اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

کراچی میں سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس ایجنسی کی کارروائیاں، بی ایل اے کے دو مبینہ ارکان سمیت تین مشتبہ افراد گرفتار

گلستانِ جوہر اور گل بائی چوک کے قریب چھاپے، آئی ای ڈی، دستی بم، پستول اور گولیاں برآمد؛ حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا الزام، مقدمات درج، مزید تحقیقات جاری

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
احسان احمد-ادارت

کراچی: کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور ایک وفاقی انٹیلی جنس ایجنسی نے الگ الگ کارروائیوں کے دوران تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق، گرفتار افراد میں دو ایسے ملزمان بھی شامل ہیں جن کا مبینہ تعلق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے ہے، جبکہ تیسرا ملزم مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ ہے۔

محکمے کے ترجمان کے مطابق، کارروائیاں گلستانِ جوہر بلاک 7 کے قریب مین یونیورسٹی روڈ اور گل بائی چوک کے اطراف کی گئیں۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ (آئی ای ڈی)، ایک دستی بم، ایک پستول اور گولیاں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ابتدائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کا مقصد کراچی میں ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانا تھا۔ ترجمان کے مطابق، ملزمان مبینہ طور پر اپنے تنظیمی کمانڈروں کی ہدایات پر شہر میں موجود تھے اور حساس مقامات سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کی ریکی کر رہے تھے یا ان پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔

حکام کے مطابق، گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ مبینہ نیٹ ورک، ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

گلستانِ جوہر میں کارروائی، بی ایل اے سے تعلق کے الزام میں دو افراد گرفتار

سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، پہلی کارروائی گلستانِ جوہر بلاک 7 کے قریب مین یونیورسٹی روڈ پر کی گئی، جہاں سی ٹی ڈی اور وفاقی انٹیلی جنس ایجنسی کی مشترکہ ٹیم نے چھاپہ مار کر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

ترجمان نے گرفتار ملزمان کی شناخت رحیم فضل ولد فضل محمود اور بالاچ بلوچ ولد رسول بخش کے نام سے کی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق، متعلقہ اداروں کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ تنظیم کے دو مبینہ تربیت یافتہ ارکان اپنے کمانڈر کی ہدایات پر کراچی میں موجود ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ان کی موجودگی اور مبینہ سرگرمیوں کا سراغ لگایا گیا، جس کے بعد مشترکہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ترجمان کے مطابق، چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے آئی ای ڈی اور دستی بم برآمد ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد مبینہ طور پر شہر میں حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

تاہم، برآمد ہونے والے مواد کی نوعیت، اس کی تکنیکی جانچ اور کسی مخصوص مقام پر حملے کے منصوبے سے متعلق حتمی تفصیلات تفتیش اور فرانزک تجزیے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام

سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان کے بارے میں ابتدائی انٹیلی جنس معلومات سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر افغانستان میں ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں اس تربیت کے مقام، مدت یا اس دعوے کی تائید کرنے والے شواہد کی تفصیل شامل نہیں ہے۔

حکام کے مطابق، دونوں مشتبہ افراد اپنے تنظیمی کمانڈر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں کراچی میں مبینہ کارروائیوں کے لیے ہدایات دی جا رہی تھیں۔

تفتیش کار اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا گرفتار افراد نے شہر میں کسی مخصوص مقام کی نگرانی کی تھی، ان کے ممکنہ اہداف کون سے تھے اور کیا انہیں مقامی سطح پر کسی فرد یا گروہ کی معاونت حاصل تھی۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں حساس مقامات، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سیکیورٹی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے مقامات کے خلاف کسی ممکنہ حملے کی اطلاع ملنے پر متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ خطرے کی نوعیت کا جائزہ لیں اور شواہد کی بنیاد پر حفاظتی اقدامات کریں۔

آئی ای ڈی اور دستی بم کی برآمدگی، ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کی تحقیقات

سی ٹی ڈی کے مطابق، گلستانِ جوہر میں گرفتار کیے گئے دونوں ملزمان کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ اور ایک دستی بم برآمد ہوا ہے۔

دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی ساخت، مواد اور ممکنہ خطرے کا تعین تکنیکی ماہرین کی جانچ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دستی بم کی قانونی اور فرانزک جانچ بھی اس بات کی تصدیق میں مدد دے سکتی ہے کہ برآمد شدہ مواد کس نوعیت کا تھا اور اس کا کسی مبینہ منصوبے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ملزمان حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم، کسی مخصوص ہدف، حملے کی طے شدہ تاریخ یا منصوبے کی عملی تیاری سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تفتیش کے دوران یہ پہلو بھی اہم ہوں گے کہ دھماکہ خیز مواد کہاں سے حاصل کیا گیا، اسے کراچی تک کیسے پہنچایا گیا اور آیا اس معاملے میں مزید افراد یا سہولت کار ملوث تھے۔

