
چین اور پاکستان کی پہلی مشترکہ فوجی تربیتی مشق ’’قراقرم 2026‘‘ کا آغاز، انسدادِ دہشت گردی اور آپریشنل ہم آہنگی کے فروغ پر توجہ
سنکیانگ کے شہر کورلا میں افتتاحی تقریب منعقد، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تجربات کا تبادلہ، ڈرون آپریشنز، حرکت کے دوران اہداف کی نشاندہی، فائرنگ اور اسنائپنگ کی تربیت مشق کا حصہ ہوگی
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں مشترکہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے پہلی مشترکہ فوجی تربیتی مشق ’’قراقرم 2026‘‘ کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔ افتتاحی تقریب 14 اکتوبر 2026ء کو شمال مغربی چین کے سنکیانگ ایغور خود مختار علاقے کے شہر کورلا میں واقع ایک فوجی تربیتی مرکز میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے فوجی دستوں نے شرکت کی۔
یہ مشترکہ مشق دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تربیتی تعاون، انسدادِ دہشت گردی کے تجربات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کے دوران باہمی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ مشق کے دوران بالخصوص بلند پہاڑی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، جدید فوجی سازوسامان کے استعمال، ڈرون ٹیکنالوجی، اہداف کی تلاش اور نشانہ بازی کی مہارتوں پر توجہ دی جائے گی۔
افتتاحی تقریب کے بعد دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں نے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا، جبکہ پاکستانی فوجی دستوں نے چینی ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کا جائزہ بھی لیا۔ اس سرگرمی کا مقصد ایک دوسرے کے تربیتی طریقۂ کار اور دستیاب فوجی وسائل سے واقفیت حاصل کرنا اور مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کے لیے عملی بنیاد مضبوط بنانا ہے۔
سنکیانگ کے شہر کورلا میں افتتاحی تقریب
چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے شہر کورلا میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب کے ساتھ ہی ’’قراقرم 2026‘‘ مشترکہ فوجی تربیتی مشق کا باضابطہ آغاز ہوا۔ یہ مشق چین اور پاکستان کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی مشترکہ فوجی تربیت ہے، جسے دونوں ممالک کے دفاعی تعاون میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مشق کے لیے کورلا میں تربیتی مرکز کا انتخاب بلند پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز سے متعلق مہارتوں کو بہتر بنانے کے وسیع تر تربیتی مقصد سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس نوعیت کی تربیت میں فوجی اہلکاروں کو دشوار گزار جغرافیائی حالات، اہداف کی بروقت نشاندہی، مربوط کارروائیوں اور مختلف وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق عملی مہارتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
افتتاحی تقریب کے بعد ہونے والی سرگرمیوں میں دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کے درمیان پیشہ ورانہ تبادلۂ خیال بھی شامل تھا، جس سے مشترکہ تربیت کے دوران ایک دوسرے کے تجربات کو سمجھنے اور عملی تعاون کو فروغ دینے کا موقع میسر آیا۔
انسدادِ دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ
’’قراقرم 2026‘‘ کا بنیادی محور بلند پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کے مشترکہ آپریشنز ہیں۔ اس مقصد کے تحت دونوں ممالک کی افواج اپنے تجربات، تربیتی طریقۂ کار اور عملی مہارتوں کا تبادلہ کریں گی، تاکہ مشترکہ کارروائیوں کے دوران رابطہ کاری اور باہمی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔
افتتاحی تقریب کے بعد چین اور پاکستان کے فوجی اہلکاروں نے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تجربات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس سرگرمی کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ مختلف جغرافیائی حالات میں انجام دی جانے والی فوجی کارروائیوں کے دوران زمینی صورتحال کا درست اندازہ، اہداف کی شناخت، مواصلاتی رابطے اور مختلف دستوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مشترکہ تربیت کے ذریعے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے طریقۂ کار سے واقفیت حاصل کرنے اور مختلف عملی حالات میں تعاون کی صلاحیت بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ اس سے مستقبل میں مشترکہ تربیتی سرگرمیوں اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستانی دستوں کا چینی ہتھیاروں اور سازوسامان کا جائزہ
