
گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، آئی ایس پی آر کے مطابق ایک خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاک
گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے قریب حملوں کی کوششیں ناکام، فائرنگ کے واقعات میں ایک شہری جاں بحق اور متعدد گاڑیاں تباہ؛ صدر آصف علی زرداری کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین، بلوچستان میں بڑھتی دہشت گردی پر تشویش
احسان احمد-ادارت
گوادر: بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور گبد بارڈر کراسنگ کے قریب دہشت گردی کے واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے ایک خاتون سمیت 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، دہشت گردوں نے جمعرات کو مختلف مقامات پر حملوں کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں، تاہم ان واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی کارروائیوں کا مؤثر جواب دیا اور ان کے مبینہ منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے۔
فوج کے ترجمان ادارے نے حملوں میں ملوث عناصر کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد بلوچستان میں بدامنی پھیلانا، ریاستی عمل داری کو چیلنج کرنا اور صوبے میں ترقی و خوشحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچانا تھا۔ ان الزامات کے حوالے سے بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
گوادر میں پیش آنے والے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں رپورٹ ہوئے ہیں جب بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال، شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش برقرار ہے۔
گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے قریب حملے
آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے جمعرات کو گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے قریب حملوں کی کوشش کی۔ ان واقعات کے دوران ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور وہ تباہ ہو گئیں۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ بیان کے مطابق، کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکار محفوظ رہے اور کسی اہلکار کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے مبینہ عزائم ناکام بنا دیے، جو ریاست کی عمل داری کو کمزور کرنے اور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
تاہم، دستیاب بیان میں حملوں کے مکمل طریقۂ کار، ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، تباہ ہونے والی گاڑیوں کی تعداد اور واقعات کے تمام مقامات کی تفصیلی معلومات شامل نہیں ہیں۔ ان پہلوؤں سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر واقعے کی مکمل صورتِ حال واضح ہو سکے گی۔
آئی ایس پی آر کا دعویٰ: بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد انہی لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کی نمائندگی کرنے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ فوجی ترجمان ادارے کے مطابق، ان کارروائیوں کا مقصد بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے عمل کو متاثر کرنا ہے۔
بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دہشت گردی کے ذریعے ریاستی اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے بلکہ مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی، معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
گوادر اپنی جغرافیائی اہمیت، ساحلی محلِ وقوع، بندرگاہ اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے باعث بلوچستان کے اہم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے علاقے میں سیکیورٹی کے واقعات مقامی شہریوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کاروبار، آمدورفت اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے بھی چیلنج پیدا کر سکتے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
حملے میں خاتون کی شمولیت پر آئی ایس پی آر کا ردِعمل
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں حملے کے دوران ایک بلوچ خاتون کی مبینہ شمولیت پر بھی تنقید کی۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ خاتون کو اس کارروائی میں زبردستی شامل کیا گیا، اور اسے بلوچ خواتین کے وقار اور احترام کے منافی قرار دیا گیا۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، دہشت گردی کی کارروائیوں میں خواتین کو استعمال کرنے کا مقصد عوامی جذبات کو بھڑکانا اور اپنے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرنا ہو سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خواتین کو سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا بلوچ اور اسلامی روایات کے منافی ہے، جن میں خواتین کے احترام اور تحفظ کو اہمیت حاصل ہے۔
تاہم، خاتون کی شناخت، اس کے کردار اور اس کی شمولیت کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے اس حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے متعلقہ شواہد اور حکام کی مزید معلومات اہم ہوں گی۔
آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ ان عناصر کو مسترد کیا ہے جو ان کے نام پر تشدد کرتے ہیں۔ فوجی بیان کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور صوبے میں امن قائم رکھنا ہے۔
عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت عزمِ استحکام کے وژن کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رہے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں غیر ملکی پشت پناہی یا حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
عزمِ استحکام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی سطح پر مربوط کوششوں کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت سیکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ دہشت گردی کی مالی معاونت، سہولت کاری، بھرتی اور دیگر معاون سرگرمیوں کی روک تھام بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق، بلوچستان میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم، طویل مدتی امن کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ مقامی آبادی کا اعتماد، مؤثر انتظامی نظام، معاشی مواقع اور شہریوں کے تحفظ کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
صدر آصف علی زرداری کی سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے گوادر میں دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنانے اور آئی ایس پی آر کے مطابق 10 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔
صدر نے واقعے میں ایک شہری کی ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں عوام کے ترقی اور خوشحالی کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے امن ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، صوبے میں پائیدار استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔
صدرِ مملکت نے سیاسی مقاصد کے لیے بلوچ خواتین کے وقار کے مبینہ استحصال کی بھی مذمت کی۔
ان کے بیان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہنے کے ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان میں امن قائم رکھنا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا قومی اہمیت کا معاملہ ہے۔
