اہم خبریںپاکستان

ای ٹی پی بی کا ناجائز قابضین کے خلاف گرینڈ آپریشن، لاہور، ننکانہ صاحب اور قصور میں کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں واگزار

لاہور اور ننکانہ صاحب زونز میں متعدد تجارتی دکانوں سمیت ٹرسٹ کی قیمتی املاک کا قبضہ واپس لے لیا گیا؛ قصور میں 47 اور مانگا بائی پاس پر 13 دکانیں واگزار کرانے کا دعویٰ، ملک بھر میں مرحلہ وار کارروائیوں کا اعلان

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

لاہور: ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) نے ٹرسٹ کی زمینوں اور املاک پر مبینہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ چیئرمین ای ٹی پی بی قمر الزمان کی ہدایات پر لاہور، ننکانہ صاحب اور قصور سمیت مختلف علاقوں میں آپریشن کیے گئے، جن کے دوران متعدد تجارتی دکانیں اور دیگر قیمتی جائیدادیں واگزار کرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بورڈ کے مطابق، واگزار کرائی گئی املاک پر دوبارہ قبضے اور غیر قانونی تعمیرات روکنے کے لیے سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ای ٹی پی بی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، کارروائیوں میں بورڈ کے انتظامی افسران، متعلقہ عملے، سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی پولیس نے حصہ لیا۔ آپریشنز کا مقصد ٹرسٹ کی املاک کو غیر قانونی قبضوں سے محفوظ بنانا، مبینہ غیر قانونی تعمیرات ختم کرنا اور ان جائیدادوں کا انتظامی کنٹرول بحال کرنا بتایا گیا ہے۔

چیئرمین ای ٹی پی بی قمر الزمان نے واضح کیا ہے کہ ٹرسٹ کی زمینوں اور جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق، ملک بھر میں مرحلہ وار بڑے آپریشن کیے جائیں گے تاکہ ٹرسٹ کی املاک کو ناجائز قبضوں سے واگزار کرا کے ان کی اصل حیثیت بحال کی جا سکے۔

ننکانہ صاحب زون میں 18 تجارتی دکانیں اور چار جائیدادیں واگزار

ای ٹی پی بی کے مطابق، ننکانہ صاحب زون میں ایڈمنسٹریٹر تنویر حسین اور ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر عمر جاوید اعوان کی نگرانی میں مختلف مقامات پر کارروائیاں کی گئیں۔ ان میں سنتھ رام روڈ، بچیانہ روڈ اور واربرٹن بائی پاس کے علاقے شامل ہیں۔

بورڈ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ان کارروائیوں کے دوران 18 تجارتی دکانیں اور مجموعی طور پر 30 مرلے رقبے پر مشتمل چار جائیدادیں واگزار کرائی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان املاک پر ٹرسٹ کے حقوق اور انتظامی کنٹرول بحال کرنے کے لیے کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ننکانہ صاحب میں کارروائی کا ایک اہم واقعہ رات کے وقت سامنے آیا، جب ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر عمر جاوید اعوان کو ٹرسٹ کی زمین پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی اطلاع موصول ہوئی۔ اطلاع ملنے پر وہ مقامی پولیس اور سیکیورٹی عملے کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور کارروائی کی۔

ای ٹی پی بی کے مطابق، موقع پر موجود غیر قانونی تعمیرات مسمار کی گئیں اور متعلقہ جائیداد کا قبضہ حاصل کر لیا گیا۔ تاہم، تعمیرات کی نوعیت، ان کے ذمہ دار افراد اور کارروائی کے قانونی طریقۂ کار سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

لاہور کے مصری شاہ اور ابک روڈ پر کارروائی

لاہور زون میں بھی ٹرسٹ کی املاک واگزار کرانے کے لیے آپریشن کیے گئے۔ ایڈمنسٹریٹر عدنان حسن پھلروان کی نگرانی میں ہونے والی ان کارروائیوں کے دوران مختلف تجارتی مقامات پر قائم دکانوں کا قبضہ واپس لینے کی اطلاع دی گئی۔

ای ٹی پی بی کے مطابق، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ون سمیرا رضوی نے مصری شاہ کے وول پریس (Wool Press) علاقے میں کارروائی کی قیادت کی، جہاں مبینہ ناجائز قابضین سے 18 دکانیں واگزار کرائی گئیں۔

