
پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ برقرار، ہفتہ وار شرح میں 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ مہنگائی 11.85 فیصد تک پہنچ گئی
ایل پی جی کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران 22.44 فیصد اضافہ، مرغی اور آٹا بھی مہنگے؛ ٹماٹر اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی، عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ سے عوامی اخراجات بڑھنے کا خدشہ
احسان احمد-ادارت
کراچی: پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کو ریلیف ملنے کی امیدیں محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 22 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریے (Sensitive Price Indicator — SPI) میں ہفتہ وار بنیادوں پر 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11.85 فیصد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق اشیائے ضروریہ پر مشتمل حساس قیمت اشاریہ بڑھ کر 374.84 کی سطح پر پہنچ گیا، جو گزشتہ ہفتے 372.43 اور گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 335.14 تھا۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ بعض اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار کمی بھی ریکارڈ کی گئی، تاہم مجموعی طور پر مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کا یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گھریلو صارفین پہلے ہی بجلی، گیس، ایندھن، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات سے متاثر ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی محدود آمدنی والے خاندانوں کے ماہانہ بجٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
حساس قیمت اشاریہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق حساس قیمت اشاریہ ملک میں روزمرہ استعمال کی منتخب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا ہفتہ وار جائزہ فراہم کرتا ہے۔
تازہ اعداد و شمار 17 شہروں کی 50 منڈیوں میں 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مبنی ہیں۔ اس اشاریے میں خوراک، ایندھن، گھریلو استعمال کی اشیا اور دیگر بنیادی ضروریات شامل ہیں، جن کی قیمتوں میں تبدیلی عام صارفین کی قوتِ خرید پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اشاریے کی سطح کا 372.43 سے بڑھ کر 374.84 تک پہنچنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران مجموعی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ سالانہ بنیادوں پر اشاریے کا 335.14 سے بڑھ کر 374.84 تک پہنچنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم ہفتہ وار اور سالانہ مہنگائی کے اعداد و شمار میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہفتہ وار شرح مختصر مدت کے دوران قیمتوں کی تبدیلی بتاتی ہے، جبکہ سالانہ شرح گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں قیمتوں کے مجموعی فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
کم آمدنی والے طبقے کو نسبتاً کم مہنگائی کا سامنا
تازہ اعداد و شمار کے مطابق کم ترین آمدنی والے طبقے کے لیے سالانہ مہنگائی کی شرح 8.45 فیصد جبکہ ہفتہ وار اضافہ 0.51 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس طبقے میں وہ گھرانے شامل ہیں جن کے ماہانہ اخراجات 17,732 روپے تک ہیں۔
اس کے برعکس سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے کے لیے سالانہ مہنگائی کی شرح 12.69 فیصد اور ہفتہ وار اضافہ 0.74 فیصد بتایا گیا ہے۔
اعداد و شمار میں کم آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ان گھرانوں کی مالی مشکلات کم ہو گئی ہیں۔ محدود آمدنی والے خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے چند اہم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بھی ان کے لیے شدید مالی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ مختلف آمدنی والے طبقات کے مہنگائی کے اشاریوں میں فرق اشیائے ضروریہ کے استعمال اور ان کے اخراجات کے تناسب سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے مہنگائی کے اثرات کا درست جائزہ لینے کے لیے شرح کے ساتھ ساتھ حقیقی آمدنی اور قوتِ خرید کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ایل پی جی کی قیمت میں 22.44 فیصد اضافہ، مرغی بھی مہنگی
ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں اضافے کی فہرست میں لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) سرفہرست رہی، جس کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 22.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایل پی جی گھریلو کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والا اہم ایندھن ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی محدود ہے یا دستیاب نہیں۔ اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ براہِ راست گھریلو اخراجات کو متاثر کر سکتا ہے۔
