
مہمند ڈیم کی لاگت 666 ارب روپے تک پہنچ گئی، آٹھ سال میں 115 فیصد اضافہ، سی ڈی ڈبلیو پی نے منظوری کا فیصلہ مؤخر کر دیا
روپے کی قدر میں کمی، تعمیراتی تاخیر، ڈیزائن میں تبدیلیاں، 2022 کے سیلاب اور سیکیورٹی مسائل منصوبے کی لاگت بڑھنے کی اہم وجوہات قرار؛ واپڈا کے مطابق اضافے کا 51 فیصد زرمبادلہ کی شرح میں تبدیلی سے منسلک ہے
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان کے اہم آبی اور پن بجلی منصوبوں میں شامل مہمند ڈیم کی نظرِ ثانی شدہ لاگت 666 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو 2018 میں منظور کیے گئے ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 356 ارب روپے یا تقریباً 115 فیصد زیادہ ہے۔ منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت کا معاملہ رواں ہفتے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) کے اجلاس میں پیش کیا گیا، تاہم وقت کی کمی کے باعث اس پر فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔
منصوبے کی لاگت میں اضافے نے پاکستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی مالی منصوبہ بندی، روپے کی قدر میں کمی کے اثرات، تعمیراتی اخراجات اور غیر ملکی کرنسی میں طے شدہ معاہدوں سے متعلق اہم سوالات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔ واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، جو اس منصوبے کی تکمیل کی ذمہ دار ہے، نے نظرِ ثانی شدہ تخمینے میں لاگت 666 ارب روپے مقرر کی ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کی لاگت میں اضافے کی وجوہات میں روپے کی قدر میں کمی، تعمیراتی سامان اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ، ڈیزائن میں تبدیلیاں، 2022 کے تباہ کن سیلاب اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ واپڈا نے پلاننگ کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ مجموعی لاگت میں اضافے کا تقریباً 51 فیصد حصہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے متعلق ہے۔
2018 میں 310 ارب روپے کا منصوبہ، اب لاگت 666 ارب روپے
مہمند ڈیم منصوبے کی ابتدائی منظوری اپریل 2018 میں ایکنیک (ECNEC) کے اجلاس کے دوران دی گئی تھی۔ اس وقت منصوبے کی مجموعی لاگت 310 ارب روپے مقرر کی گئی تھی، جبکہ اسے ستمبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔
تاہم مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل نہ ہو سکا اور مختلف تکنیکی، مالی اور انتظامی عوامل کے باعث اس کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ تازہ تخمینے کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت اب 666 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ابتدائی تخمینے اور موجودہ لاگت کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو منصوبے پر اضافی مالی بوجھ 356 ارب روپے بنتا ہے۔ یوں آٹھ سال کے عرصے میں منصوبے کی لاگت تقریباً 115 فیصد بڑھ چکی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو محدود مالی وسائل، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ، درآمدی اخراجات اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
سی ڈی ڈبلیو پی کا فیصلہ مؤخر، مزید جائزے کی ضرورت
وفاقی حکام کے مطابق مہمند ڈیم کی نظرِ ثانی شدہ لاگت کا معاملہ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں زیرِ غور آیا، تاہم اجلاس میں وقت کی کمی کے باعث اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
سی ڈی ڈبلیو پی بڑے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے عمل میں ابتدائی سطح پر اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس فورم پر منصوبے کی لاگت، تکنیکی پہلوؤں، مالی جواز اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مزید منظوری یا حتمی توثیق کے لیے معاملہ ایکنیک کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
مہمند ڈیم کی نظرِ ثانی شدہ لاگت کے معاملے میں زرمبادلہ کی شرح، غیر ملکی کرنسی میں طے شدہ ادائیگیوں اور معاہداتی ذمہ داریوں کی جانچ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی لیے منصوبے کے اخراجات میں اضافے کی وجوہات اور ان کی مالی بنیاد کا تفصیلی جائزہ ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
لاگت میں اضافے کا 51 فیصد روپے کی قدر میں کمی سے منسلک
پلاننگ کمیشن کے حکام کے مطابق واپڈا نے وضاحت کی ہے کہ منصوبے کی لاگت میں مجموعی اضافے کا تقریباً 51 فیصد حصہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے متعلق ہے۔
پاکستان میں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں مقامی اور غیر ملکی کرنسی، دونوں طرح کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ جب کسی منصوبے کے لیے مشینری، تکنیکی خدمات، درآمدی سامان یا دیگر متعلقہ اشیا کی ادائیگیاں غیر ملکی کرنسی میں طے ہوں تو روپے کی قدر میں کمی ان اخراجات کی مقامی کرنسی میں مالیت بڑھا سکتی ہے۔
مہمند ڈیم کے معاملے میں بھی حکام نے بتایا کہ زرمبادلہ کی شرح میں تبدیلی کے نتیجے میں غیر ملکی حصے کی روپے میں مالیت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
تاہم محض شرحِ تبادلہ میں تبدیلی کی بنیاد پر پورے اضافے کو خودکار طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے معاہدوں کی شرائط، ادائیگیوں کے اصل شیڈول، غیر ملکی کرنسی میں واجبات اور دیگر متعلقہ مالی تفصیلات کا جائزہ ضروری ہے۔
پلاننگ کمیشن نے ڈالر میں ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کر لیں
منصوبے کی لاگت کا جائزہ لیتے ہوئے پلاننگ کمیشن نے واپڈا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈالر میں طے شدہ معاہداتی ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرنے کو کہا گیا کہ شرحِ تبادلہ میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والا اضافی مالی بوجھ کس حد تک منصوبے کی نظرِ ثانی شدہ لاگت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ غیر ملکی کرنسی میں طے شدہ معاہدوں کے تحت اصل ادائیگیوں کی ذمہ داری کیا ہے اور روپے کی قدر میں کمی کا حقیقی اثر کتنا بنتا ہے۔
اس ضمن میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ کسی معاہدے کی غیر ملکی کرنسی میں طے شدہ رقم کو محض موجودہ شرحِ تبادلہ کے مطابق تبدیل کر کے اضافی لاگت کا تعین نہیں کیا جا سکتا، جب تک معاہدے کی متعلقہ شرائط اور اصل ادائیگیوں کی ذمہ داریوں کا تعین نہ ہو جائے۔
اسی لیے غیر ملکی کرنسی میں ادائیگیوں سے متعلق معاہداتی دفعات، ادائیگیوں کے طریقۂ کار اور شرحِ تبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔ اس عمل سے یہ واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ لاگت میں اضافے کا کون سا حصہ حقیقی مالی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے اور کون سے اخراجات کی مزید وضاحت درکار ہے۔
منصوبے کی لاگت میں اضافے کی دیگر وجوہات
روپے کی قدر میں کمی کے علاوہ مہمند ڈیم کی تعمیر میں تاخیر اور اخراجات بڑھنے کی متعدد وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔
منصوبے کی انتظامیہ کی جانب سے پلاننگ کمیشن کو دی گئی وضاحت کے مطابق تعمیراتی کام کی مدت بڑھنے، قیمتوں میں اضافے، ڈیزائن میں تبدیلیوں، 2022 کے سیلاب اور سیکیورٹی کے مسائل نے منصوبے کے مالی تخمینے کو متاثر کیا۔
تعمیراتی منصوبوں میں مدت بڑھنے سے مزدوری، مشینری، انتظامی اخراجات اور دیگر خدمات پر ہونے والے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ڈیزائن میں تبدیلیاں اضافی انجینئرنگ، تعمیراتی کام اور سامان کی ضروریات پیدا کر سکتی ہیں۔
2022 کے سیلاب نے بھی منصوبے کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ سیلابی صورتحال اور دیگر رکاوٹوں کے باعث تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہونے سے مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔
ان تمام عوامل کے مشترکہ اثرات نے منصوبے کی مجموعی لاگت میں اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم ہر عامل کے الگ الگ مالی اثرات کا درست تعین متعلقہ دستاویزات اور تفصیلی حسابات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
تعمیراتی لاگت اور بجلی کی پیداوار کے اخراجات میں نمایاں اضافہ
منصوبے کی لاگت سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی رقم میں تعمیراتی ڈیم اور بجلی کی پیداوار سے متعلق اخراجات کے الگ الگ حصے بھی شامل ہیں۔
ڈیم کی تعمیر سے متعلق لاگت کا تخمینہ ابتدائی طور پر تقریباً 114 ارب روپے تھا، جو اب بڑھ کر 267 ارب روپے ہو گیا ہے۔ اس طرح اس حصے کی لاگت میں تقریباً 153 ارب روپے یا 134 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح بجلی کی پیداوار سے متعلق اخراجات تقریباً 195 ارب روپے سے بڑھ کر 399 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ تقریباً 204 ارب روپے یا 105 فیصد بنتا ہے۔
ان دونوں حصوں کی مجموعی لاگت 666 ارب روپے بنتی ہے، جو منصوبے کے تازہ مجموعی تخمینے کے مطابق ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لاگت میں اضافہ صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ تعمیراتی کام اور بجلی پیدا کرنے کے نظام سے متعلق اخراجات دونوں متاثر ہوئے ہیں۔
57 فیصد تعمیراتی کام مکمل، 275 ارب روپے خرچ
منصوبے کی دستاویزات کے مطابق گزشتہ ماہ تک مہمند ڈیم کا تقریباً 57 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا تھا، جبکہ اس پر مجموعی طور پر 275 ارب روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔
اس پیش رفت کے باوجود منصوبے کی تکمیل میں تاخیر اور نظرِ ثانی شدہ لاگت میں اضافے نے مالی منصوبہ بندی کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ باقی ماندہ تعمیراتی کام کی تکمیل کے لیے درکار فنڈز، مقررہ اہداف اور نئی تکمیلی مدت منصوبے کے مستقبل کے اہم معاملات ہوں گے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ تعمیراتی کام کی تکمیل کی شرح اور مالی اخراجات کی شرح لازماً یکساں نہیں ہوتیں، کیونکہ منصوبے کے مختلف مراحل میں مشینری، بنیادی ڈھانچے اور دیگر بڑے اخراجات کی ادائیگی مختلف اوقات میں ہوتی ہے۔
تعمیراتی معاہدہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے مشترکہ منصوبے کے تحت
مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ چائنا گیزوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ (CGGC) اور پاکستان کی ڈیسکون انجینئرنگ لمیٹڈ کے مشترکہ منصوبے کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے۔
اس نوعیت کے بڑے آبی اور پن بجلی منصوبوں میں مقامی تعمیراتی صلاحیت، بین الاقوامی تکنیکی مہارت، مشینری، درآمدی سامان اور مالی انتظامات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیوں کی شمولیت کے باعث بعض معاہداتی ادائیگیاں غیر ملکی کرنسی سے منسلک ہو سکتی ہیں، جس سے شرحِ تبادلہ میں تبدیلی منصوبے کے مالی تخمینے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
تاہم منصوبے کی مجموعی لاگت میں اضافے کا مکمل جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے کے مختلف اجزا، مقامی اخراجات اور غیر ملکی ادائیگیوں کو الگ الگ دیکھا جائے۔
عالمی بینک کی رپورٹ اور روپے کی قدر پر بحث
مہمند ڈیم کی لاگت میں اضافے کے معاملے کے ساتھ پاکستان میں روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ پر بحث بھی دوبارہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
