پاکستاناہم خبریں

کراچی میں سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائیاں، کالعدم تنظیموں سے تعلق کے الزام میں 4 ملزمان گرفتار

بی ایل اے سے مبینہ تعلق رکھنے والے 3 جبکہ ایس آر اے سے وابستہ ایک ملزم زیرِ حراست؛ مشترکہ کارروائیوں کے دوران 4 دستی بم اور ایک پستول برآمد کرنے کا دعویٰ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
احسان احمد-ادارت

کراچی: (وائس آف جرمنی اردو نیوز) کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کراچی اور وفاقی و سول حساس اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور سندھ ریولوشنری آرمی (ایس آر اے) سے تعلق کے الزام میں چار ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں مبینہ طور پر بی ایل اے سے وابستہ تین افراد جبکہ ایس آر اے سے تعلق رکھنے والا ایک ملزم شامل ہے۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر چار دستی بم اور ایک 30 بور پستول بمعہ میگزین برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان مبینہ طور پر کراچی میں حساس مقامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے ابتدائی تفتیش جاری ہے، جبکہ ان کے ممکنہ ساتھیوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور تنظیمی رابطوں کی نشاندہی کے لیے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مشترکہ کارروائیوں میں حصہ لینے والی ٹیموں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلیٰ حکام نے متعلقہ اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

پہلی کارروائی: ابوالحسن اصفہانی روڈ کے قریب مبینہ طور پر بی ایل اے سے وابستہ تین ملزمان گرفتار

سی ٹی ڈی کراچی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ ٹیم نے پہلی کارروائی میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق کارروائی مین ابوالحسن اصفہانی روڈ، بلاک 4 کے قریب واقع ایک عوامی پارک میں کی گئی، جہاں مبینہ طور پر ملزمان کسی کارروائی کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔

گرفتار افراد کی شناخت غلام یاسین ولد رئیس وزیر، آفتاب احمد ولد غلام مصطفیٰ اور شعیب ولد عبدالحئی کے ناموں سے ظاہر کی گئی ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق اداروں کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے تین مبینہ تربیت یافتہ افراد اپنے تنظیمی کمانڈر کی ہدایات پر کراچی میں موجود ہیں۔ حکام کے دعوے کے مطابق یہ افراد ماضی میں بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور فرنٹیئر کور (ایف سی) اور کسٹمز کی موبائل گاڑیوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ ٹیم نے کارروائی کی اور تینوں ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے تین دستی بم اور ایک 30 بور پستول بمعہ میگزین برآمد کیا گیا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں گرفتار ملزمان کے تنظیمی رابطوں اور کراچی میں مبینہ منصوبہ بندی سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق ملزمان اپنے تنظیمی کمانڈر سے مسلسل رابطے میں تھے اور دستی بموں کے ذریعے شہر کے حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایک دفتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان الزامات کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان کے مبینہ سابقہ جرائم، تنظیمی روابط اور کراچی میں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری کارروائی: کورنگی کازوے ندی کے قریب ایس آر اے سے مبینہ تعلق رکھنے والا ملزم گرفتار

سی ٹی ڈی کراچی اور وفاقی و سول حساس اداروں کی مشترکہ ٹیم نے دوسری کارروائی میں کورنگی کازوے ندی کے قریب سے سندھ ریولوشنری آرمی (ایس آر اے) سے تعلق کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا۔

گرفتار ملزم کی شناخت آصف علی عرف آصف سندھی ولد عاشق علی چاچڑ کے نام سے ظاہر کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک دستی بم برآمد کیا گیا۔

سی ٹی ڈی کی فراہم کردہ ابتدائی تفتیشی تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم نے مبینہ طور پر ایک غیر ملکی شہری، پولیس کے ایک ڈی ایس پی، ریلوے ٹریک اور ایک اہم سیاسی شخصیت کی رہائش گاہ کی ریکی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم نے اپنے تنظیمی کمانڈر کی ہدایات پر کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی مبینہ منصوبہ بندی کا بھی انکشاف کیا ہے۔

ان دعوؤں کی روشنی میں تفتیشی حکام ملزم کی مبینہ نقل و حرکت، رابطوں، ریکی سے متعلق معلومات اور ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں مزید شواہد جمع کر رہے ہیں۔ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا کسی ممکنہ کارروائی کے لیے اہداف، سہولت کاری یا دیگر انتظامات کیے گئے تھے۔

تاہم، گرفتار ملزم کے خلاف عائد الزامات اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے دعوؤں کی عدالتی کارروائی میں جانچ ہونا باقی ہے۔ تفتیشی بیان یا اعتراف کو بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

مجموعی طور پر چار دستی بم اور ایک پستول برآمد کرنے کا دعویٰ

سی ٹی ڈی کے مطابق دونوں کارروائیوں میں گرفتار چار ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر چار دستی بم اور ایک 30 بور پستول بمعہ میگزین برآمد کیا گیا۔

پہلی کارروائی میں مبینہ طور پر بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے تین افراد سے تین دستی بم اور ایک پستول برآمد ہوا، جبکہ دوسری کارروائی میں ایس آر اے سے تعلق کے الزام میں گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک دستی بم برآمد کیا گیا۔

حکام کے مطابق اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کو مقدمات کی تفتیش میں اہم شواہد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان اشیا کی نوعیت، حالت، ممکنہ استعمال اور ملزمان سے ان کے تعلق کے بارے میں قانونی طریقۂ کار کے مطابق مزید جانچ کی جا سکتی ہے۔

شہر کے حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے الزامات کے باعث تفتیشی ٹیمیں ان واقعات کے ممکنہ روابط کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔

مبینہ تنظیمی روابط اور سہولت کاروں کی تلاش

سی ٹی ڈی کے مطابق چاروں گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ ان کے دیگر ممکنہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونین کی نشاندہی کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گرفتار ملزمان کے مبینہ تنظیمی کمانڈروں سے کس نوعیت کے رابطے تھے، انہیں مبینہ طور پر کیا ہدایات دی گئی تھیں، کراچی میں ان کی سرگرمیوں کا دائرہ کیا تھا اور آیا اس منصوبہ بندی میں مزید افراد بھی شامل تھے۔

تفتیشی حکام کے لیے یہ جاننا بھی اہم ہوگا کہ برآمد ہونے والا اسلحہ اور دستی بم کہاں سے حاصل کیے گئے، ملزمان نے مبینہ طور پر کن مقامات کی نگرانی یا ریکی کی اور آیا ان سرگرمیوں سے متعلق کوئی قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مزید کارروائیاں جاری ہیں اور ممکنہ طور پر سامنے آنے والے دیگر کرداروں کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

پانچ مقدمات درج، قانونی کارروائی شروع

سی ٹی ڈی کراچی کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان میں چار مقدمات دھماکہ خیز مواد سے متعلق قانون اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت جبکہ ایک مقدمہ سندھ آرمز ایکٹ کے تحت درج ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

درج مقدمات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  1. مقدمہ الزام نمبر 98/2026: دفعہ 4/5، ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ 1908، بمعہ دفعہ 7 انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997، تھانہ سی ٹی ڈی کراچی۔
  2. مقدمہ الزام نمبر 99/2026: دفعہ 4/5، ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ 1908، بمعہ دفعہ 7 انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997، تھانہ سی ٹی ڈی کراچی۔
  3. مقدمہ الزام نمبر 100/2026: دفعہ 4/5، ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ 1908، بمعہ دفعہ 7 انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997، تھانہ سی ٹی ڈی کراچی۔
  4. مقدمہ الزام نمبر 101/2026: دفعہ 23(1)(A)، سندھ آرمز ایکٹ 2013، تھانہ سی ٹی ڈی کراچی۔
  5. مقدمہ الزام نمبر 102/2026: دفعہ 4/5، ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ 1908، بمعہ دفعہ 7 انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997، تھانہ سی ٹی ڈی کراچی۔

مقدمات کے اندراج کے بعد ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیشی مراحل میں برآمد شدہ سامان، مبینہ تنظیمی روابط، دیگر ممکنہ ساتھیوں اور الزامات سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔

مقدمات میں عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین متعلقہ قانونی کارروائی اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات کا اعلان

مشترکہ کارروائیوں میں حصہ لینے والی سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلیٰ حکام نے متعلقہ اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات دینے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کی جانب سے اس اقدام کو کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی حوصلہ افزائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کو اہمیت حاصل ہے۔

تاہم، ان کارروائیوں کے مکمل نتائج کا اندازہ تفتیش کی تکمیل، مبینہ نیٹ ورک کے دیگر افراد کی نشاندہی اور مقدمات میں شواہد کی قانونی جانچ کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

کراچی میں سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششیں

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ یہاں بندرگاہوں، تجارتی مراکز، صنعتی علاقوں، سرکاری دفاتر اور دیگر اہم مقامات کی سکیورٹی ملکی معیشت اور شہری تحفظ کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

ایسے حالات میں سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ، مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور قانون کے مطابق کارروائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے ساتھ قانونی تقاضوں کی پابندی، شواہد پر مبنی تفتیش اور ملزمان کے منصفانہ قانونی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ چار ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ اور دستی بم برآمد کیے گئے اور مبینہ طور پر حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔

اب تفتیشی اداروں کی توجہ مبینہ نیٹ ورک کے دیگر کرداروں کی شناخت، گرفتار ملزمان کے رابطوں کی جانچ اور مقدمات میں شواہد جمع کرنے پر مرکوز ہے۔

اہم وضاحت: یہ خبر سی ٹی ڈی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات اور ابتدائی تفتیش میں سامنے آنے والے دعوؤں کی آزادانہ یا عدالتی تصدیق تاحال فراہم نہیں کی گئی۔ ملزمان کی قانونی حیثیت اور جرم ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ مجاز عدالت کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button