افتتاحی تقریب کے بعد پاکستانی فوجی دستوں نے چینی ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کا جائزہ لیا۔ اس سرگرمی کے ذریعے پاکستانی اہلکاروں کو چینی فوج کے زیرِ استعمال بعض دفاعی وسائل اور ان سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا۔
جدید فوجی تربیت میں ہتھیاروں، نگرانی کے آلات اور دیگر سازوسامان سے متعلق واقفیت اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ مشترکہ مشقوں کے دوران مختلف نظاموں اور طریقۂ کار کو سمجھنا عملی تعاون کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
تاہم، دستیاب تفصیلات میں جائزے کے لیے پیش کیے گئے مخصوص ہتھیاروں یا سازوسامان کے نام، تعداد یا تکنیکی خصوصیات بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے اس سرگرمی کو دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کے درمیان پیشہ ورانہ واقفیت اور تربیتی تبادلے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید نگرانی کی تربیت
’’قراقرم 2026‘‘ میں بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، یعنی ڈرونز (UAVs)، چلانے کی تربیت بھی شامل ہے۔ جدید فوجی آپریشنز میں ڈرون ٹیکنالوجی نگرانی، زمینی صورتحال کا جائزہ لینے اور ممکنہ اہداف کی نشاندہی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بلند پہاڑی علاقوں میں دشوار گزار راستوں، محدود رسائی اور پیچیدہ جغرافیائی حالات کے باعث زمینی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے معلومات کا حصول خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں ڈرونز کے استعمال سے متعلق تربیت فوجی اہلکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت فراہم کرنے اور نگرانی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتی ہے۔
مشق میں ڈرونز چلانے کی تربیت کو دیگر عملی سرگرمیوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے، جس سے جدید ٹیکنالوجی اور روایتی زمینی آپریشنز کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
حرکت کے دوران اہداف کی تلاش اور فائرنگ کی مشقیں
مشترکہ فوجی تربیت میں حرکت کے دوران اہداف کی تلاش اور فائرنگ کی مشقیں بھی شامل ہوں گی۔ ان سرگرمیوں کا مقصد فوجی اہلکاروں کی عملی مہارتوں کو بہتر بنانا اور مختلف حالات میں اہداف کی نشاندہی و کارروائی کے دوران نظم و ضبط اور باہمی رابطے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
متحرک حالات میں فوجی کارروائیوں کے لیے اہلکاروں کو زمینی صورتحال کا جائزہ لینے، اپنی نقل و حرکت میں ہم آہنگی برقرار رکھنے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی تربیت درکار ہوتی ہے۔ مشترکہ مشقوں میں ان پہلوؤں پر توجہ دینے سے دونوں ممالک کی افواج کو اپنے تربیتی تجربات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اس سرگرمی کے ساتھ ڈرون آپریشنز اور دیگر تربیتی مراحل کو شامل کرنا مشق کے جامع نوعیت کے تربیتی دائرۂ کار کو ظاہر کرتا ہے۔
طویل فاصلے تک نشانہ بازی، اسنائپنگ کی تربیت بھی شامل
’’قراقرم 2026‘‘ کے تربیتی پروگرام میں طویل فاصلے تک نشانہ بازی، یعنی اسنائپنگ (Sniping)، کی مہارتیں بھی شامل ہیں۔ یہ تربیت فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کے مختلف ممکنہ حالات میں عملی تیاری کے لیے ترتیب دی گئی مشقوں کا حصہ ہے۔
بلند پہاڑی علاقوں میں جغرافیائی حالات، محدود رسائی اور طویل فاصلے پر اہداف کی شناخت جیسے عوامل فوجی تربیت کو زیادہ پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں خصوصی نشانہ بازی کی تربیت فوجی مہارتوں کے فروغ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
مشق میں اسنائپنگ کو دیگر تربیتی سرگرمیوں کے ساتھ شامل کرنے سے دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کو مختلف عملی شعبوں میں مہارتوں کے تبادلے اور تربیتی تجربات سے استفادے کا موقع ملے گا۔
