تازہ ترینیورپ

جرمنی میں نوجوانوں کی فرانس طرز کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی تیاری

فرانس میں رواں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا اور سرکاری و نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا تھا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

جواد احمد-ادارت
جرمنی میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ایک تحریک نے 31 اکتوبر کو ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔ تاہم اس تحریک نے فرانس میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد سے واضح طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
جن زی ریگلٹ (Gen Z regelt) نامی نوجوانوں کی اس تحریک نے ہفتے، 31 اکتوبر کو جرمنی کے 21 شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ ان شہروں میں برلن، کولون، ہیمبرگ اور میونخ بھی شامل ہیں۔
توقع ہے کہ ہزاروں نوجوان ان مظاہروں میں شرکت کریں گے۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں تعلیمی نظام کی خراب صورت حال، کفایت شعاری کی پالیسیاں، روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات، سماجی ناانصافی، لازمی فوجی بھرتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔
فرانس میں رواں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا اور سرکاری و نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ان مظاہروں کا آغاز بھی قومی تعلیمی نظام سے متعلق طلبہ کی بے اطمینانی سے ہوا، تاہم بعد ازاں متعدد مزدور یونینز، گروپس اور افراد مختلف مسائل پر اپنے غصے کے اظہار کے لیے اس احتجاج میں شامل ہو گئے۔
’جن زی ریگلٹ‘ کی ویب سائٹ پر واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کی پہل ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہے، خواہ اس کا نشانہ انسان ہوں یا املاک۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال پر ’’چوکس بھی ہیں اور پُرسکون بھی‘‘۔ ان کے مطابق، مظاہروں کے دوران لوگوں کے اجتماع اور اپنے خیالات کے اظہار کے حق کا تحفظ کیا جائے گا۔
تاہم فرانس، اٹلی اور اسپین میں بڑے پیمانے پر تباہی اور عوامی تشدد کے مناظر سامنے آنے کے بعد جرمنی میں بھی حکومتی پالیسی سازوں اور پولیس حکام میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مظاہروں کو بائیں بازو کے انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں میں جانے سے روکنا ضروری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button