
احسان احمد-ادارت
کراچی: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے ملک میں ہوا بازی کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے، فضائی نیویگیشن کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور طیاروں کی محفوظ پروازوں کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے دو معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوا کے اچانک رخ اور رفتار میں تبدیلی کی نشاندہی کرنے والے جدید ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کی تنصیب کے ساتھ ساتھ ہوا بازی کے ریڈیو مواصلاتی نظام کی جانچ اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جدید آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کی تنصیب پر تقریباً 25 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئے گی، جبکہ اس منصوبے کو چھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کی توقع ہے۔ اس نظام کی تنصیب کا بنیادی مقصد ہوا میں اچانک پیدا ہونے والی ایسی تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جو طیاروں کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران پرواز کی حفاظت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
دوسرے معاہدے کے تحت ہوا بازی کے ریڈیو نظام کی جانچ کے لیے جدید آلات کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی۔ ان آلات سے طیاروں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان رابطے کے نظام کی کارکردگی، جانچ اور تکنیکی نگرانی کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر ونڈ شیئر الرٹ سسٹم نصب ہوگا
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کی تنصیب کو ہوا بازی کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے ہوا کے رخ اور رفتار میں اچانک ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی، جس سے متعلقہ فضائی عملے اور آپریشنل حکام کو ممکنہ خطرات کے بارے میں بروقت آگاہی فراہم کی جا سکے گی۔
ونڈ شیئر سے مراد ہوا کی رفتار یا سمت میں مختصر فاصلے یا مختصر وقت کے اندر نمایاں تبدیلی ہے۔ ایسی تبدیلیاں خصوصاً اس وقت خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں جب کوئی طیارہ زمین کے قریب ہو، یعنی ٹیک آف کر رہا ہو یا لینڈنگ کے لیے رن وے کے قریب پہنچ رہا ہو۔ اس مرحلے پر طیارے کی رفتار، بلندی اور پرواز کے توازن میں اچانک تبدیلی پائلٹ کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
جدید ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کا مقصد ان ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کے لیے معاون معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ متعلقہ فضائی عملہ اور ایئر ٹریفک کنٹرول صورتِ حال کے مطابق حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ اس طرح یہ نظام ایئرپورٹ کے حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانے اور پروازوں کے محفوظ آپریشن میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
منصوبے پر 25 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئے گی
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کی تنصیب کے منصوبے پر 25 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے چھ ماہ کی مدت متوقع ہے۔
اس منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ ہوا بازی میں حفاظتی نظام کی جدید کاری صرف طیاروں اور رن وے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ موسم، ہوا کی صورتحال، فضائی مواصلات اور تکنیکی نگرانی کے نظام کو بھی بہتر بنانا ضروری ہوتا ہے۔ ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کی تنصیب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوا سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی کے لیے تکنیکی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔
منصوبے کی کامیابی کے لیے سسٹم کی مناسب تنصیب، تکنیکی جانچ، متعلقہ عملے کی تربیت اور موجودہ فضائی آپریشنل نظام کے ساتھ اس کی مؤثر مطابقت اہم ہوگی۔ تاہم، منصوبے کی عملی افادیت کا انحصار نظام کی درست تنصیب، مسلسل دیکھ بھال اور متعلقہ آپریشنل طریقۂ کار پر بھی ہوگا۔
ونڈ شیئر کیا ہے اور یہ طیاروں کے لیے خطرہ کیوں بن سکتا ہے؟
ونڈ شیئر ہوا کی رفتار یا سمت میں اچانک تبدیلی کو کہا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی مختلف موسمی حالات میں پیدا ہو سکتی ہے اور بعض اوقات طیارے کی پرواز پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ بالخصوص لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران طیارہ زمین کے قریب ہوتا ہے اور پائلٹ کے پاس بلندی حاصل کرنے یا پرواز کی حالت کو درست کرنے کے لیے نسبتاً کم وقت ہوتا ہے۔
اگر اس دوران ہوا کی رفتار اچانک کم ہو جائے یا ہوا کا رخ تبدیل ہو جائے تو طیارے کو مطلوبہ لفٹ برقرار رکھنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ اسی طرح ہوا کی رفتار میں اچانک اضافہ یا سمت میں تبدیلی بھی طیارے کے توازن اور پرواز کے انداز کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسی لیے جدید ایئرپورٹس پر ایسے نظاموں کو اہمیت دی جاتی ہے جو ہوا کے بدلتے ہوئے حالات کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کریں۔ ونڈ شیئر الرٹ سسٹم متعلقہ عملے کو خطرے سے آگاہ کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم یہ پائلٹ کے فیصلوں، ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات اور دیگر حفاظتی طریقۂ کار کا متبادل نہیں ہوتا۔