گل بائی چوک کے قریب دوسری کارروائی، ٹی ٹی پی سے مبینہ تعلق رکھنے والا شخص گرفتار

سی ٹی ڈی اور وفاقی انٹیلی جنس ایجنسی کی مشترکہ کارروائیوں کے دوسرے مرحلے میں گل بائی چوک کے قریب شاہ نور رحمان خان ولد اختر عالم کو گرفتار کیا گیا۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، ملزم کا مبینہ تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔ پاکستانی حکام اس گروہ کے لیے بعض سرکاری بیانات میں ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے ایک لوڈ شدہ 30 بور پستول اور پانچ گولیاں برآمد کی گئیں۔

حکام کے مطابق، ملزم کی موجودگی اور مبینہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ملنے پر کارروائی کی گئی۔ اس کی گرفتاری کے بعد تفتیش کار اس کے ممکنہ رابطوں، کراچی آمد کے مقصد اور شہر میں اس کی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ملزم اپنے کمانڈر کی ہدایت پر کراچی آیا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کی ریکی کرے اور ممکنہ حملوں کے لیے معلومات جمع کر سکے۔

تاہم، ان الزامات کی مکمل تصدیق اور قانونی حیثیت کا تعین تفتیش، متعلقہ شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا باقی ہے۔

وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ

سی ٹی ڈی کے مطابق، ابتدائی تفتیش کے دوران شاہ نور رحمان خان نے مبینہ طور پر بتایا کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق، ملزم نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے کمانڈر کی ہدایت پر کراچی پہنچا تھا تاکہ حساس سرکاری دفاتر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقامات کا جائزہ لے سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے مبینہ سابقہ کردار اور کراچی میں موجودگی کے مقصد کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔ تفتیش کار یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس کے رابطے شہر میں موجود کسی دوسرے مشتبہ نیٹ ورک سے تھے اور کیا اس نے کسی ممکنہ حملے کے لیے معلومات یا وسائل جمع کیے تھے۔

ابتدائی تفتیش میں سامنے آنے والے بیانات کو دیگر شواہد سے جانچنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے ملزم سے منسوب انکشافات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین صرف تفتیشی ریکارڈ، قابلِ تصدیق شواہد اور عدالتی عمل کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔

ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونین کی تلاش جاری

سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے مبینہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

تفتیش کا ایک اہم پہلو یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا گرفتار افراد انفرادی طور پر سرگرم تھے یا ان کے پیچھے کوئی وسیع تر نیٹ ورک موجود تھا۔ اس سلسلے میں ممکنہ رابطوں، نقل و حرکت، مالی لین دین اور برآمد شدہ مواد سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اگر مزید افراد کی شمولیت کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ تاہم، کسی شخص کو محض رابطے یا شبہے کی بنیاد پر مجرم قرار دینے کے بجائے اس کے کردار کی تصدیق ضروری ہے۔

محکمے کے مطابق، گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔ مقدمات کی دفعات، عدالت میں پیشی اور آئندہ قانونی کارروائی سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات کی اہمیت

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہری اور معاشی مرکز ہے، جہاں بندرگاہ، صنعتی علاقوں، تجارتی مراکز اور مختلف سرکاری اداروں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی کی اہمیت نمایاں ہے۔ شہر میں کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ منصوبے کی بروقت نشاندہی شہریوں کے تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا بنیادی مقصد مبینہ خطرات کی شناخت، مشتبہ نیٹ ورکس کی تحقیقات اور ممکنہ حملوں کی روک تھام ہوتا ہے۔ تاہم، مؤثر انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے ساتھ قابلِ تصدیق شواہد، قانونی تقاضوں کی پابندی اور شفاف تفتیش بھی ضروری ہیں۔

حالیہ کارروائیوں میں تین افراد کی گرفتاری اور اسلحہ و دھماکہ خیز مواد کی مبینہ برآمدگی کے بعد اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ تفتیش میں کیا مزید حقائق سامنے آتے ہیں، آیا کسی وسیع تر نیٹ ورک کے شواہد ملتے ہیں اور گرفتار افراد کے خلاف الزامات کو قانونی طور پر کس طرح ثابت کیا جاتا ہے۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button