
اے آئی سسٹمز آئندہ 2 برسوں میں سنگین سکیورٹی حادثات کا باعث بن سکتے ہیں، ڈیپ مائنڈ کے سربراہ کا انتباہ
یورپی کمیشن کی ٹیکنالوجی سربراہ ہینا ورکنن نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ جدید اے آئی کی تیاری میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ کے باعث حفاظتی جانچ پڑتال کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کمپنی گوگل ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈیمس ہاسابیس نے خبردار کیا ہے کہ حفاظتی اقدامات مؤثر نہ بنائے گئے تو اے آئی سسٹمز آئندہ دو برسوں میں سنگین سکیورٹی حادثات اور بڑے نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈبلن میں اے آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیمس ہاسابیس نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے واقعات مستقبل میں پیدا ہونے والے بڑے خطرات کی ابتدائی نشانیاں ہیں۔ موجودہ اے آئی سسٹمز ابھی اتنے طاقتور نہیں کہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکیں، تاہم ان سے وابستہ خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
نہوں نے زور دیا کہ اے آئی سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کم کرنے کے لیے انفرادی کمپنیوں، حکومتوں اور پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی نئے اے آئی ماڈل کو عوامی سطح پر متعارف کرانے سے پہلے محققین کو اس کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینا چاہیے۔
حالیہ مہینوں میں اوپن اے آئی اور انتھروپک کے اے آئی ماڈلز کی جانب سے مختلف کمپنیوں کے سسٹمز میں ہیکنگ سے متعلق واقعات سامنے آنے کے بعد اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی محدود کرنے کے مطالبات بھی کیے گئے ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی ٹیکنالوجی سربراہ ہینا ورکنن نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ جدید اے آئی کی تیاری میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ کے باعث حفاظتی جانچ پڑتال کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ سسٹمز پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھیں تاکہ ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔



