پیر مشتاق رضویکالمز

استاد کا احترام – قوموں کے عروج کا راز…… پیر مشتاق رضوی

جتنا کوئی باپ اپنے بیٹے کی کامیابی پر ہوتا ہے، وہ اپنی تمام تر توانائیاں، اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اس قوم کے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں صرف کر دیتا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

استاد کو معمارِ قوم کہا جاتا ہے اور یہ محض ایک خوبصورت قول ہی نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اساتذہ کی عزت و تکریم کو اپنا شعار بنایا، جن معاشروں نے اپنے تعلیمی اداروں کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا، وہی قومیں دنیا میں عزت و وقار اور ترقی کی بلندیوں پر پہنچیں۔ اور جن قوموں نے استاد کی تذلیل کو معمول بنا لیا، جہاں اسکول کی چاردیواری کا احترام ختم ہو گیا، وہ قومیں زوال کی گہرائیوں میں گر گئیں۔ ہمارے پیارے دینِ اسلام نے استاد کو روحانی باپ کا درجہ عطا فرمایا ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ فرمان ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔ استاد وہ ہستی ہے جو اپنے شاگرد کی کامیابی پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کوئی باپ اپنے بیٹے کی کامیابی پر ہوتا ہے، وہ اپنی تمام تر توانائیاں، اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اس قوم کے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں صرف کر دیتا ہے۔بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے معاشرے میں ایک افسوسناک رویہ پروان چڑھ رہا تھا جس میں تعلیمی اداروں کے ماحول کو خراب کرنے اور اساتذہ کرام کی تذلیل کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔ کبھی کسی معمولی بات پر والدین کا غصے میں اسکول کے اندر داخل ہو کر اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی اور گالی گلوچ کرنا، کبھی راستے میں آتے جاتے اساتذہ یا طلبہ کو روک کر ہراساں کرنا، کبھی اسکول کی چاردیواری کو پھلانگ کر غیر قانونی طور پر اندر داخل ہو جانا، کبھی اسکول کی عمارت، فرنیچر، لیب اور دیگر قیمتی تعلیمی آلات کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانا، کبھی اسکول کی دیواروں پر وال چاکنگ کر کے اور نعرے لکھ کر اس کے حسن کو داغدار کرنا، اور سب سے بڑھ کر آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پر اساتذہ کی کردار کشی کرنا اور انہیں بلیک میل کرنا جیسے قبیح افعال نے ہمارے تعلیمی ماحول کو زہر آلود کر رکھا تھا۔ ان حالات میں اساتذہ عدم تحفظ کا شکار تھے اور وہ خوف کے سائے میں اپنے فرائض منصبی ادا کرنے پر مجبور تھے۔اسی سنگین صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے ایک انتہائی بروقت، جرات مندانہ، تاریخی اور قابلِ تحسین قدم اٹھایا ہے جس پر پوری قوم حکومت کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ حکومت نے سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں یعنی اسکول، کالج، اور یونیورسٹی کے تحفظ اور اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت اور ناقابلِ ضمانت قوانین بنا دیے ہیں۔ یہ قوانین محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان پینل کوڈ یعنی پی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت قابلِ عمل سزائیں ہیں اور یہ سزائیں اب ہر خاص و عام پر لاگو ہوں گی۔ ان جرائم کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو بھی شخص اس جرم کا مرتکب پایا جائے گا اس کی فوری ضمانت نہیں ہو سکے گی اور اسے قانون کی گرفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا۔ یہ قوانین صرف اسکول کی چار دیواری کے اندر ہی نہیں بلکہ اسکول کے باہر اور راستے میں بھی نافذ العمل ہوں گے تاکہ اساتذہ اور طلبہ کو ہر جگہ مکمل تحفظ حاصل ہو۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس فہرست میں نو بڑے جرائم کی سادہ تشریح اور ان کی سزاؤں کو واضح کیا گیا ہے۔ پہلا جرم اسکول کے اندر ڈیوٹی پر موجود کسی استاد یا عملے پر حملہ کرنا یا ان کے سرکاری کام میں مداخلت کرنا ہے اور اس پر دفعہ تین سو ترپن کے تحت دو سال تک قید اور جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے تاکہ استاد خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دے سکے۔ دوسرا جرم اسکول کی چاردیواری کے اندر غیر قانونی طور پر داخل ہونا یا ناجائز طور پر رہنے کی نیت سے گھسنا ہے جس پر دفعہ چار سو اکتالیس، چار سو سینتالیس اور چار سو اڑتالیس کے تحت دو سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے، کیونکہ تعلیمی ادارہ کوئی عوامی پارک نہیں کہ کوئی بھی جب چاہے اندر گھس آئے بلکہ اس کا ایک تقدس ہے۔ تیسرا اور انتہائی سنگین جرم اسکول کی عمارت، چاردیواری، مین گیٹ یا تعلیمی آلات جیسے فرنیچر، لیب اور دیگر سامان کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانا ہے جس پر دفعہ چار سو ستائیس اور چار سو چھتیس کے تحت سات سال تک قید اور جرمانے کی سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے کیونکہ ان آلات سے ہمارے بچوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ چوتھا جرم اسکول کی بیرونی دیواروں یا گیٹ پر وال چاکنگ کرنا، نعرے بازی کرنا یا گندگی پھیلانا ہے جس پر دفعہ چار سو ستائیس اور دو سو نوے کے تحت دو سال تک قید اور جرمانہ ہے۔ پانچواں اور سب سے عام جرم اسکول کے احاطے میں یا اس کے قریب کسی استاد یا طالب علم کے ساتھ گالی گلوچ، تذلیل یا بدسلوکی کرنا ہے چاہے وہ والدین ہی کیوں نہ ہوں، اس پر دفعہ پانچ سو چار کے تحت دو سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔چھٹا جرم اسکول کے اندر یا باہر کسی استاد یا طالب علم کو جان سے مارنے یا نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا ہے جو کہ انتہائی سنگین جرم ہے اور اس پر دفعہ پانچ سو چھ ٹو کے تحت سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ ساتواں جرم اسکول آتے جاتے راستے میں طلبہ یا اساتذہ کو روکنا اور ہراساں کرنا ہے جس پر دفعہ تین سو اکتالیس اور تین سو بیالیس کے تحت ایک سال تک قید اور جرمانہ ہو گا کیونکہ تعلیمی ادارے کا تحفظ راستے سے ہی شروع ہوتا ہے۔ آٹھواں جرم اسکول کے مین گیٹ کے سامنے یا قریب غیر قانونی مجمع لگانا، ہنگامہ آرائی یا دھرنا کرنا ہے جس پر دفعہ پانچ سو ایک اور ایک سو اڑتالیس کے تحت دو سال تک قید اور جرمانہ ہے۔ اور نواں اور موجودہ دور کا سب سے خطرناک جرم اسکول کے اندر یا باہر کسی استاد یا طالب علم کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنا، آن لائن ہراساں کرنا یا جھوٹی پوسٹیں لگا کر کردار کشی کرنا ہے جس پر دفعہ پانچ سو نو اور چار سو سینتالیس کے تحت تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہے۔یہ تمام قوانین اس بات کا واضح اور دوٹوک پیغام ہیں کہ ریاست اپنے اساتذہ کے ساتھ کھڑی ہے اور اب کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ تعلیمی ماحول کو خراب کرے۔ اب یہ ہماری یعنی والدین، طلبہ اور معاشرے کے ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے کہ ہم ان قوانین کا احترام کریں اور اپنے رویوں کو درست کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کو گھر سے ہی استاد کا ادب سکھانا ہو گا، انہیں بتانا ہو گا کہ استاد کی دعا ہی انہیں کامیاب انسان بنا سکتی ہے۔ اگر ہمیں کسی استاد سے یا اسکول سے کوئی شکایت ہے تو اس کا ایک مہذب اور قانونی طریقہ ہے، ہم پرنسپل یا انتظامیہ سے باوقار طریقے سے مل کر اپنی بات رکھ سکتے ہیں نہ کہ شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کر کے۔ ہمیں اسکول کی املاک کو اپنی ذاتی املاک سمجھ کر اس کی حفاظت کرنی چاہیے اور سوشل میڈیا پر لکھتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے الفاظ کسی استاد کی عزت کو مجروح نہ کریں۔ میں تمام اساتذہ کرام، والدین اور باشعور شہریوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس اہم پیغام کو اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہر شہری کو ان ناقابلِ ضمانت جرائم اور ان کی سزاؤں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔ آئیں مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کا ماحول پرامن، محفوظ اور باعزت بنائیں گے کیونکہ یاد رکھیں استاد بچے گا تو ہی ہمارا مستقبل بچے گا اور قوم ترقی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ آمین۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button