
ڈارک ویب کے مبینہ نیٹ ورک سے بچوں کے آن لائن استحصال کا انکشاف، 42 مشتبہ افراد کی تحقیقات جاری
این سی سی آئی اے کی کارروائی میں 13 سالہ لڑکی کی بازیابی کا دعویٰ، نابالغ بچوں سے مبینہ طور پر فحش اینیمیٹڈ مواد تیار کرانے اور معاوضہ دینے کے الزامات سامنے آگئے؛ جرمنی اور برطانیہ میں موجود افراد سے مشکوک روابط کی بھی جانچ جاری
سید عاطف ندیم-ادارت
کراچی: پاکستان میں سائبر کرائم کی تحقیقات کے دوران ڈارک ویب سے مبینہ طور پر منسلک ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس پر نابالغ بچوں کو آن لائن رابطوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنسانے، نفسیاتی طور پر متاثر کرنے اور ان سے فحش اینیمیٹڈ مواد تیار کرانے کے الزامات ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مطابق، کارروائی کے دوران 13 سالہ لڑکی کو بازیاب کرایا گیا، جبکہ مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ افراد، ڈیجیٹل آلات اور ممکنہ کاروباری روابط کی چھان بین جاری ہے۔
یہ معاملہ بچوں کے آن لائن تحفظ، سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی ممکنہ بھرتی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور سرحد پار سائبر جرائم کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ تاہم، حکام کی جانب سے بیان کردہ الزامات اور ابتدائی تفتیشی نتائج کو حتمی عدالتی فیصلے سے قبل ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آن لائن رابطے سے مبینہ استحصال تک
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق، 13 سالہ لڑکی ایک آن لائن گفتگو کے ذریعے مبینہ طور پر ایسے مشکوک نیٹ ورک کے رابطے میں آئی جہاں نابالغ بچوں کو متحرک تصاویر اور اینیمیٹڈ مواد تیار کرنے کے کام دیے جانے کا شبہ ہے۔ تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ بعض بچوں کو مبینہ طور پر ان کاموں کے عوض رقم ادا کی جاتی تھی۔
ایجنسی کے مطابق، کراچی کے علاقے رابعہ سٹی میں کارروائی کے دوران لڑکی کو بازیاب کرایا گیا۔ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بچی سے کس نوعیت کے کام لیے گئے، اسے کس طرح رابطے میں لایا گیا، آیا اسے کسی مخصوص سرگرمی پر آمادہ کرنے کے لیے نفسیاتی دباؤ یا ترغیب استعمال کی گئی اور اس پورے عمل میں مقامی و غیر ملکی افراد کا کیا کردار تھا۔
تفتیش کاروں کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آیا یہ معاملہ صرف ایک بچے تک محدود تھا یا مبینہ نیٹ ورک نے دوسرے نابالغ بچوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسی لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ممکنہ متاثرین، رابطہ کاروں اور سہولت کاروں کی نشاندہی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
این سی سی آئی اے کی کارروائی کیسے سامنے آئی؟
این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایجنسی نے مشکوک نیٹ ورک سے متعلق مصدقہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد کارروائی کی۔ ان کے مطابق، لڑکی کے والد کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور ان کے تعاون سے بچی کے زیر استعمال دو ڈیجیٹل آلات قبضے میں لیے گئے۔
حکام کے مطابق، ان آلات کا جائزہ تحقیقات کا اہم حصہ ہے، کیونکہ ان میں موجود ڈیجیٹل معلومات سے ممکنہ رابطوں، آن لائن سرگرمیوں، پیغامات اور دوسرے متعلقہ شواہد کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان آلات سے کیا مخصوص مواد برآمد ہوا اور آیا اس سے کسی فرد کے خلاف قابلِ قبول قانونی ثبوت حاصل ہوئے ہیں، اس بارے میں حتمی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
شہزاد اکبر نے ان اطلاعات کو مسترد کیا کہ بچی کو دیا جانے والا ابتدائی کام کسی بلی کو مارنا تھا۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کو مبینہ طور پر نفسیاتی ہیرا پھیری کے ذریعے متاثر کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق، ایسے ہتھکنڈے بعض بین الاقوامی آن لائن گروہوں کی جانب سے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے بچوں کو بتدریج زیادہ سنگین یا نقصان دہ سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ ہوتی تو بچی کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس پہلو کی مزید جانچ ضروری ہے کہ مبینہ رابطہ کس نوعیت کا تھا، اس میں کون کون شامل تھا اور بچی کو ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے گئے۔
42 مشتبہ افراد، جن میں 12 نابالغ بھی شامل ہیں
حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس وسیع معاملے میں مجموعی طور پر 42 مشتبہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں 12 نابالغ بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تحقیقات محض ایک متاثرہ بچی کے واقعے تک محدود نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک وسیع تر رابطہ جاتی نظام اور متعدد افراد کے کردار کا احاطہ کر رہی ہیں۔
تاہم، ان 42 افراد کی قانونی حیثیت، ان میں سے کتنے گرفتار ہیں، کتنے سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور نابالغ افراد مبینہ طور پر متاثرین ہیں، معاونین ہیں یا کسی اور حیثیت میں زیرِ تفتیش ہیں، ان تمام امور کی واضح تفصیلات ضروری ہیں۔ کسی شخص کا تفتیش میں شامل ہونا بذاتِ خود اس کے جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں۔
این سی سی آئی اے کی توجہ اس بات پر بھی ہے کہ آیا مبینہ نیٹ ورک نے بچوں کو مالی معاوضے کے ذریعے کام پر آمادہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بعض بچوں کو تقریباً 100 امریکی ڈالر ادا کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس رقم اور اس کی پاکستانی روپے میں مساوی مالیت سے متعلق اعدادوشمار کی سرکاری طور پر تصدیق ضروری ہے، کیونکہ زرِ مبادلہ کی شرح کے مطابق رقم تبدیل ہو سکتی ہے۔
تفتیش کار اس امر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ بچوں کو کام دینے والے افراد نے ان کی عمر، شناخت اور کم عمری سے فائدہ اٹھایا یا نہیں، اور آیا انہیں اس سرگرمی کی حقیقی نوعیت سے آگاہ کیا گیا تھا۔
کمپنیوں اور ڈیجیٹل ڈیزائن کے کاروبار کی چھان بین
اس کیس میں ڈیجیٹل ڈیزائن سے متعلق بعض کاروباری اداروں کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، این سی سی آئی اے نے پکسل کرافٹ نامی کمپنی سے 19 موبائل فونز ضبط کیے۔ اس کے علاوہ آرٹ آفس سے پانچ اور آرٹ ڈیزائن سے متعلق ادارے سے 17 فون قبضے میں لیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، متعلقہ ادارے مبینہ طور پر تقریباً دو سال سے کام کر رہے تھے، جبکہ آرٹ ڈیزائن سے منسلک سرگرمیوں میں 17 افراد کے کام کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کمپنیوں کی معمول کی کاروباری سرگرمیوں اور مبینہ استحصالی نیٹ ورک کے درمیان کوئی تعلق موجود تھا یا نہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، ان کاروباری اداروں نے غیر ملکی گاہکوں کو لوگو، بینرز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیزائن کی خدمات فراہم کیں۔ تفتیش کار اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ خدمات معمول کے تجارتی کام کا حصہ تھیں یا ان کے ذریعے کسی مشکوک سرگرمی کو چھپانے، افراد کو رابطے میں لانے یا مالی لین دین کرنے کے لیے کوئی طریقہ اختیار کیا گیا۔
یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی کمپنی کا ڈیجیٹل ڈیزائن کا کام کرنا یا غیر ملکی گاہکوں سے کاروباری رابطے رکھنا بذاتِ خود کسی غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت نہیں۔ اداروں کے خلاف کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے متعلقہ ڈیجیٹل شواہد، مالی ریکارڈ، کاروباری دستاویزات اور ذمہ دار افراد کے کردار کی الگ الگ جانچ درکار ہوگی۔
جرمنی اور برطانیہ میں مشکوک روابط کی تحقیقات
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق، تحقیقات کے دوران جرمنی اور برطانیہ میں موجود بعض افراد کے ساتھ مشکوک روابط کا سراغ بھی ملا ہے۔ اس پہلو کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے چلنے والے جرائم میں مختلف ممالک میں موجود افراد رابطہ کاری، مواد کی تیاری، ادائیگیوں یا متاثرین تک رسائی کے مختلف مراحل میں شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم، فی الحال دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جرمنی یا برطانیہ میں موجود تمام متعلقہ افراد کسی جرم میں ملوث ہیں، یا ان ممالک کے حکام نے اس معاملے میں کوئی باضابطہ کارروائی شروع کی ہے۔ سرحد پار رابطوں کی نوعیت، متعلقہ افراد کی شناخت اور ان کے ممکنہ کردار کی تصدیق کے لیے مزید شواہد اور، ضرورت پڑنے پر، بین الاقوامی قانونی تعاون درکار ہو سکتا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے فوڈان نامی ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مبینہ طور پر نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس شخص کی مکمل شناخت، اس کے خلاف دستیاب شواہد اور مبینہ نیٹ ورک میں اس کے کردار کی تفصیلات سامنے آنا ابھی ضروری ہیں۔ تفتیش کے دوران یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ آیا وہ مبینہ طور پر بچوں سے براہِ راست رابطہ کرتا تھا، دوسرے افراد کو ہدایات دیتا تھا یا کسی اور سطح پر سرگرم تھا۔