گوادر میں ایک روز قبل بھی کارروائی، تین دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاع
گوادر میں حالیہ واقعات سے ایک روز قبل بھی سیکیورٹی کارروائی کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے ایک تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔
سرکاری میڈیا کی رپورٹ میں ہلاک ہونے والے افراد کو ’فتنہ الہند‘ سے تعلق رکھنے والا قرار دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کارروائی کے دوران دیگر مشتبہ افراد کو بھی گھیرے میں لیا گیا تھا۔
ایک الگ کارروائی کے بارے میں رپورٹ کیا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے گوادر ہائی وے کے قریب ایک ہوٹل میں چھپے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، گوادر کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) ذاتی طور پر آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔
ان واقعات کی تفصیلات کو حالیہ حملوں سے الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر کارروائی کے مقامات، حالات اور نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ بیانات اور ان کی تصدیق شدہ تفصیلات ہی واقعات کی درست ترتیب واضح کر سکتی ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ
عالمی تنازعات اور سیکیورٹی واقعات کی نگرانی کرنے والے ادارے آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ACLED) کے اعدادوشمار کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، پاکستان میں 2022 کے بعد سے دہشت گردی اور مسلح حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ان اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں رپورٹ ہونے والے حملوں کی تعداد 2022 میں 658 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر تقریباً 2,425 ہو گئی۔ اسی عرصے کے دوران تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسوب حملوں کی تعداد 118 سے بڑھ کر 838 تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ اعدادوشمار ملک میں سیکیورٹی چیلنجز کے بڑھتے ہوئے حجم کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان کی درست تشریح کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ متعلقہ ڈیٹا میں کن اقسام کے واقعات کو شامل کیا گیا ہے، حملوں کی درجہ بندی کس بنیاد پر ہوئی اور مختلف ذرائع کے اعدادوشمار میں کیا فرق ہے۔
خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کے سنگین واقعات کا سامنا کرتا رہا ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی مسلح حملوں، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں، شہریوں کو نشانہ بنانے اور اغوا کے واقعات نے امن و امان کی صورتِ حال کو متاثر کیا ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کا اثر صرف سیکیورٹی اداروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہریوں، مقامی کاروبار، آمدورفت اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
قلات اور مستونگ کے درمیان 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کے اغوا کا واقعہ
بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال کے تناظر میں گزشتہ ہفتے قلات اور مستونگ کے درمیان سفر کرنے والے پولیس کے 20 زیرِ تربیت اہلکاروں کے اغوا کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، نامعلوم مسلح افراد نے ان اہلکاروں کو اس وقت اغوا کیا جب وہ قلات سے نوشکی کی جانب سفر کر رہے تھے۔ اغوا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن کے اضلاع خاران، نوشکی، چاغی اور واشک سے بتایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، مغوی اہلکاروں میں خاران کے آٹھ، نوشکی کے پانچ، چاغی کے چار اور واشک کے تین اہلکار شامل تھے۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان میں سڑکوں پر نقل و حرکت، سیکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ اور مختلف علاقوں کے درمیان محفوظ آمدورفت سے متعلق چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
ایسے واقعات میں مغویوں کی بازیابی، ان کی سلامتی اور ذمہ دار عناصر کی شناخت بنیادی ترجیحات ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے کسی بھی پیش رفت کی تصدیق متعلقہ حکام کے بیانات سے کی جانی چاہیے۔
کچ مانگی حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 30 افراد کی ہلاکت کا ذکر
فراہم کردہ متن کے مطابق، رواں سال جولائی میں بلوچستان کے علاقے کچ مانگی میں بھی ایک سنگین حملہ پیش آیا تھا، جس میں کم از کم 30 افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا، جن میں پولیس کے 27 اہلکار بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق، دہشت گردوں نے وہاں تعینات پولیس اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔ ریاستی حکام نے حملے میں ملوث عناصر کو ’فتنہ الہند‘ قرار دیا۔
اس واقعے کے حوالے سے درست مقام، تاریخ، ہلاکتوں کی تعداد اور ذمہ داری سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اہم ہے، خصوصاً اس لیے کہ بڑے سیکیورٹی واقعات کے بارے میں ابتدائی اطلاعات بعد میں تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔
اس نوعیت کے حملے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بڑے سیکیورٹی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
گوادر کی سیکیورٹی اور بلوچستان میں پائیدار امن کا چیلنج
گوادر میں حالیہ کارروائیوں کے بعد بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کوششیں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے حملوں کی کوششوں کو ناکام بنایا اور ایک خاتون سمیت 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ ایک شہری جاں بحق اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوئیں۔
صدرِ مملکت نے کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے، جبکہ فوجی حکام نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عزمِ استحکام کے تحت کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم، بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے مسلسل سیکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ دیگر عوامل بھی اہم ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، مقامی آبادی کا اعتماد، ترقیاتی منصوبوں کی حفاظت، روزگار کے مواقع اور قانون کی مؤثر عمل داری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔
گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں امن کی بحالی نہ صرف مقامی شہریوں کی زندگیوں کے لیے اہم ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، علاقائی رابطوں اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کے لیے بھی ضروری ہے۔
حالیہ واقعات کے بعد توجہ اس بات پر رہے گی کہ متعلقہ ادارے حملوں میں ملوث افراد اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کیا اقدامات کرتے ہیں، شہریوں کے تحفظ کو کس طرح بہتر بنایا جاتا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امن و امان کو دیرپا بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



