
ٹرمپ کی مقبولیت تاریخی کم ترین سطح پر
پیر کو مکمل ہونے والے چار روزہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہنے والے امریکیوں کی شرح دو ہفتے قبل کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہوئی ہے۔
مدثر احمد-ادارت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی ہوئی ہے اور ان کی کارکردگی کی منظوری دینے والے امریکیوں کی شرح کم ہو کر 31 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دونوں صدارتی مدتوں کی کم ترین سطح ہے۔
روئٹرز / اِپسوس کے ایک تازہ سروے کے مطابق، ایندھن کی بلند قیمتوں پر تشویش کے باعث امریکی ووٹرز تین نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سزا دینے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
پیر کو مکمل ہونے والے چار روزہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہنے والے امریکیوں کی شرح دو ہفتے قبل کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہوئی ہے۔
سروے میں ووٹروں سے پوچھا گیا کہ اگر کانگریس کے انتخابات آج ہوں تو وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔ اس سوال کے جواب میں، جسے سیاسی سروے کی اصطلاح میں Generic Ballot کہا جاتا ہے، ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 47 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی۔
ڈیموکریٹس کو 12 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، جو موجودہ انتخابی دور میں ان کی سب سے بڑی برتری ہے۔ اس سے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی ڈیموکریٹس کی امیدوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
ریپبلکن پارٹی اگر کانگریس کے دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک کا کنٹرول بھی کھو دیتی ہے تو ٹرمپ کے لیے اپنی صدارتی مدت کے آخری دو برسوں میں سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔
Generic Ballot کے سروے ملک بھر میں رائے عامہ کا عمومی رجحان ظاہر کرتے ہیں، تاہم یہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول کا فیصلہ کرنے والے انفرادی ریاستوں اور انتخابی حلقوں کے مقابلوں کی تمام پیچیدگیوں کی عکاسی نہیں کرتے۔



