
پاکستان: پنجاب بھر میں خفیہ کیمروں والی سمارٹ عینکوں اور جاسوسی آلات کی خرید و فروخت پر 30 روزہ پابندی عائد
پابندی کا مقصد شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی نجی زندگی، عزت و وقار اور حساس معلومات کا تحفظ ہے، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور پی ٹی اے سے منظور شدہ ٹرمینل آلات مستثنیٰ قرار
ناصف اعوان-ادارت
لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں خفیہ کیمروں والی سمارٹ عینکوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء میں چھپے ریکارڈنگ آلات کے استعمال اور خرید و فروخت پر دفعہ 144 کے تحت 30 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابندی پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق اس پابندی کا اطلاق ان خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے آلات پر ہوگا جو بظاہر عام روزمرہ اشیاء کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے ذریعے خفیہ طور پر تصاویر، ویڈیوز اور آواز ریکارڈ کرنے یا منتقل کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ ان آلات کے غیر مجاز استعمال سے شہریوں کی نجی زندگی، ذاتی معلومات اور حساس مقامات کی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پابندی میں ایسی سمارٹ عینکیں شامل ہیں جن میں خفیہ کیمرے نصب ہوں، جبکہ پین، کی چین اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء میں چھپائے گئے مائیکرو کیمرے اور خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز بھی اس کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ ایسے آلات کا استعمال، خرید و فروخت اور کاروباری سطح پر ان کی فراہمی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق پابندی صرف روایتی دکانوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ پنجاب بھر میں ممنوعہ خفیہ ریکارڈنگ آلات کی آن لائن خرید و فروخت پر بھی اطلاق ہوگا۔ اس اقدام کے تحت کوئی دکاندار، تاجر یا ڈسٹری بیوٹر پابندی کے دائرے میں آنے والے آلات فروخت نہیں کر سکے گا۔ اس طرح خفیہ ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والی اشیاء کی دستیابی کو محدود کرنے اور ان کے ممکنہ غیر قانونی استعمال کی روک تھام کی کوشش کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق خفیہ ریکارڈنگ اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے آلات کا غیر مجاز استعمال شہریوں کی پرائیویسی کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ ان آلات کے ذریعے کسی شخص کی اجازت یا علم کے بغیر اس کی تصاویر، ویڈیوز یا گفتگو ریکارڈ کیے جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی طرح حساس معلومات کے افشا ہونے یا اہم مقامات کی نگرانی کے لیے ان کے استعمال سے سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پابندی کا بنیادی مقصد شہریوں کی نجی زندگی اور بنیادی وقار کا تحفظ یقینی بنانا ہے، بالخصوص خواتین اور بچوں کو خفیہ ریکارڈنگ کے ممکنہ غلط استعمال سے محفوظ رکھنا اس اقدام کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ عوامی مقامات، نجی رہائش گاہوں، دفاتر اور دیگر مقامات پر خفیہ طور پر ریکارڈنگ کیے جانے کے خدشات کے پیش نظر ایسے آلات کی خرید و فروخت اور استعمال کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ تمام الیکٹرانک آلات پر عمومی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، موبائل فونز اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منظور شدہ ٹرمینل آلات کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم پابندی کے دائرے میں آنے والی مخصوص خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز کی نوعیت اور ان کے استعمال سے متعلق اطلاق نوٹیفکیشن کی شرائط کے مطابق ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں پابندی کی مدت 30 روز مقرر کی گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ممنوعہ آلات کے استعمال، خرید و فروخت اور تقسیم کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
اس فیصلے کے بعد ایسے کاروباری افراد اور آن لائن فروخت کنندگان کو پابندی کے دائرے میں آنے والی مصنوعات کی فروخت سے گریز کرنا ہوگا۔ صارفین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خفیہ ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے آلات کی خریداری یا استعمال سے پہلے متعلقہ قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھیں، کیونکہ نوٹیفکیشن کے تحت ممنوع قرار دی گئی اشیاء کا استعمال یا کاروبار قانونی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے نزدیک جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی اور ریکارڈنگ کی سہولتوں میں اضافے نے نجی زندگی کے تحفظ کو ایک اہم چیلنج بنا دیا ہے۔ چھوٹے اور بظاہر عام اشیاء جیسے پین، عینک یا کی چین میں کیمرے نصب ہونے کی صورت میں کسی فرد کے لیے یہ جاننا مشکل ہو سکتا ہے کہ اس کی ریکارڈنگ کی جا رہی ہے یا نہیں۔ ایسے حالات میں ذاتی معلومات کے تحفظ، رضامندی اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق آگاہی بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت یہ پابندی ایسے وقت میں عائد کی گئی ہے جب ذاتی معلومات، شہریوں کی پرائیویسی اور حساس مقامات کی سکیورٹی کے تحفظ پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق اس اقدام کے ذریعے خفیہ ریکارڈنگ آلات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے اور شہریوں کے عزت و وقار کے تحفظ میں مدد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پابندی کا اطلاق صوبے بھر میں 30 روز کے لیے ہوگا، جبکہ اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سونپی گئی ہے۔ شہریوں اور کاروباری حلقوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن میں درج شرائط کی پابندی کریں اور ممنوعہ آلات کی خرید و فروخت یا استعمال سے اجتناب کریں۔



