
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے، غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹیں دور کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا عمل تیز کر دیا ہے۔ صنعت و پیداوار کے امور پر وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پیچیدہ قوانین، غیر ضروری طریقہ کار اور ایک دوسرے سے متصادم ضوابط پاکستان میں کاروبار کرنے میں مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں کو بھی متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد ایسا کاروباری ماحول تشکیل دینا ہے جہاں سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو غیر ضروری انتظامی پیچیدگیوں سے نجات ملے، کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے مراحل آسان ہوں اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کیے جا سکیں۔
گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے بتایا کہ حکومت ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں پر اثر انداز ہونے والے قوانین، ضوابط اور ریگولیٹری اداروں کا جامع جائزہ لے رہی ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد ایسے قواعد کی نشاندہی کرنا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ غیر ضروری، تکراری یا کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔
78 برسوں میں ضوابط کا پیچیدہ نظام تشکیل پایا
وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد گزشتہ 78 برسوں کے دوران مختلف قومی، معاشی اور انتظامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متعدد قوانین اور ضوابط متعارف کرائے گئے۔ تاہم، وقت کے ساتھ ان قوانین میں اضافے کے نتیجے میں بعض شعبوں میں غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جبکہ متعدد تقاضے ایک دوسرے سے متصادم یا دہرائے جانے لگے۔
ان کے مطابق، ایسے ضابطہ جاتی مسائل کاروباری اداروں کے لیے اپنے معاملات مؤثر انداز میں چلانا مشکل بنا دیتے ہیں۔ کاروباری افراد کو مختلف اداروں سے اجازت نامے حاصل کرنے، متعدد مراحل سے گزرنے اور یکساں نوعیت کی معلومات بار بار فراہم کرنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت اب اس پورے نظام کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ایسے ضوابط کو ختم یا آسان بنایا جا سکے جن کی موجودہ حالات میں ضرورت باقی نہیں رہی یا جن کے مقاصد دیگر قوانین کے ذریعے پہلے ہی پورے ہو رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس عمل کو کاروباری ماحول کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اصلاحات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ غیر ضروری رکاوٹیں دور کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری قانونی نگرانی، شفافیت، عوامی مفادات اور کاروباری احتساب کو بھی برقرار رکھا جائے۔
اصلاحاتی عمل 60 سے 70 فیصد مکمل ہونے کا دعویٰ
ہارون اختر خان نے بتایا کہ کاروباری ضوابط کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی تجاویز مرتب کرنے کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، مجموعی اصلاحاتی کام کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف سرکاری اداروں اور متعلقہ ریگولیٹرز کی جانب سے پیش کی جانے والی اصلاحاتی تجاویز میں اوسطاً 70 سے 75 فیصد غیر ضروری یا تکراری ضوابط کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودہ ضابطہ جاتی نظام کے متعدد حصوں کو سادہ بنانے اور کاروباری اداروں پر انتظامی بوجھ کم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم، غیر ضروری ضوابط کے خاتمے سے متعلق سفارشات اور ان پر حتمی عمل درآمد دو الگ مراحل ہیں، اس لیے ان تجاویز کے عملی نتائج کا انحصار متعلقہ اداروں کی منظوری، قانونی تقاضوں اور نفاذ کے طریقہ کار پر ہوگا۔
مشیر نے کہا کہ حکومت اصلاحاتی عمل کو محض تجاویز کی تیاری تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ منظور شدہ اقدامات پر بروقت پیش رفت ہو اور ان کے اثرات کاروباری شعبے تک پہنچیں۔
ہر دو ہفتے بعد جائزہ اجلاس، عمل درآمد پر توجہ
اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے حکومت ہر دو ہفتے بعد جائزہ اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ ان اجلاسوں میں مختلف اداروں کی پیش رفت، مجوزہ تبدیلیوں کی صورتِ حال اور عمل درآمد میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ہارون اختر خان کے مطابق، کئی مجوزہ اصلاحات پر عمل درآمد شروع بھی ہو چکا ہے، جبکہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات وضع کیے جا رہے ہیں۔