اسی طرح ابک روڈ پر بھی کارروائی کے دوران تین دکانیں واگزار کرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بورڈ کے حکام کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد ٹرسٹ کی تجارتی املاک پر قانونی کنٹرول بحال کرنا اور ان کے غیر مجاز استعمال کو روکنا ہے۔

تجارتی دکانوں کی واگزاری کے بعد ان کی حفاظت اور آئندہ انتظامی نگرانی کے حوالے سے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ دوبارہ قبضے یا غیر قانونی تعمیرات کے امکانات کم کیے جا سکیں۔

مانگا بائی پاس پر 13 کروڑ روپے مالیت کی 13 دکانیں واگزار

لاہور کے مانگا بائی پاس مین روڈ پر بھی ای ٹی پی بی نے کارروائی کی۔ بورڈ کے مطابق، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ٹو لاہور سہیل غنی نے انسپکٹر گلشاد اور دیگر متعلقہ عملے کے ہمراہ آپریشن کی نگرانی کی۔

کارروائی کے دوران مبینہ ناجائز قابضین سے 13 تجارتی دکانیں واگزار کرائی گئیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 130 ملین روپے، یعنی 13 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

مانگا بائی پاس جیسے اہم تجارتی راستوں پر واقع املاک کی مالیت اور کاروباری افادیت کے پیش نظر ان کی قانونی حیثیت اور انتظامی نگرانی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ای ٹی پی بی کی جانب سے ان دکانوں کی واگزاری کو ٹرسٹ کی املاک پر کنٹرول بحال کرنے کی کارروائیوں کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔

تاہم، ان دکانوں کی مالیت کے تخمینے کی بنیاد، ملکیتی ریکارڈ اور قبضے سے متعلق تنازعات کی تفصیلات الگ سے سامنے نہیں آئیں۔ ان امور کی تصدیق متعلقہ دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ سے کی جا سکتی ہے۔

قصور میں 10 کروڑ روپے مالیت کی 47 دکانیں واگزار کرانے کا دعویٰ

ضلع قصور میں بھی ای ٹی پی بی نے کارروائی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں تجارتی دکانیں واگزار کرانے کی اطلاع دی ہے۔

بورڈ کے مطابق، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر عاصم اعجاز نے ای ٹی پی بی کے عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ آپریشن کیا، جس کے دوران مبینہ ناجائز قابضین سے 47 دکانیں واگزار کرائی گئیں۔ ان دکانوں کی مجموعی مالیت تقریباً 100 ملین روپے، یعنی 10 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

قصور میں کی جانے والی اس کارروائی کو بورڈ کی جانب سے ٹرسٹ کی تجارتی املاک کا قبضہ واپس لینے کی بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق، واگزار کرائی گئی املاک کو محفوظ بنانے اور دوبارہ غیر قانونی استعمال سے بچانے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

تاہم، دکانوں کی مالیت اور ملکیت سے متعلق حتمی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات کا جائزہ ضروری ہوگا۔

ملتان، گجرات اور کراچی میں بھی آپریشنز

ای ٹی پی بی کے مطابق، کارروائیوں کا دائرہ صرف لاہور، ننکانہ صاحب اور قصور تک محدود نہیں رہا، بلکہ ملتان، گجرات، کراچی اور دیگر اضلاع میں بھی مبینہ غیر قانونی قابضین کے خلاف آپریشن کیے گئے۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ٹرسٹ کی مختلف زمینیں اور جائیدادیں واگزار کرائی گئیں۔ تاہم، ان شہروں میں واگزار کرائی گئی املاک کی تعداد، رقبے، مالیت اور کارروائیوں کی الگ الگ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں مرحلہ وار آپریشنز کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ای ٹی پی بی اپنی املاک کے ریکارڈ، قبضے کی صورت حال اور انتظامی کنٹرول کا جائزہ لینے کے لیے کارروائیوں کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