دیگر اشیا کی ہفتہ وار قیمتوں میں درج ذیل تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں:
- ایل پی جی: 22.44 فیصد اضافہ
- برائلر مرغی: 12.20 فیصد اضافہ
- پیاز: 4.19 فیصد اضافہ
- شرٹنگ کپڑا: 1.86 فیصد اضافہ
- سادہ ڈبل روٹی: 1.66 فیصد اضافہ
- گندم کا آٹا: 1 فیصد اضافہ
مرغی کی قیمت میں 12.20 فیصد ہفتہ وار اضافے نے خوراک کے اخراجات پر مزید دباؤ ڈالا، جبکہ آٹے اور ڈبل روٹی کی قیمتوں میں اضافہ بھی عام صارفین کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ اشیا روزمرہ خوراک کا بنیادی حصہ ہیں۔
پیاز کی قیمت میں اضافے سے بھی گھریلو باورچی خانے کا بجٹ متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب کپڑے کی قیمتوں میں اضافہ عام گھریلو اخراجات کے ساتھ ساتھ محدود آمدنی والے صارفین کے لیے غیر خوراکی ضروریات کو پورا کرنا بھی مشکل بنا سکتا ہے۔
ٹماٹر، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی
ہفتے کے دوران کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جس سے صارفین کو جزوی ریلیف ملا۔
اعداد و شمار کے مطابق:
- ٹماٹر: 21.99 فیصد کمی
- پیٹرول: 3.63 فیصد کمی
- کیلے: 2.42 فیصد کمی
- ڈیزل: 1.68 فیصد کمی
ٹماٹر کی قیمت میں نمایاں کمی نے خوراک کے بعض اخراجات کم کرنے میں مدد دی، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات پر ممکنہ طور پر کچھ مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک پہنچنے کا انحصار ٹرانسپورٹ کرایوں، سپلائی چین کے اخراجات اور دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی ایک ہفتے میں قیمتوں میں کمی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مہنگائی کا مجموعی دباؤ ختم ہو گیا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 51 اشیا میں سے 19 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 12 کی قیمتوں میں کمی آئی، جبکہ 20 اشیا کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کی سطح پر برقرار رہیں۔
یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ قیمتوں میں تبدیلی یکساں نہیں رہی، بلکہ مختلف اشیا کی طلب، رسد اور دیگر عوامل کے مطابق الگ الگ رجحانات سامنے آئے۔
سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی، پیاز اور بجلی کے نرخوں میں بڑا اضافہ
سالانہ بنیادوں پر بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے مہنگائی کے مجموعی دباؤ کو مزید بڑھایا ہے۔
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں قیمتوں میں درج ذیل اضافے ریکارڈ کیے گئے:
- ایل پی جی: 107 فیصد اضافہ
- پیاز: 73 فیصد اضافہ
- بجلی، پہلی سہ ماہی کے لیے: 59 فیصد اضافہ
- پیٹرول: 44 فیصد اضافہ
- ڈیزل: 42 فیصد اضافہ
- چکن: 39 فیصد اضافہ
- گندم کا آٹا: 36 فیصد اضافہ
ایل پی جی کی قیمت میں سالانہ 107 فیصد اضافے کا مطلب ہے کہ اس کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، اگر فراہم کردہ شرح متعلقہ اشاریے اور تقابلی مدت کے مطابق درست ہے۔
اسی طرح پیاز، آٹے اور مرغی کی قیمتوں میں اضافے سے خوراک کے اخراجات پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ بجلی اور ایندھن کی قیمتیں گھریلو بجٹ کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
توانائی کے اخراجات میں اضافہ اکثر دیگر اشیا کی قیمتوں تک بھی منتقل ہو سکتا ہے، کیونکہ پیداوار، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور اشیا کی ترسیل کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے۔ تاہم ہر شے کی قیمت پر اس اثر کی شدت مختلف ہو سکتی ہے۔
عالمی تیل منڈی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات
عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتِ حال پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے اہم معاشی چیلنج ہے۔
فراہم کردہ معلومات میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 112 سے 117 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم اس مخصوص قیمت کی موجودہ حیثیت کی آزادانہ تصدیق کے بغیر اسے حتمی یا مستند موجودہ نرخ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں میں ممکنہ خلل، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی تنصیبات کو لاحق خطرات عالمی منڈی میں رسد اور قیمتوں کے بارے میں خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر ان عوامل کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو پاکستان کے درآمدی بل، ایندھن کی مقامی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا اثر صرف انفرادی صارفین تک محدود نہیں رہتا۔ مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات بھی ایندھن کی قیمتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اگرچہ مقامی ایندھن کی قیمتوں کا حتمی تعین حکومتی پالیسی، ٹیکسوں، لیویز، شرحِ تبادلہ اور متعلقہ قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
ماہانہ مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں سے متعلق خدشات
فراہم کردہ معاشی تجزیے میں آئندہ ماہانہ افراطِ زر کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ آپ کے فراہم کردہ متن کے مطابق ماہانہ عمومی مہنگائی میں تقریباً 0.9 فیصد اضافے اور سالانہ شرح 9.4 فیصد رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ بنیادی مہنگائی میں 0.8 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اسی تجزیے میں توانائی کے اشاریے میں ماہانہ بنیادوں پر 2.6 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ موٹر ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 9.3 فیصد اور مائع ہائیڈروکاربن کی قیمتوں میں 11.3 فیصد ماہانہ اضافے کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔
اس کے نتیجے میں ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بالترتیب 0.7 فیصد اور 6.7 فیصد ماہانہ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار پیش گوئی یا تخمینے کے طور پر دیکھے جانے چاہییں، نہ کہ پہلے سے ریکارڈ شدہ نتائج کے طور پر۔ مزید یہ کہ ہفتہ وار حساس قیمت اشاریہ اور ماہانہ صارف قیمت اشاریہ مختلف پیمانے ہیں؛ ان کے نتائج کا براہِ راست موازنہ کرتے وقت متعلقہ مدت اور طریقۂ حساب کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے باعث ماہانہ مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم حتمی شرح کا انحصار خوراک کی قیمتوں، مقامی رسد، ایندھن کی قیمتوں اور دیگر معاشی عوامل پر ہوگا۔
عام شہری کے لیے مہنگائی کے کیا معنی ہیں؟
مہنگائی کی موجودہ صورتِ حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا عام گھرانے کے بجٹ پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
ایل پی جی، آٹا، مرغی، پیاز اور بجلی جیسی اشیا اور خدمات روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ گھرانوں کو اپنے اخراجات میں ردوبدل کرنے، غیر ضروری خریداری کم کرنے اور بعض اوقات خوراک یا دیگر بنیادی ضروریات پر اخراجات محدود کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
کم آمدنی والے افراد کے لیے یہ دباؤ مزید شدید ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی آمدنی میں اضافے کی رفتار اگر اشیا کی قیمتوں سے کم ہو تو حقیقی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔
کاروباری شعبہ بھی اس صورتِ حال سے متاثر ہو سکتا ہے۔ خام مال، بجلی، ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے کاروبار اپنی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں، جس کے اثرات بالآخر صارفین تک منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
دوسری جانب، بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی سے محدود ریلیف مل سکتا ہے، لیکن مجموعی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے اسباب، رسد کی صورتِ حال اور توانائی کے اخراجات کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔
مہنگائی پر قابو پانے کے لیے معاشی استحکام ضروری
پاکستان میں مہنگائی کی تازہ صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے صرف چند اشیا کی قیمتوں میں عارضی کمی کافی نہیں۔ اس کے لیے معاشی استحکام، توانائی کے اخراجات میں قابلِ برداشت سطح، رسد کے مؤثر نظام اور ضروری اشیا کی منڈیوں میں نگرانی اہم عوامل ہیں۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ مہنگائی سے متاثرہ گھرانوں کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے اقدامات پر توجہ دے جو کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید کو تحفظ فراہم کریں۔ اسی طرح مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں کی نگرانی بھی اہم ہے۔
عالمی توانائی منڈی میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے پیش نظر درآمدی اخراجات اور شرحِ تبادلہ کے اثرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے، تاکہ معاشی پالیسی اور مالی منصوبہ بندی میں ممکنہ خطرات کو بروقت مدنظر رکھا جا سکے۔
مجموعی طور پر 22 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں حساس قیمت اشاریہ ہفتہ وار بنیادوں پر 0.65 فیصد بڑھا، جبکہ سالانہ مہنگائی 11.85 فیصد کی سطح پر برقرار رہی۔ ایل پی جی، مرغی، پیاز اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات پر دباؤ بڑھایا، اگرچہ ٹماٹر اور بعض ایندھن کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
آئندہ ہفتوں میں مہنگائی کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ مقامی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں، عالمی توانائی منڈی، روپے کی قدر اور رسد و طلب کے عوامل کس سمت میں جاتے ہیں۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