ہوا بازی کے ریڈیو نظام کی جانچ کے لیے جدید آلات کی فراہمی
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ہوا بازی کے ریڈیو مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی ایک اہم معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت نظام کی جانچ کے لیے جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔
ہوا بازی میں ریڈیو مواصلات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ طیاروں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان رابطہ پروازوں کی نگرانی، ٹیک آف اور لینڈنگ کی اجازت، فضائی ٹریفک کی ترتیب اور ہنگامی صورتِ حال میں ضروری ہدایات کی فراہمی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ریڈیو نظام کی کارکردگی میں کسی قسم کی خرابی یا تکنیکی مسئلہ رابطے کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے مواصلاتی آلات کی باقاعدہ جانچ، خرابیوں کی بروقت شناخت اور تکنیکی معیار کی نگرانی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے جدید آلات سے ریڈیو مواصلاتی نظام کی جانچ زیادہ مؤثر انداز میں کرنے اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس اقدام سے تکنیکی عملے کو نظام کی حالت جانچنے، ممکنہ خرابیوں کی نشاندہی کرنے اور ضروری دیکھ بھال کے اقدامات میں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔
طیاروں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان رابطے میں بہتری متوقع
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق جدید آلات کی فراہمی سے طیاروں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان رابطے کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ایئر ٹریفک کنٹرول فضائی ٹریفک کی نگرانی اور منظم نقل و حرکت کے لیے اہم ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ طیاروں کو مناسب وقت پر ہدایات دینا، رن وے کے استعمال میں ہم آہنگی برقرار رکھنا اور فضائی ٹریفک کے محفوظ انتظام میں معاونت کرنا اس نظام کے اہم پہلو ہیں۔ ان امور کے لیے قابلِ اعتماد ریڈیو رابطہ بنیادی ضرورت ہے۔
جدید جانچ کے آلات کی دستیابی سے مواصلاتی نظام کی تکنیکی نگرانی اور کارکردگی کی جانچ میں بہتری آ سکتی ہے۔ اس طرح ممکنہ خرابیوں کی بروقت نشاندہی اور نظام کی دیکھ بھال کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
تاہم، معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے آلات کی حتمی افادیت کا انحصار ان کے معیار، درست استعمال، تکنیکی عملے کی مہارت اور دیکھ بھال کے مؤثر انتظامات پر ہوگا۔
فضائی نیویگیشن کے نظام کی جدید کاری کی جانب پیش رفت
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے دونوں معاہدے ہوا بازی کے تحفظ اور فضائی نیویگیشن سے متعلق تکنیکی نظاموں کو بہتر بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک جانب ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کے ذریعے ہوا کے اچانک بدلتے ہوئے حالات کی نشاندہی کی صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ریڈیو مواصلاتی نظام کی جانچ کے لیے جدید آلات کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے۔
یہ دونوں شعبے فضائی آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موسم اور ہوا کی صورتِ حال سے متعلق بروقت آگاہی طیاروں کی محفوظ نقل و حرکت میں معاون ہوتی ہے، جبکہ طیاروں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان قابلِ اعتماد رابطہ فضائی ٹریفک کے مؤثر انتظام کے لیے ضروری ہے۔
ہوا بازی کے شعبے میں تکنیکی جدید کاری کے لیے ضروری ہے کہ حفاظتی نظاموں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے، مواصلاتی آلات کی جانچ کا مؤثر طریقۂ کار موجود ہو اور متعلقہ عملے کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی مناسب تربیت فراہم کی جائے۔
محفوظ پروازوں کے لیے تکنیکی صلاحیت میں اضافے کی اہمیت
فضائی سفر میں مسافروں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایئرپورٹس پر جدید نگرانی، موسمی حالات کی درست معلومات، قابلِ اعتماد مواصلاتی نظام اور تکنیکی خرابیوں کی بروقت نشاندہی اہم سمجھی جاتی ہے۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کی مجوزہ تنصیب اور ہوا بازی کے ریڈیو نظام کی جانچ کے لیے جدید آلات کی فراہمی اسی وسیع تر ضرورت سے متعلق اقدامات ہیں۔ اگر یہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوتے ہیں اور ان کے نظام مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں تو ان سے ایئرپورٹ کے حفاظتی اور تکنیکی انتظامات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ونڈ شیئر الرٹ سسٹم کی تنصیب چھ ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ ریڈیو نظام کی جانچ کے لیے آلات کی فراہمی سے مواصلاتی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں معاونت ملے گی۔
مجموعی طور پر دو معاہدوں پر دستخط پاکستان میں ہوا بازی کے تحفظ، فضائی آپریشنز کی تکنیکی نگرانی اور مواصلاتی نظام کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ منصوبوں کی بروقت تکمیل، مؤثر تنصیب اور مسلسل تکنیکی دیکھ بھال ان کے مطلوبہ نتائج کے حصول میں بنیادی اہمیت رکھیں گے۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان چیپٹر)
آزادی، صحافت، جمہوریت، وطن
www.vogurdunews.de