واگزار املاک پر سیکیورٹی تعینات، دوبارہ قبضہ روکنے کے اقدامات

ای ٹی پی بی کے مطابق، حالیہ کارروائیوں کے بعد واگزار کرائی گئی تمام جائیدادوں پر بورڈ کے سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دوبارہ قبضے، غیر قانونی تعمیرات اور املاک کے غیر مجاز استعمال کی کسی بھی کوشش کو روکنا ہے۔

بورڈ کے افسران اور سیکیورٹی عملے نے مقامی پولیس کے تعاون سے مختلف علاقوں میں آپریشن کیے۔ سرکاری اداروں کے درمیان اس نوعیت کا تعاون ایسے معاملات میں اہم سمجھا جاتا ہے جہاں قبضے کی صورت حال پیچیدہ ہو، املاک کی حفاظت درکار ہو یا موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت پیش آئے۔

تاہم، املاک کو مستقل طور پر محفوظ بنانے کے لیے صرف عارضی سیکیورٹی تعیناتی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ درست ملکیتی ریکارڈ، جائیدادوں کی باقاعدہ نگرانی، قانونی کارروائیوں کی بروقت تکمیل اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔

چیئرمین قمر الزمان کا دوٹوک مؤقف

چیئرمین ای ٹی پی بی قمر الزمان نے کہا ہے کہ ٹرسٹ کی زمینوں اور جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ ایک سنگین جرم ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

ان کے مطابق، بورڈ کی املاک کو غیر قانونی قبضوں سے واگزار کرانا اور ان کی اصل حیثیت بحال کرنا ادارے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں مرحلہ وار بڑے پیمانے پر آپریشن کیے جائیں گے تاکہ ٹرسٹ کی جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

چیئرمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کارروائیوں کا سلسلہ کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ جہاں بھی ٹرسٹ کی املاک پر غیر قانونی قبضے کی نشاندہی ہوگی، وہاں متعلقہ ریکارڈ اور قانونی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

ٹرسٹ کی املاک کا تحفظ کیوں اہم ہے؟

ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ ایک سرکاری ادارہ ہے جو متعلقہ قوانین اور انتظامی ذمہ داریوں کے تحت اپنی تحویل میں موجود املاک کا انتظام کرتا ہے۔ ایسی جائیدادوں پر ملکیتی حقوق، کرایہ داری، لیز، استعمال اور قبضے سے متعلق معاملات میں قانونی ریکارڈ کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

کسی بھی جائیداد کو غیر قانونی قبضے سے واگزار کرانے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ املاک کی ملکیت یا انتظامی اختیار کی تصدیق ہو، کارروائی قانون کے مطابق کی جائے اور اگر کسی فریق کا ملکیت، کرایہ داری یا قبضے سے متعلق دعویٰ ہو تو اسے متعلقہ قانونی فورم پر پیش کرنے کا موقع ملے۔

اسی طرح، سرکاری یا ٹرسٹ کی املاک کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شفافیت اور یکساں قانونی معیار برقرار رکھنا بھی اہم ہے، تاکہ جائز حقوق رکھنے والے افراد متاثر نہ ہوں اور غیر قانونی قبضوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

ملک گیر آپریشنز کا اگلا مرحلہ

ای ٹی پی بی کی جانب سے ملک بھر میں مرحلہ وار گرینڈ آپریشنز کے اعلان کے بعد آئندہ دنوں میں مزید کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، مزید آپریشنز کے مقامات، تاریخوں، اہداف اور ان کے دائرۂ کار سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

حالیہ کارروائیوں میں لاہور، ننکانہ صاحب اور قصور کے حوالے سے متعدد تجارتی دکانوں اور دیگر املاک کی واگزاری کے اعدادوشمار سامنے آئے ہیں، جبکہ ملتان، گجرات، کراچی اور دیگر اضلاع میں بھی کارروائیوں کی اطلاع دی گئی ہے۔ اب اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ واگزار کرائی گئی املاک کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور قانونی کارروائیوں کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

ای ٹی پی بی کی حالیہ کارروائیاں ٹرسٹ کی املاک پر انتظامی کنٹرول بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ چیئرمین قمر الزمان نے واضح کیا ہے کہ ناجائز قبضوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، جبکہ ان اقدامات کے مستقل نتائج کا انحصار املاک کے مؤثر تحفظ، درست ریکارڈ اور قانون کے مطابق کارروائیوں پر ہوگا۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button