گااور کے پی میں ایمرجنسی سے جمہوری نظام تعطل کا شکار ہو سکتا ہے آئینی طور پر دیکھا جائے تو ایمرجنسی آرٹیکل 232 کے تحت اندرونی خلفشار یا آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی آئینی مشینری کی ناکامی پر لگائی جاتی ہے، اس میں صوبائی اسمبلی برقرار بھی رہ سکتی ہے اور معطل بھی، بنیادی حقوق محدود ہو سکتے ہیں اور وفاق کو براہ راست انتظامی اختیارات مل گئے ہیں۔ پورے صوبے یا 12 اضلاع میں طویل المدتی وفاقی کنٹرول قائم کر دیا گیا ہے اس سے 1973 کے آئین کی وفاقی روح کو دھچکالگے گا اور یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ مرکز کسی بھی سکیورٹی رپورٹ کی بنیاد پر صوبائی خودمختاری ختم کر سکتا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے کو پارلیمنٹ سے توثیق اور سپریم کورٹ میں چیلنج سے ایک نیا آئینی بحران جنم لے سکتا ہے۔ لیکن تلخ ترین حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر ایمرجنسی نہ لگتی اور روزانہ 9 واقعات اور اوسطا” ماہانہ 270 ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہتا جبکہ کے پی کے مین جمہوری نظام ویسے بھی عضو معطل بنا ہوا تھا جہاں عوام کے جان و مال محفوظ نہیں۔ اسی لیے اس کا واحد پائیدار حل سیاسی ہی ہے اور وہ ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پختون روایات کے مطابق پشاور میں آل پارٹیز جرگے کی شکل میں ہو جس مین صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور تمام جماعتیں مل کر 2014ء کے نیشنل ایکشن پلان کی طرز پر کے پی ایکشن پلان بنایا جاۓ ، مکمل ایمرجنسی کی بجائے انتظامی ایمرجنسی لائی جائے جس میں صوبائی اسمبلی اور کابینہ برقرار رہے، صرف پولیس اور جنوبی اضلاع کی انتظامیہ مشترکہ کمانڈ میں چلے اور 90 دن میں 9 ہزار بھرتیاں، بکتر بند گاڑیاں، سیف سٹی کی 12 اضلاع تک توسیع اور کاؤنٹر ڈرون سسٹم نصب کیے جائیں۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی مشترکہ سکیورٹی نگران کمیٹی بنائی جائے جس میں سیکورٹی فورسز اور پولیس دونوں ہوں، وفاق وسائل دے اور صوبہ افرادی قوت دے۔ اس مشترکہ لائحہ عمل سے ایمرجنسی سے عارضی کنٹرول تو ملے گا لیکن مستقل امن سیاسی مفاہمت سے ہی آئے گا جمہوری نظام تعطل کا شکار ہونے سے بچ جائے گا۔اور خیبر پختون خواہ امن و آتشی کا گہورا بن سکے گا

