تازہ ترینیورپ

اٹلی میں مظاہرے، میلان میں مزید فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

ان واقعات کے بعد میلان میں کئی لگژری برانڈز کی دکانیں  عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں، جبکہ بعض کاروباری مراکز نے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ڈی پی اے، اے ایف پی

اٹلی کی حکومت نے میلان میں حالیہ پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد شہر میں مزید 500 فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور مزید بدامنی کو روکنا ہے۔

اٹلی کی حکومت نے ملک کے مالیاتی مرکز میلان میں حالیہ ہنگاموں کے بعد مزید 500 فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم جیورجیا میلونی کی زیر صدارت ایک ہنگامی اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا، جبکہ اس پر عمل درآمد کے لیے جلد حکم نامہ جاری کیے جانے کی توقع ہے۔حکومتی منصوبے کے مطابق اضافی فوجیوں کو میلان کے مرکزی علاقوں میں تعینات کیا جائے گا تاکہ مزید بدامنی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کو روکا جا سکے۔اٹلی میں 2008 سے "اسٹرادے سیکیورے” (محفوظ سڑکیں) نامی فوجی مشن فعال ہے، جس کے تحت فوجی اہلکار بڑے شہری مراکز اور حساس عمارتوں کی نگرانی میں پولیس کی معاونت کرتے ہیں۔

پرتشدد مظاہرے کیوں ہوئے؟

میلان میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں مہنگائی اور حکومت کی بعض مجوزہ قانون سازی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق ابتدا میں مظاہرے پرامن تھے، تاہم بعد ازاں بعض گروہوں نے پرتشدد کارروائیاں شروع کر دیں۔

اٹلی میں مظاہروں کی تصویر
لوٹ مار کے واقعات کے بعد میلان میں کئی لگژری برانڈز کی دکانیں  عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔تصویر: Nicola Marfisi/AGF/ZUMA/picture alliance

شہر کے مرکزی علاقے پیاتزا دل دومو اور اس کے اطراف میں سیاہ لباس اور نقاب پہنے نوجوانوں نے دکانوں کے شیشے توڑے، متعدد کاروباری مراکز اور سپر مارکیٹوں کو نشانہ بنایا اور لوٹ مار کی۔

اطالوی حکام کے مطابق دو روزہ ہنگاموں کے دوران 270 سے زائد افراد کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا، جن میں اکثریت کم عمر افراد کی تھی۔ پانچ نوجوانوں کو باقاعدہ تحویل میں بھی لیا گیا ہے۔

درجنوں اہلکار زخمی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہنگاموں کے دوران کم از کم 14 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مظاہرین میں زخمی ہونے والوں کی تعداد واضح نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالی نقصان لاکھوں یورو تک پہنچ سکتا ہے۔

ان واقعات کے بعد میلان میں کئی لگژری برانڈز کی دکانیں  عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں، جبکہ بعض کاروباری مراکز نے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

مزید سخت اقدامات پر غور

اطالوی حکومت صرف فوجی تعیناتی تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت عوامی اجتماعات  پر پابندیوں، کم عمر افراد کی حراست سے متعلق قوانین میں نرمی اور ہنگاموں میں ملوث نابالغوں کے والدین کے لیے سخت سزاؤں جیسے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

اٹلی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کی تصویر
وزیر اعظم جیورجیا میلونی کو اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔تصویر: Stefano Porta/LaPresse/AP Photo/picture alliance

نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی نے واقعات کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کرے گی۔

وزیر دفاع گوئیڈو کروسیٹو کا کہنا ہے کہ حکومت فوج کو عارضی طور پر پولیس جیسے اختیارات دینے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ اہلکار مؤثر انداز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر سکیں۔

انتخابات سے قبل میلونی پر دباؤ

اٹلی میں مہنگائی کی شرح اس وقت 4.2 فیصد ہے اور ملک بھر میں ہائی اسکول اور یونیورسٹی کے طلبہ، کسان اور ٹرک ڈرائیور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم جیورجیا میلونی گزشتہ چار برس سے دائیں بازو کے اتحاد کی قیادت کر رہی ہیں، تاہم اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل انہیں سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق معیشت، سکیورٹی اور امیگریشن آئندہ انتخابات کے اہم موضوعات ہوں گے، جبکہ میلان کے حالیہ ہنگاموں نے ان مباحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button