
احسان احمد-ادارت
کراچی: سندھ میں ایم پاکس (Mpox) کے مزید دو کیسز رپورٹ ہونے کی اطلاع کے بعد صوبے میں صحتِ عامہ کے حکام نے نگرانی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں ایم پاکس کے مجموعی کیسز کی تعداد 98 ہو گئی ہے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سات نئے انفیکشن رپورٹ ہوئے۔ حکام نے وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو محدود رکھنے کے لیے متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والے لوگوں کی نشاندہی، ان کی نگرانی اور مریضوں کی دیکھ بھال پر توجہ بڑھا دی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متعلقہ طبی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انفیکشن سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے لیے مقررہ حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بروقت طبی معائنہ کرائیں اور مشتبہ یا تصدیق شدہ مریضوں کے ساتھ غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کریں۔
صحت کے حکام کے مطابق، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص، متاثرہ افراد کی نگرانی، رابطوں کا سراغ لگانے اور عوام میں درست معلومات کی فراہمی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
ایک ہفتے میں سات نئے کیسز، نگرانی کا دائرہ وسیع
محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، گزشتہ سات روز کے دوران صوبے بھر میں ایم پاکس کے سات نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ مزید دو کیسز سامنے آنے کی اطلاع کے ساتھ صوبے میں مجموعی تعداد 98 تک پہنچ گئی ہے۔
نئے کیسز کی رپورٹنگ کے بعد محکمہ صحت نے متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں آنے والے لوگوں کی شناخت اور نگرانی کا عمل تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ اس عمل کو طبی اصطلاح میں کانٹیکٹ ٹریسنگ (Contact Tracing) کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ متاثرہ شخص کے ساتھ کن افراد کا قریبی رابطہ رہا اور آیا ان میں کسی کو بیماری کی علامات تو ظاہر نہیں ہو رہیں۔
کانٹیکٹ ٹریسنگ کا مقصد ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کی بروقت شناخت، ضرورت پڑنے پر طبی معائنے اور وائرس کی مزید منتقلی کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ اس دوران مشتبہ علامات رکھنے والے افراد کی نگرانی اور طبی رہنمائی بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری معلومات میں نئے کیسز کی تفصیلی جغرافیائی تقسیم، مریضوں کی موجودہ طبی حالت اور اسپتالوں میں زیرِ علاج افراد کی تعداد کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے مجموعی تعداد کے علاوہ بیماری کی موجودہ شدت اور مختلف علاقوں میں اس کے پھیلاؤ کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید سرکاری معلومات درکار ہوں گی۔
سرکاری اور نجی طبی اداروں کو حفاظتی اقدامات سخت کرنے کی ہدایت
محکمہ صحت سندھ نے سرکاری اور نجی صحت کی سہولیات کو ہدایت کی ہے کہ ایم پاکس سے بچاؤ اور انفیکشن کنٹرول کے اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
اس ہدایت کا مقصد طبی مراکز میں مشتبہ مریضوں کی بروقت شناخت، مناسب طبی جانچ اور دیگر افراد تک انفیکشن کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ اسپتالوں اور کلینکس میں ایسے مریضوں کے معائنے کے دوران طبی عملے کو مناسب حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، جبکہ مریضوں کی علامات اور ممکنہ رابطوں سے متعلق معلومات بھی طبی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ایم پاکس کی مشتبہ علامات سامنے آنے پر مریضوں کی طبی جانچ اور ضرورت کے مطابق علیحدہ انتظامات وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی طرح طبی عملے کے لیے انفیکشن سے بچاؤ کے طریقہ کار پر عمل کرنا اور مشتبہ کیسز کی بروقت اطلاع دینا بھی ضروری ہے۔
صحت کے حکام کی ہدایات کے تناظر میں طبی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریضوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ عملے اور دیگر مریضوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں۔
ایم پاکس کی علامات کیا ہیں؟
ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو عموماً جلد پر دانوں، چھالوں یا زخموں کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں بخار، سر درد، جسم میں درد، پٹھوں کی تکلیف، تھکن اور لمف نوڈز کی سوجن جیسی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ علامات کی شدت ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہے۔
جلد پر غیر معمولی دانے یا چھالے نمودار ہونے کی صورت میں صرف ظاہری علامات کی بنیاد پر خود تشخیص کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے، کیونکہ جلد کی دیگر بیماریوں میں بھی ملتی جلتی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اگر کسی شخص کا ایم پاکس کے تصدیق شدہ یا مشتبہ مریض سے قریبی رابطہ رہا ہو اور اس کے بعد علامات ظاہر ہوں تو اسے ڈاکٹر کو اس رابطے کے بارے میں واضح طور پر بتانا چاہیے۔ اس معلومات سے طبی عملے کو مناسب جانچ اور آئندہ اقدامات کے تعین میں مدد مل سکتی ہے۔