مشترکہ کمانڈ اور عملی فوجی مشقیں
مشق کا ایک اہم حصہ مشترکہ کمانڈ اور عملی فوجی سرگرمیاں ہیں۔ مشترکہ آپریشنز میں کمانڈ کے نظام، رابطہ کاری اور مختلف دستوں کے درمیان ہم آہنگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ تربیت کا مقصد صرف انفرادی مہارتوں کو بہتر بنانا نہیں بلکہ مجموعی طور پر باہمی تعاون کی صلاحیت کو بھی مضبوط کرنا ہے۔
مشترکہ کمانڈ سے متعلق سرگرمیاں مختلف فوجی عناصر کے درمیان رابطے، ذمہ داریوں کی تفہیم اور کارروائیوں کے دوران مربوط طریقۂ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ اس نوعیت کی تربیت مستقبل میں مشترکہ مشقوں کے انعقاد اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں پیشہ ورانہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، دستیاب معلومات میں مشق کے مخصوص عملی منظرناموں، دستوں کی تعداد، کمانڈ کے تفصیلی طریقۂ کار یا تربیتی پروگرام کے مکمل دورانیے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا مرحلہ
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعلقات طویل عرصے سے دوطرفہ شراکت داری کا اہم حصہ رہے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، تربیتی سرگرمیاں اور پیشہ ورانہ تبادلے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے اور دفاعی شعبے میں رابطوں کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
’’قراقرم 2026‘‘ اس تعاون میں اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی مشترکہ فوجی تربیتی مشق ہے۔ اس کا انسدادِ دہشت گردی اور بلند پہاڑی علاقوں میں مشترکہ آپریشنز پر مرکوز ہونا تربیت کے مخصوص عملی مقاصد کو نمایاں کرتا ہے۔
مشق کے ذریعے دونوں ممالک کی افواج کو جدید ٹیکنالوجی، زمینی کارروائیوں، نشانہ بازی اور مشترکہ کمانڈ کے شعبوں میں اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تربیتی سرگرمیوں کے دوران باہمی رابطہ کاری کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
آپریشنل ہم آہنگی مضبوط بنانے پر توجہ
’’قراقرم 2026‘‘ کا ایک بنیادی مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی (Interoperability) کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد مختلف افواج یا یونٹس کی جانب سے مشترکہ کارروائیوں کے دوران مؤثر انداز میں رابطہ قائم کرنے، ایک دوسرے کے طریقۂ کار کو سمجھنے اور مربوط انداز میں کام کرنے کی صلاحیت ہے۔
مشترکہ تربیت کے دوران مختلف فوجی مہارتوں، جدید سازوسامان اور کمانڈ سے متعلق سرگرمیوں پر توجہ دینے سے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی عملی ضروریات اور تربیتی طریقۂ کار کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی جیسے حساس شعبے میں باہمی ہم آہنگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مختلف حالات میں مؤثر رابطہ کاری، درست معلومات اور مشترکہ حکمت عملی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
’’قراقرم 2026‘‘ کی اہمیت اور مستقبل کے امکانات
چین کے شہر کورلا میں 14 اکتوبر 2026ء کو شروع ہونے والی ’’قراقرم 2026‘‘ مشترکہ فوجی تربیتی مشق پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس مشق میں انسدادِ دہشت گردی، ڈرون آپریشنز، حرکت کے دوران اہداف کی تلاش اور فائرنگ، طویل فاصلے تک نشانہ بازی، مشترکہ کمانڈ اور عملی تربیت کو شامل کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کے درمیان تجربات کا تبادلہ اور چینی فوجی سازوسامان سے پاکستانی دستوں کی واقفیت بھی اس مشق کے نمایاں پہلو ہیں۔ ان سرگرمیوں سے تربیتی تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ آپریشنز کے لیے باہمی ہم آہنگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
مجموعی طور پر ’’قراقرم 2026‘‘ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو مزید گہرا کرنے، انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کو آگے بڑھانے اور فوجی تربیت کے ذریعے مشترکہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ مشق کی آئندہ سرگرمیاں اور حاصل ہونے والے نتائج اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوں گے کہ یہ تربیتی تعاون مستقبل میں کس طرح مزید وسعت اختیار کرتا ہے۔