کاروباری حلقوں کے لیے ضابطہ جاتی نظام میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر قوانین واضح ہوں، اجازت ناموں کے حصول کا طریقہ کار سادہ ہو اور مختلف اداروں کے تقاضوں میں ہم آہنگی موجود ہو تو کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری، توسیع اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ اصلاحات کے ذریعے کاروباری اداروں کے وقت اور وسائل کے ضیاع کو کم کیا جائے اور انہیں غیر ضروری انتظامی مراحل کے بجائے پیداوار، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کاروبار کی ترقی پر توجہ دینے کا موقع ملے۔
آسان کاروبار ایکٹ: سرمایہ کار دوست ماحول کی جانب اہم قدم
وزیراعظم کے مشیر نے مجوزہ آسان کاروبار ایکٹ (Asaan Karobar Act) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان میں ایسا کاروباری ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی ہے جو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ ہو۔
مجوزہ قانون کا مقصد کاروباری طریقہ کار کو آسان بنانا، تعمیلی اخراجات کم کرنا اور کاروباری اداروں کے لیے ایک زیادہ واضح، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی نظام تشکیل دینا ہے۔
تعمیلی اخراجات سے مراد وہ مالی اور انتظامی وسائل ہیں جو کاروباری اداروں کو قوانین کی پابندی، دستاویزات کی تیاری، مختلف اجازت ناموں کے حصول، رپورٹنگ اور دیگر لازمی کارروائیوں پر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اگر ان مراحل کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ رکھا جائے تو کاروبار چلانے کی مجموعی لاگت بڑھ سکتی ہے، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
آسان کاروبار ایکٹ کے ذریعے حکومت ان مسائل کو کم کرنے اور کاروباری اداروں کے لیے نسبتاً سادہ طریقہ کار متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم، اس مجوزہ قانون کے عملی اثرات کا تعین اس کے حتمی متن، پارلیمانی و قانونی مراحل، متعلقہ اداروں کے اختیارات اور نفاذ کے طریقہ کار سے ہوگا۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کی توقعات پوری کرنے کے لیے ضروری ہوگا کہ اصلاحات کے تحت واضح قواعد، یکساں اطلاق اور شکایات کے مؤثر ازالے کا نظام بھی فراہم کیا جائے۔
کمپنیز ایکٹ 2017 میں 170 ترامیم کی منظوری
ہارون اختر خان نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں 170 ترامیم کی منظوری دے دی ہے اور متعلقہ بل پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق، مجوزہ ترامیم کا مقصد کمپنیوں کی رجسٹریشن اور کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنا اور پاکستان کے کارپوریٹ ریگولیٹری نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
کمپنیوں کی رجسٹریشن، قانونی حیثیت، انتظامی امور اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق قوانین کسی بھی ملک کے سرمایہ کاری کے ماحول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان قوانین کے تحت طریقہ کار واضح اور غیر ضروری پیچیدگیوں سے پاک ہو تو کاروباری اداروں کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا اور اپنے معاملات منظم انداز میں چلانا آسان ہو سکتا ہے۔
مجوزہ ترامیم کے ذریعے حکومت کارپوریٹ شعبے کے لیے زیادہ سہل قانونی ڈھانچہ فراہم کرنے کی خواہاں ہے۔ تاہم، چونکہ متعلقہ بل پارلیمنٹ کو بھیجا گیا ہے، اس لیے ان ترامیم کو حتمی طور پر نافذ العمل قرار دینے سے پہلے پارلیمانی کارروائی اور قانون سازی کے باقی مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔
کاروباری حلقوں کے لیے یہ پیش رفت اہم سمجھی جا سکتی ہے، کیونکہ کمپنیوں سے متعلق قوانین میں بہتری نہ صرف نئی کمپنیوں کے قیام میں سہولت پیدا کر سکتی ہے بلکہ موجودہ کاروباری اداروں کے انتظامی اخراجات اور قانونی پیچیدگیوں میں کمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے نظاموں کا مطالعہ
وزیراعظم کے مشیر نے بتایا کہ پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات کے لیے بین الاقوامی نظاموں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی ریاست ڈیلاویئر، برطانیہ اور کینیڈا کے کاروباری و قانونی ڈھانچوں کو بطور معیار سامنے رکھا گیا ہے۔
ڈیلاویئر کو امریکہ میں کمپنیوں کی رجسٹریشن اور کارپوریٹ قانون کے حوالے سے ایک نمایاں مقام حاصل ہے، جبکہ برطانیہ اور کینیڈا کے نظام بھی کاروباری ضوابط اور کارپوریٹ انتظام کے مطالعے کے لیے اہم مثالیں فراہم کرتے ہیں۔
ہارون اختر خان کے مطابق، اصلاحاتی عمل میں معاونت کے لیے ایک سینئر بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں، جنہیں 135 ممالک میں ریگولیٹری اصلاحات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے کا مقصد ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کرنا ہے جو پاکستان کے قانونی، انتظامی اور معاشی حالات کے مطابق اختیار کیے جا سکیں۔ تاہم، مختلف ممالک کے قوانین کو براہِ راست اپنانے کے بجائے انہیں مقامی ضروریات، ادارہ جاتی صلاحیت اور ملکی کاروباری ماحول سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہوگا۔
مختلف شعبوں میں ریگولیٹری جائزے جاری
ہارون اختر خان نے بتایا کہ حکومت کی اصلاحاتی سرگرمیاں کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ مختلف صنعتوں اور خدمات کے شعبوں میں ضابطہ جاتی جائزے جاری ہیں۔
ان کے مطابق، ڈیری، سمندری امور، مشروبات، آئل ریفائنریز، دوا سازی اور ریستورانوں سمیت متعدد شعبوں کے قوانین اور ضوابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں کی نوعیت، قانونی تقاضے اور نگرانی کے طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر، خوراک اور ڈیری کے شعبوں میں معیار اور صارفین کی صحت سے متعلق ضوابط اہم ہیں، جبکہ دوا سازی میں ادویات کے معیار، حفاظت اور قانونی نگرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسی طرح، سمندری امور، تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور مشروبات کی صنعت میں حفاظتی، ماحولیاتی اور تکنیکی تقاضوں کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔
اس لیے ریگولیٹری اصلاحات کے دوران غیر ضروری کارروائیوں اور تکراری تقاضوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی صحت، ماحول، صارفین کے حقوق اور صنعتی تحفظ سے متعلق ضروری ضوابط کو برقرار رکھنا بھی اہم ہوگا۔
ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کیا اہمیت ہے؟
پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی، قوانین کا استحکام، انتظامی شفافیت اور پالیسیوں میں تسلسل اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار کسی ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے صرف منافع کے امکانات ہی نہیں دیکھتے بلکہ قانونی تحفظ، اجازت ناموں کے حصول، ٹیکس نظام، تنازعات کے حل اور کاروباری سرگرمیوں میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔
اگر ضابطہ جاتی نظام غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہو، مختلف اداروں کے تقاضے ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں یا فیصلوں میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو تو سرمایہ کاری کے فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، واضح قوانین اور مؤثر انتظامی طریقہ کار سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری اصلاحاتی عمل اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ اگر مجوزہ اقدامات مؤثر انداز میں نافذ ہوتے ہیں تو ان سے کاروباری اخراجات کم کرنے، کمپنیوں کے قیام میں سہولت پیدا کرنے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے نسبتاً سازگار ماحول تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، سرمایہ کاری کے حقیقی فروغ کے لیے صرف ضوابط میں تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔ توانائی کی لاگت، مالیاتی استحکام، ٹیکس پالیسی، بنیادی ڈھانچے، ہنرمند افرادی قوت، معاہدوں کے نفاذ اور قانونی تحفظ جیسے عوامل بھی کاروباری فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اصلاحات کی کامیابی کا انحصار مؤثر نفاذ پر ہوگا
پاکستان میں کاروباری اصلاحات کا جاری عمل ایک ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر رہا ہے جب ملک کو سرمایہ کاری بڑھانے، صنعتی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
غیر ضروری ضوابط کے خاتمے، کمپنیز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم اور آسان کاروبار ایکٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی اقدامات کاروباری ماحول میں بہتری کی سمت پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کے نتائج کا حتمی اندازہ اس وقت ممکن ہوگا جب قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد اصلاحات عملی طور پر نافذ ہوں گی اور کاروباری اداروں کو ان کے فوائد حاصل ہونا شروع ہوں گے۔
اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہوگا کہ تمام متعلقہ اداروں کے اختیارات اور ذمہ داریاں واضح ہوں، کاروباری اجازت ناموں کے لیے مقررہ مدت اور طریقہ کار متعین کیا جائے، ڈیجیٹل سہولتوں کو فروغ دیا جائے اور قواعد پر عمل درآمد میں یکسانیت یقینی بنائی جائے۔
اگر حکومت ان اہداف کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف کاروباری اداروں کے انتظامی بوجھ میں کمی آ سکتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد، کاروباری سرگرمیوں اور معاشی ترقی کے لیے بھی بہتر بنیاد فراہم ہو سکتی ہے۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