ڈارک ویب اور ’ریڈ رومز‘ کے دعوے
اس معاملے میں ڈارک ویب پر ’ریڈ رومز‘ کے ممکنہ استعمال کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ ڈارک ویب انٹرنیٹ کے ایسے حصوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جن تک رسائی کے لیے عام سرچ انجن اور روایتی براؤزنگ سے ہٹ کر مخصوص طریقوں یا سافٹ ویئر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے بعض حصوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ڈارک ویب پر موجود ہر سرگرمی لازماً مجرمانہ نہیں ہوتی۔
’ریڈ رومز‘ کی اصطلاح عام طور پر ایسے مبینہ آن لائن مقامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے جہاں تشدد یا استحصال کی لائیو نشریات کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس اصطلاح سے منسلک بہت سے دعووں کی آزادانہ تصدیق مشکل رہی ہے، اس لیے محض اس کا ذکر کسی مخصوص کیس میں ایسے نظام کے فعال ہونے کا ثبوت نہیں بنتا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق، اس امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا مبینہ نیٹ ورک میں اس نوعیت کے پلیٹ فارمز یا طریقوں کا استعمال کیا گیا۔ جب تک ڈیجیٹل فرانزک شواہد، متعلقہ اکاؤنٹس، رابطوں اور دیگر قابلِ تصدیق معلومات سے اس کی تصدیق نہ ہو، اس پہلو کو زیرِ تفتیش امکان ہی سمجھا جانا چاہیے۔
بچوں کو آن لائن جال میں پھنسانے کے طریقے
ماہرینِ سائبر تحفظ کے مطابق، بچوں کے آن لائن استحصال کے بعض واقعات میں مجرم پہلے دوستانہ گفتگو، دلچسپیوں سے متعلق بات چیت، تحائف یا رقم کی پیشکش اور چھوٹے کاموں کے ذریعے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعد ازاں وہ بچے پر دباؤ ڈالنے، اسے راز رکھنے پر مجبور کرنے یا مزید حساس مواد تیار کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس نوعیت کے عمل کو بعض حالات میں آن لائن گرومنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں ضروری نہیں کہ ابتدا ہی میں واضح دھمکی دی جائے؛ بعض اوقات تعلق اور اعتماد قائم کرنے کے بعد بچے کی کم عمری، تنہائی، تجسس یا مالی ضرورت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کراچی کے زیرِ تفتیش کیس میں بھی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا لڑکی کو اسی نوعیت کے طریقوں سے متاثر کیا گیا تھا۔ تاہم، اس مخصوص معاملے میں استعمال ہونے والے طریقوں کے بارے میں حتمی نتیجہ متعلقہ شواہد کی جانچ کے بعد ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔
بچوں کے تحفظ کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین اور سرپرست بچوں کے آن لائن روابط کے بارے میں آگاہی رکھیں، لیکن نگرانی کا طریقہ ایسا ہو جو بچے کو خوف زدہ کرنے کے بجائے اسے کسی مشکوک رابطے یا دباؤ کی صورت میں فوری طور پر مدد طلب کرنے کا اعتماد دے۔
این سی سی آئی اے کی دیگر سائبر کرائم کارروائیاں
پریس کانفرنس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے سائبر کرائم کے دیگر معاملات میں ایجنسی کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، این سی سی آئی اے نے اس سے قبل کراچی میں ایک لڑکے کو حراست میں لیا تھا، جو مبینہ طور پر ایک دوسرے شخص سے بدلہ لینے کے طریقے تلاش کر رہا تھا۔ اس کیس کی نوعیت اور قانونی پیش رفت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حکام نے ایک الگ معاملے میں حمزہ نامی مشتبہ شخص کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا، جس پر مبینہ طور پر ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ایجنسی کے مطابق، اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس الزام کو بھی متعلقہ شواہد اور قانونی کارروائی کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔
اکبر کے مطابق، گزشتہ 15 دنوں کے دوران واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلق 39 اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی گئی یا انہیں بازیاب کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مبینہ مالی فراڈ سے منسلک 95 اکاؤنٹس بلاک کیے گئے، جبکہ جعلی شناخت کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق 38 اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
ان اعدادوشمار کے حوالے سے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ’اکاؤنٹس کی بازیابی‘، ’اکاؤنٹس بلاک کرنے‘ اور ’اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی‘ سے مراد کیا مخصوص اقدامات ہیں۔ اسی طرح، ہر اکاؤنٹ کے بارے میں کسی الزام کی نوعیت اور اس کی تصدیق کی سطح بھی الگ ہو سکتی ہے۔
جعلی شناخت، خواتین کو ہراساں کرنا اور مالی فراڈ
این سی سی آئی اے کے مطابق، ایجنسی کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے، آن لائن مالی فراڈ، جعلی شناخت کے ذریعے ہراساں کرنے اور واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی کی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔
حکام ان الزامات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بعض افراد خواتین کے ناموں سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلاتے اور من گھڑت شناخت کے ذریعے دوسروں سے رابطہ کرتے یا انہیں ہراساں کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ڈیجیٹل شناخت کی تصدیق، اکاؤنٹ تک رسائی کے ریکارڈ، متعلقہ پیغامات اور مالی لین دین کے شواہد اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس کی ہیکنگ کاروباری اداروں اور صارفین دونوں کے لیے مالی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اگر کسی کاروباری اکاؤنٹ پر غیر مجاز قبضہ ہو جائے تو اس کے ذریعے صارفین سے رقم طلب کرنے، جعلی ادائیگیوں کی ہدایات دینے یا کاروبار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان معاملات میں تحقیقات اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم ہر کیس کے نتائج اور ملزمان کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔
والدین اور سرپرستوں کے لیے اہم احتیاطی تدابیر
بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے والدین، اساتذہ اور سرپرستوں کا کردار اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق، بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی اجنبی کی جانب سے رقم، تحائف یا کام کی پیشکش ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتی، خصوصاً جب اس کے ساتھ ذاتی معلومات، تصاویر، ویڈیوز یا خفیہ رابطے کی شرط بھی شامل ہو۔
اگر کسی بچے کو کوئی شخص دھمکائے، غیر مناسب مواد تیار کرنے کے لیے کہے یا اسے کسی سرگرمی کو والدین سے چھپانے پر مجبور کرے تو بچے کو الزام دینے یا شرمندہ کرنے کے بجائے اس کی بات سننا اور اسے تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
والدین کو چاہیے کہ مشکوک رابطوں کی صورت میں متعلقہ پیغامات اور اکاؤنٹ کی معلومات محفوظ کریں، لیکن غیر قانونی مواد کو آگے نہ بھیجیں اور نہ ہی خود کسی مشتبہ فرد کا سامنا کرنے کی کوشش کریں۔ معاملہ متعلقہ سائبر کرائم حکام اور بچوں کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
اگر کسی بچے کے استحصال کا شبہ ہو تو اس کی شناخت، تصاویر، ذاتی تفصیلات اور واقعے کی حساس معلومات غیر ضروری طور پر عام نہ کی جائیں۔ متاثرہ بچے کی رازداری اور ذہنی تحفظ بھی تحقیقات جتنا ہی اہم ہے۔
تحقیقات کے اگلے مراحل
این سی سی آئی اے کے مطابق، کراچی میں سامنے آنے والے مبینہ نیٹ ورک کی تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیش کار مقامی رابطہ کاروں، ممکنہ سہولت کاروں، ڈیجیٹل ڈیزائن کمپنیوں کے کاروباری روابط، ضبط شدہ موبائل فونز اور غیر ملکی افراد کے ساتھ رابطوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان دیگر بچوں کی شناخت کی کوشش بھی کی جا رہی ہے جو ممکنہ طور پر اس نیٹ ورک کے رابطے میں آئے ہوں۔
اس کیس میں اہم سوالات کے جواب ابھی سامنے آنا باقی ہیں: آیا بچوں کو منظم انداز میں بھرتی کیا گیا، مبینہ مواد کی تیاری اور ترسیل میں کن افراد کا کردار تھا، مالی ادائیگیاں کس ذریعے سے ہوئیں، کمپنیوں اور نیٹ ورک کے درمیان کوئی ثابت شدہ تعلق موجود ہے یا نہیں، اور جرمنی و برطانیہ میں مشکوک روابط کی اصل نوعیت کیا تھی۔
ان سوالات کے جوابات ڈیجیٹل فرانزک، مالی ریکارڈ، متعلقہ افراد کے بیانات اور دیگر قابلِ تصدیق شواہد سے مل سکتے ہیں۔ تحقیقات کی کامیابی صرف مشتبہ افراد کی نشاندہی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ممکنہ متاثرین کی حفاظت، ان کی بحالی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام بھی اس کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
بچوں کا آن لائن استحصال ایک نہایت حساس معاملہ ہے جس میں بروقت کارروائی، شواہد پر مبنی تفتیش، متاثرین کی رازداری اور قانون کے مطابق احتساب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ این سی سی آئی اے کی تحقیقات سے سامنے آنے والے الزامات کی حتمی حقیقت کا تعین قانونی عمل مکمل ہونے اور شواہد کی جانچ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



