اہم خبریںپاکستان

پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیلئے پرعزم ہے، اسحاق ڈار

پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت شنگھائی اسپرٹ سے ہماری وابستگی کا عکاس ہے، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری معاشی انضمام کے لیے اہم ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم- ادارت پاکستان
دوشنبے: نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔ ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار اقتصادی نمو میں ایس سی او قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان حکومت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کا خطہ عالمی اقتصادی ترقی کا اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، رابطوں کے استحکام کے لیے ایس سی او کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں، رکن ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ایس سی او کے اقتصادی تعاون کی کامیابی کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار اقتصادی نمو میں ایس سی او قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم باہمی اعتماد اور تنوع کے احترام کے اصولوں پر قائم ہے، شنگھائی تعاون تنظیم نے تجارت، بنیادی ڈھانچے، ثقافت اور جدت کے شعبوں تک اپنا دائرہ کار وسیع کیا ہے۔
محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت شنگھائی اسپرٹ سے ہماری وابستگی کا عکاس ہے، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری معاشی انضمام کے لیے اہم ہے، زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے حامی ہیں۔
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈارنے کہا کہ سی پیک ایس سی او شراکت داروں کو معاشی انضمام کے مشترکہ سفر میں تیزی لانے کا موقع فراہم کرتا ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت ایس سی او کے مستقبل کے تعاون کے اہم ستون ہونے چاہئیں، توانائی میں تعاون اور عالمی معلوماتی سلامتی کو ایس سی او کا اہم حصہ بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کی پاکستانی صدارت کا وژن پیش کیا، پاکستان نے افغانستان کی ترقی اور افغان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں، افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان پرامن اور مستحکم ہمسائیگی کے قیام کے لیے پرعزم ہے جو علاقائی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی شرط ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button