
حکمران بدلتے ہیں، عوام کی تقدیر کیوں نہیں؟…….علی عباس کاظمی
بعض غیر جمہوری ریاستیں معاشی ترقی، نظم و ضبط اور شہری سہولتوں میں کامیاب رہی ہیں۔ لیکن معاشی کارکردگی کو سیاسی آزادی کا متبادل قرار دینا درست نہیں
اس سے بڑا سیاسی فریب کیا ہوگا کہ عوام حکمرانوں کا انتخاب کریں، مگر اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے انہی حکمرانوں کے رحم و کرم پر رہیں۔ وہ ووٹ ڈالیں، جلسوں میں نعرے لگائیں، سیاسی بحثوں میں الجھیں اور پھر اگلے انتخابات تک مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور محرومی کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور رہیں۔ اس دوران اقتدار کے ایوانوں میں چہرے بدل بھی جائیں تو عام آدمی کی قسمت کیوں نہیں بدلتی؟ اگر انتخابات عوام کی تقدیر سنوارنے کا ذریعہ ہیں تو برسوں سے ان کے مسائل حل طلب کیوں ہیں؟ یہ صورت حال محض چند سیاست دانوں کی ناکامی نہیں، بلکہ اس سیاسی طرزِ فکر کی علامت ہے جس میں عوام کی اہمیت انتخابی دن تک محدود ہو جاتی ہے۔جمہوریت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض ووٹوں کی گنتی کے بجائے عوامی اختیار، ریاستی جواب دہی اور قانون کی بالادستی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ یورپ کے کئی معاشروں نے یہ حقوق آسانی سے حاصل نہیں کیے۔ طویل سیاسی جدوجہد، سماجی تحریکوں، تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات نے رفتہ رفتہ حکمرانوں کے اختیارات محدود کیے۔ وہاں بھی دولت اور طاقت سیاست پر اثرانداز ہوتی ہیں، مگر مضبوط ادارے، آزاد صحافت اور شہری شعور ان اثرات کو چیلنج کرنے کی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔ جہاں حکمران جانتے ہوں کہ ان کی کارکردگی پر سوال اٹھیں گے اور ناکامی کی قیمت اقتدار سے محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے، وہاں عوامی مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہتا۔
بعض غیر جمہوری ریاستیں معاشی ترقی، نظم و ضبط اور شہری سہولتوں میں کامیاب رہی ہیں۔ لیکن معاشی کارکردگی کو سیاسی آزادی کا متبادل قرار دینا درست نہیں۔بنیادی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، شہریوں پر کوئی احسان نہیں۔ اگر کسی شخص کو آسودگی تو میسر ہو مگر اپنے مسائل بیان کرنے کی آزادی نہ ہو تو اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھنا غلط ہوگا۔ حقیقی ترقی انسان کو صرف بہتر زندگی نہیں دیتی بلکہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں شریک ہونے کا اختیار بھی دیتی ہے۔پاکستان میں سیاسی بحران کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت کو اکثر اقتدار حاصل کرنے کا طریقہ سمجھا گیا ہے، عوام کی خدمت کا مسلسل عہد نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت کی تبدیلی، میرٹ، اختلافِ رائے اور کارکنوں کی شمولیت کے مواقع محدود ہوں تو ان سے جمہوری طرزِ حکمرانی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ اگر جماعتی فیصلے چند افراد کی مرضی سے ہوں اور امیدواروں کی اہلیت سے زیادہ ان کی دولت، خاندانی اثرورسوخ اور انتخابی حیثیت دیکھی جائے تو سیاست میں قابلیت کے بجائے خاندانی اثرورسوخ اور دولت کو اہمیت ملنے لگتی ہے، جبکہ عام شہری ووٹ دینے کے لیے تو ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر قیادت کے منصب تک پہنچنے کے لیے نہیں۔ یوں عوام کے نام پر قائم ہونے والی جماعتیں رفتہ رفتہ ایسے حلقوں تک محدود ہو جاتی ہیں جہاں قیادت اور اختیار نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی جماعتوں کو پہلے اپنے اندر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اقتدار کو ذاتی ملکیت نہیں سمجھتیں۔
اس خرابی میں انتخابی سیاست کے ان طریقوں کا بھی حصہ ہے جو شہریوں کو باشعور ووٹر کے بجائے ذاتی تعلقات اور وقتی مفادات کے تابع رکھتے ہیں۔ کہیں برادری فیصلہ کرتی ہے، کہیں کسی امیدوار کی مالی مدد، کہیں مذہبی یا لسانی وابستگی اور کہیں مخالف امیدوار سے نفرت ووٹ کا رخ متعین کرتی ہے۔ امیدوار کی سابقہ کارکردگی، اہلیت، دیانت اور آئندہ منصوبوں پر غور ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ بعض حلقوں میں ووٹ خریدنے، انتخابی اثرورسوخ استعمال کرنے اور نتائج کی شفافیت پر اعتراضات جیسے معاملات بھی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور شفاف انتخابی نگرانی ضروری ہے، کیونکہ عوامی مینڈیٹ پر شبہات بڑھیں تو پورا سیاسی نظام اخلاقی اعتبار کھونے لگتا ہے۔تاہم ووٹر کو ہر خرابی کا ذمہ دار قرار دینا بھی آسان راستہ ہے۔ غربت، کمزور تعلیمی نظام، محدود معلومات اور معاشی انحصار انسان کے انتخاب کو متاثر کرتے ہیں۔ جس شہری کے سامنے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کا مسئلہ ہو، اس کے لیے طویل مدتی سیاسی منصوبوں کے بجائے فوری فائدہ اہم ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی مجبوری سیاسی استحصال کا ذریعہ بن جائے تو معاشرہ ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جس میں غریب کو اس کی محرومی سے وقتی نجات کا لالچ دے کر دوبارہ اسی محرومی کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ کسی علاقے میں سرکاری خرچ سے ترقیاتی کام کروانا نمائندے کی ذاتی سخاوت نہیں، بلکہ عوام کے ٹیکس اور ریاستی وسائل کا استعمال ہے۔ جب شہری اپنے حق کو احسان سمجھنے لگیں تو وہ سوال کرنے کے بجائے شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
تعلیم کی کمی اس سیاسی انحصار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ صرف زیادہ ڈگریاں رکھنے والے افراد سے نہیں بنتا، بلکہ ایسے شہریوں سے بنتا ہے جو خبر اور افواہ، دلیل اور پروپیگنڈے، قومی مفاد اور جماعتی مفاد میں فرق کر سکیں۔ اگر تعلیمی ادارے سوال کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کریں، میڈیا سیاسی نعروں کو خبر بنا دے اور سوشل میڈیا پر مخالفین کی کردار کشی کو سیاسی دلیل سمجھ لیا جائے تو عوامی رائے کی تشکیل شعوری عمل کے بجائے جذباتی ردعمل بن جاتی ہے۔ سیاسی قیادت کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری، صحت، تعلیم اور معیشت پر سنجیدہ بحث کے مقابلے میں جذبات بھڑکانا کہیں آسان ہے۔ چنانچہ عوام کے سامنے مسائل کے حل کا حساب رکھنے کے بجائے نئے تنازعات کھڑے کر دیے جاتے ہیں اور اصل معاملات شور میں دب جاتے ہیں۔ریاستی وسائل کے استعمال اور معاشی پالیسیوں میں جواب دہی کا فقدان اس صورت حال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ جب حکومت عوام کو قربانی کا درس دے تو اسے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ قومی خزانہ کن ترجیحات پر خرچ ہو رہا ہے، ٹیکس کا بوجھ کن طبقات پر پڑتا ہے اور قرض لے کر حاصل کیے گئے وسائل سے عام شہری کو کیا فائدہ پہنچا۔ اگر مالی مشکلات کا حل بار بار بجلی، گیس، اشیائے ضروریہ اور ٹیکسوں کی قیمتیں بڑھانے میں تلاش کیا جائے، مگر سرکاری اخراجات، مراعات، بدعنوانی اور ناقص منصوبہ بندی کا مؤثر احتساب نہ ہو تو عوام کو معاشی اصلاحات کے نام پر محض قربانی دینے والا فریق بنا دیا جاتا ہے۔ قومی معیشت کا بوجھ سب پر یکساں نہیں پڑتا۔ کم آمدنی والا خاندان اپنی بنیادی ضروریات کم کرتا ہے، جبکہ صاحبِ اختیار طبقہ اکثر اپنے طرزِ زندگی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ فرق محض معاشی ناہمواری نہیں، انصاف کے تصور پر بھی سوال ہے۔
اس صورت حال سے نکلنے کے لیے محض حکومتیں بدلنا کافی نہیں۔ انتخابی نظام کی شفافیت، جماعتوں کے اندر جمہوری عمل، آزاد اور ذمہ دار صحافت، مؤثر مقامی حکومتیں، معیاری تعلیم اور قانون کی یکساں عمل داری ضروری ہیں۔ ہر منتخب نمائندے کی کارکردگی عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔ سرکاری بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اخراجات کی معلومات عام فہم انداز میں دستیاب ہوں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی قرار دینے کے بجائے اسے اصلاح کا موقع سمجھا جائے۔ احتجاج کے حق کا احترام ہو، مگر سیاسی مطالبات بھی دلیل، امن اور آئینی حدود کے اندر پیش کیے جائیں۔ تبدیلی تبھی پائیدار ہوگی جب شہری حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں گے۔سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مسلسل مایوسی عوام کو جمہوریت سے ہی بدظن کر دے اور وہ جواب دہی کے بجائے کسی طاقت ور نجات دہندہ سے امیدیں وابستہ کر لیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب لوگ اپنے اختیار سے مایوس ہوتے ہیں تو بعض اوقات اسی اختیار کو محدود کرنے والے حل انہیں پرکشش محسوس ہونے لگتے ہیں۔ لیکن غیر مؤثر جمہوریت کا علاج عوام کو مزید بے اختیار کرنا نہیں، بلکہ اسے زیادہ شفاف، منصفانہ اور جواب دہ بنانا ہے۔ کوئی نظام صرف اس لیے کامیاب نہیں ہو جاتا کہ اس کا نام جمہوریت ہے، اور کوئی حکمران محض بلند دعووں سے عوام دوست ثابت نہیں ہوتا۔ اصل معیار شہری کی زندگی، اس کے حقوق اور انصاف تک اس کی رسائی ہے۔ عوام کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی شخصیات کےمرید بن کر رہنا چاہتے ہیں یا اپنے حق، شعور اور اجتماعی مستقبل کے محافظ بننا چاہتے ہیں۔ کیونکہ جس دن ووٹر اپنے پسندیدہ رہنما سے بھی دلیل اور حساب مانگنے لگے گا، اسی دن سیاست میں شخصیت کی بالادستی کم اور عوام کی حیثیت مضبوط ہونا شروع ہوگی۔