بروقت طبی مشورہ حاصل کرنے سے مریض کی مناسب دیکھ بھال ممکن ہوتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کے قریبی رابطوں کی نگرانی بھی کی جا سکتی ہے۔
براہِ راست رابطے اور ذاتی اشیاء کے مشترکہ استعمال سے گریز کی ہدایت
محکمہ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایم پاکس کے مشتبہ یا تصدیق شدہ مریضوں کے دانوں، چھالوں اور زخموں سے براہِ راست رابطے سے گریز کریں۔
وائرس متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آلودہ کپڑوں، تولیوں، بستر اور بعض دیگر ذاتی اشیاء کے ذریعے بھی منتقلی کا خطرہ موجود ہو سکتا ہے۔ اسی لیے متاثرہ افراد کے زیرِ استعمال اشیاء کو دوسروں کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہریوں کو چاہیے کہ وہ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں یا مناسب ہینڈ سینیٹائزر استعمال کریں۔ متاثرہ شخص کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو بھی احتیاطی تدابیر اپنانی چاہئیں اور مریض کے زخموں یا آلودہ اشیاء سے رابطے کے بعد ہاتھوں کی صفائی یقینی بنانی چاہیے۔
اگر گھر میں کسی فرد میں ایم پاکس کی تشخیص ہو جائے تو طبی عملے کی ہدایات کے مطابق مریض کی دیکھ بھال، ذاتی اشیاء کی علیحدگی اور صفائی کے اقدامات اختیار کیے جانے چاہئیں۔ احتیاط کا مقصد مریض کو تنہا کرنا یا اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا نہیں بلکہ بیماری کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
غیر معمولی دانے یا چھالے ہوں تو فوری طبی معائنہ کرائیں
محکمہ صحت نے ایسے افراد کو فوری طبی امداد حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے جن کے جسم پر غیر معمولی دانے، چھالے یا زخم ظاہر ہوں۔ بالخصوص اگر ایسی علامات کے ساتھ کسی مشتبہ یا تصدیق شدہ مریض سے رابطے کی تاریخ بھی موجود ہو تو ڈاکٹر کو اس بارے میں ضرور آگاہ کیا جائے۔
علامات ظاہر ہونے پر خود سے ادویات استعمال کرنا یا بیماری کی تصدیق کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں۔ طبی ماہرین علامات، ممکنہ رابطوں اور ضرورت کے مطابق تشخیصی ٹیسٹوں کی مدد سے بیماری کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
مشتبہ مریضوں کو چاہیے کہ وہ طبی مشورہ حاصل کرنے تک دوسروں کے ساتھ قریبی جسمانی رابطہ محدود رکھیں اور اپنے زخموں یا چھالوں کو ڈھانپنے اور ذاتی اشیاء الگ رکھنے سے متعلق ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔
حکام کے مطابق، عوامی تعاون کے بغیر بیماری کی نگرانی اور پھیلاؤ کو محدود کرنے کی کوششیں مؤثر بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے شہریوں کو علامات کی صورت میں تاخیر کیے بغیر طبی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
ایم پاکس قابلِ علاج ہے، خوف کے بجائے احتیاط ضروری
محکمہ صحت نے ایم پاکس کو قابلِ علاج بیماری قرار دیتے ہوئے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔
بیماری کے حوالے سے خوف یا افواہیں پھیلانے کے بجائے مستند طبی ذرائع اور سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کرنا ضروری ہے۔ غلط معلومات نہ صرف عوام میں غیر ضروری تشویش پیدا کر سکتی ہیں بلکہ مریضوں کے خلاف امتیازی رویوں اور بروقت علاج حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
ایم پاکس کے زیادہ تر مریض مناسب طبی دیکھ بھال کے ساتھ صحت یاب ہو سکتے ہیں، تاہم بعض افراد میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ شدید علامات، بگڑتی ہوئی طبی حالت یا کسی تشویش ناک علامت کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
صحت کے حکام کی جانب سے شہریوں کو یہ بھی پیغام دیا گیا ہے کہ بیماری کے بارے میں معلومات حاصل کرتے وقت غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس یا غیر مستند دعوؤں کو آگے پھیلانے سے پہلے ان کی تصدیق کی جائے۔
سندھ میں ایم پاکس کی صورتحال، آئندہ دن اہم
سندھ میں ایم پاکس کے مجموعی کیسز کی تعداد 98 تک پہنچنے اور گزشتہ ہفتے سات نئے انفیکشن رپورٹ ہونے کے بعد بیماری کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ محکمہ صحت نے رابطوں کا سراغ لگانے، مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی اداروں میں انفیکشن کنٹرول کے اقدامات سخت کرنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
آئندہ دنوں میں نئے کیسز کی تعداد، ان کے ممکنہ رابطوں کی نگرانی اور مریضوں کی طبی حالت سے متعلق مستند معلومات بیماری کی صورتِ حال کا بہتر اندازہ لگانے میں مدد دیں گی۔ اس کے ساتھ طبی اداروں کی تیاری اور عوام میں احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی بھی اہم رہے گی۔
شہریوں کے لیے بنیادی پیغام یہی ہے کہ ہاتھوں کی صفائی برقرار رکھیں، مشتبہ مریضوں کے زخموں اور ذاتی اشیاء سے براہِ راست رابطے سے گریز کریں، غیر معمولی علامات کی صورت میں طبی معائنہ کرائیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات حاصل کریں۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