پاکستان کا درآمدات اور بیرونی مالی وسائل پر انحصار ملکی معیشت کے مختلف شعبوں کو زرمبادلہ کی شرح میں تبدیلی سے متاثر کرتا ہے۔ اس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں سے لے کر توانائی، صنعتی پیداوار اور بڑے ترقیاتی منصوبوں تک دیکھے جا سکتے ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق عالمی بینک نے رواں ہفتے پاکستان کی کرنسی مارکیٹ کے حالات اور شرحِ تبادلہ کے ردعمل سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ اسی تناظر میں جون کے دوران مارکیٹ ریٹ اور روزانہ کے نرخ کے درمیان تقریباً 10 فیصد فرق کا تخمینہ بھی بیان کیا گیا، جبکہ مرکزی بینک کے ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (REER) سے متعلق تخمینے میں یہ فرق تقریباً 8 فیصد بتایا گیا۔
یہ اعداد و شمار شرحِ تبادلہ کے تعین اور مارکیٹ کے حالات کے بارے میں جاری بحث کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم ان تخمینوں کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے متعلقہ رپورٹ، اس کے طریقۂ حساب اور زیرِ جائزہ مدت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اس بحث کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غیر ملکی کرنسی میں طے شدہ ادائیگیوں کی مقامی کرنسی میں لاگت روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ بڑھ سکتی ہے۔
مہمند ڈیم پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
مہمند ڈیم کو پاکستان کے اہم آبی ذخائر اور پن بجلی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، بجلی کی پیداوار اور پشاور کو پینے کے پانی کی فراہمی جیسے اہم فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد:
- پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت: پاکستان کے آبی ذخائر میں تقریباً 1.29 ملین ایکڑ فٹ کا اضافہ ہوگا۔
- بجلی کی پیداوار: قومی گرڈ کو سالانہ تقریباً 2.9 ارب یونٹ بجلی فراہم کرنے کی توقع ہے۔
- پشاور کے لیے پانی: شہر کو سالانہ تقریباً 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے گا۔
ان فوائد کے باعث یہ منصوبہ پانی کے انتظام، توانائی کی ضروریات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کو طویل عرصے سے پانی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید سیلابوں اور خشک سالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں آبی ذخائر کی تعمیر پانی کے بہتر انتظام اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد دے سکتی ہے۔
پن بجلی کی پیداوار سے قومی گرڈ میں بجلی کی فراہمی میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ تاہم منصوبے کے حقیقی معاشی اور سماجی فوائد کا انحصار اس کی بروقت تکمیل، مؤثر آپریشن اور پانی و توانائی کے بہتر انتظام پر ہوگا۔
مالی شفافیت اور بروقت تکمیل اہم چیلنجز
مہمند ڈیم کی لاگت میں 115 فیصد اضافے اور سی ڈی ڈبلیو پی کی جانب سے فیصلہ مؤخر کیے جانے کے بعد منصوبے کی مالی شفافیت، نظرِ ثانی شدہ تخمینے کی بنیاد اور باقی ماندہ کام کی تکمیل اہم سوالات بن گئے ہیں۔
منصوبے کے لیے ضروری ہوگا کہ اضافی اخراجات کی وجوہات واضح کی جائیں، غیر ملکی کرنسی میں ادائیگیوں کے معاہداتی پہلوؤں کی جانچ مکمل کی جائے اور باقی تعمیراتی کام کے لیے حقیقت پسندانہ مالی و انتظامی منصوبہ بندی کی جائے۔
اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ منصوبے کی نظرِ ثانی شدہ لاگت اور تکمیلی مدت سے متعلق فیصلے واضح بنیادوں پر کیے جائیں تاکہ مزید تاخیر اور غیر متوقع اخراجات کے امکانات کو محدود کیا جا سکے۔
مہمند ڈیم کی تکمیل پاکستان کی آبی ضروریات، بجلی کی پیداوار اور پشاور کو پانی کی فراہمی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے سے متوقع فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لاگت میں اضافے کی وجوہات کا شفاف جائزہ لیا جائے، مالی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی کام کو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔



