علی عباس کاظمیکالمز

ہماری اجتماعی منافقت…… علی عباس کاظمی

اس خدمت کا نام کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ذرا سوچیے، کیا کسی غریب کے لیے علاج کی سہولت اس وقت کم قیمتی ہو جاتی ہے جب اسے فراہم کرنے والا شخص ہماری سیاسی پسند کا نہ ہو؟

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ہمارا اصل المیہ غلط فیصلے کرنا نہیں، بلکہ اپنے مفاد کے لیے صحیح اور غلط کے معنی بدل دینا ہے۔ یہاں کسی شخص کی برسوں کی محنت ایک سیاسی اختلاف کی نذر ہو سکتی ہے، کسی کی خدمت کو چند نعروں سے مشکوک بنایا جا سکتا ہے اور کسی کے سنگین قصور کو محض اس لیے نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہمارے پسندیدہ گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم نے کردار کی جگہ وابستگی، دلیل کی جگہ جذبات اور انصاف کی جگہ پسند و ناپسند کو بٹھا دیا ہے۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ زوال پذیر کیوں ہے۔ جس معاشرے میں سچائی کو بھی سیاسی وفاداری کے ترازو میں تولا جائے، وہاں جھوٹ کو طاقت اور سچ کو وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسے اداروں کی افادیت کو دیکھیے۔ سرطان کسی امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، لیکن اس کا علاج انسانوں کے درمیان معاشی فرق کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ صاحبِ ثروت خاندان علاج کے لیے وسائل جمع کر سکتا ہے، مگر غریب آدمی کے لیے بیماری اکثر دوہری آزمائش بن جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ادارہ مستحق مریضوں کو علاج فراہم کرتا ہے تو اس کی اہمیت محض ایک عمارت یا طبی مرکز تک محدود نہیں رہتی، وہ ان خاندانوں کے لیے امید کا ذریعہ بنتا ہے جن کے پاس بیماری سے لڑنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس خدمت کا اعتراف کرنا کسی سیاسی رہنما کی غیر مشروط حمایت نہیں، بلکہ انسانی بھلائی کو تسلیم کرنا ہے۔
مگر ہمارے ہاں سیاسی تعصب نے عقل کے ساتھ عجیب سلوک کیا ہے۔ اگر کسی مخالف سیاسی رہنما کا قائم کردہ ادارہ کسی غریب کی جان بچا رہا ہو تو بعض لوگ اس کامیابی میں بھی عیب تلاش کرنے لگتے ہیں۔ گویا مریض کا صحت یاب ہونا اہم نہیں، اہم یہ ہے کہ اس خدمت کا نام کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ذرا سوچیے، کیا کسی غریب کے لیے علاج کی سہولت اس وقت کم قیمتی ہو جاتی ہے جب اسے فراہم کرنے والا شخص ہماری سیاسی پسند کا نہ ہو؟ کیا بھوک مٹانے والے ہاتھ کی اہمیت اس لیے ختم ہو جاتی ہے کہ وہ مخالف سمت سے آگے بڑھا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہماری عملی زندگی میں اتنا تضاد کیوں ہے؟ ہم دوسروں سے اخلاقیات کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن اپنے رویوں کو تعصب کے حوالے کر دیتے ہیں۔یہ رویہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ ہماری سیاست نے طویل عرصے سے شہریوں کو سوچنے والے انسانوں کے بجائے جذباتی حامی بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ جلسوں میں نعرے لگانے والا کارکن اپنے رہنما کی کامیابی کو اپنی ذاتی کامیابی سمجھنے لگتا ہے اور اس کی ناکامی کو تسلیم کرنا اپنی توہین محسوس کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ رہنما ایک سیاسی نمائندے سے بڑھ کر ناقابلِ سوال شخصیت بن جاتا ہے۔ اس کے مخالف کی ہر بات جھوٹ اور اپنے رہنما کا ہر دعویٰ سچ دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی ذہنی غلامی ہے، خواہ اس کے گرد کتنے ہی انقلابی نعروں کا حصار کیوں نہ کھڑا ہو۔ آزاد ذہن کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کس کی حمایت کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی حمایت کے باوجود غلطی کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تعلیم اور صحت کے ادارے قائم کرنا بلاشبہ اہم کام ہے، لیکن ان کی تعمیر کو کسی شخص کے ہر عمل کے لیے دائمی معافی نامہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ ایک رہنما ہسپتال بنا سکتا ہے اور اس کے سیاسی فیصلوں پر تنقید بھی ہو سکتی ہے۔ کوئی شخص ملک کے دفاع میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے، مگر اس کی زندگی کے دوسرے پہلوؤں کا جائزہ لینے کا حق بھی معاشرے کو حاصل ہے۔ اسی طرح کسی سیاست دان سے اختلاف رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر خدمت کو جھوٹ قرار دے دیا جائے۔ یہی وہ توازن ہے جس کی ہمارے معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔ ہم یا تو کسی کو فرشتہ بنا دیتے ہیں یا شیطان، حالانکہ انسانوں، اداروں اور سیاسی فیصلوں کو ان کے حقیقی تناظر میں سمجھنا ہی بالغ نظری ہے۔ اندھی عقیدت اور اندھی نفرت بظاہر ایک دوسرے کی مخالف ہیں، لیکن دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے۔ عقل کی معطلی۔نمل یونیورسٹی جیسے تعلیمی منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی اصول اپنانا چاہیے۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، مگر مواقع کی تقسیم غیر منصفانہ ہے۔ بڑے شہروں کے خوش حال خاندانوں کے بچے بہتر تعلیمی اداروں، رہنمائی اور وسائل تک آسانی سے پہنچ جاتے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں کا باصلاحیت نوجوان اکثر مالی مشکلات اور کمزور تعلیمی سہولتوں کے باعث پیچھے رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی ادارہ اس فرق کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر رد کرنا دانش مندی نہیں۔ البتہ اس ادارے کے معیار، تعلیمی نتائج، انتظامی شفافیت اور طلبہ کو حاصل ہونے والے مواقع پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔ تعریف اور احتساب ایک دوسرے کے دشمن نہیں۔ حقیقت میں جو شخص کسی ادارے کی بہتری چاہتا ہے، وہ اس کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔کسی محسن کے نام پر سالانہ تقریبات منعقد کرنا آسان ہے، مگر اس کے اصولوں کو ریاستی عمل کا حصہ بنانا مشکل۔ ہم اپنے محسنوں کی تصاویر تو محفوظ کر لیتے ہیں، لیکن ان کے کردار سے سبق سیکھنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔
دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں موجود افراد کے طرزِ زندگی اور عوامی وسائل کے استعمال پر سوال اٹھانا بھی شہری ذمہ داری ہے۔ جس ملک میں عام آدمی اپنے بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی کے بل اور روزمرہ اخراجات کے لیے پریشان ہو، وہاں سرکاری وسائل سے شاہانہ آسائشوں کی خبریں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ تاہم کسی کی دولت یا بیرونِ ملک جائیداد کو دیکھ کر محض الزام لگا دینا بھی انصاف نہیں۔ اصل تقاضا یہ ہے کہ آمدن اور اثاثوں کی قانونی جانچ ہو، سرکاری اخراجات کا حساب دستیاب ہو، بدعنوانی کے شواہد کی تحقیقات کی جائیں اور ثابت شدہ جرم پر قانون کے مطابق کارروائی ہو۔ اگر احتساب صرف مخالفین کے لیے ہو اور اپنے لوگوں کے لیے سیاسی تحفظ کا انتظام کیا جائے تو اسے احتساب نہیں، اقتدار کی جنگ کہنا زیادہ درست ہوگا۔ قانون کی ساکھ اسی وقت قائم ہوتی ہے جب اس کا راستہ کسی کے عہدے، دولت یا سیاسی اثرورسوخ سے تبدیل نہ ہو۔اس معاملے میں عوام بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں۔ ہم اکثر بدعنوانی کے خلاف بلند آواز سے بات کرتے ہیں، لیکن ذاتی فائدے کے لیے سفارش تلاش کرنے، ناجائز رعایت لینے یا اپنے پسندیدہ شخص کی غلطی چھپانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں میرٹ قائم ہو، مگر اپنے عزیز کو میرٹ سے ہٹ کر آگے بڑھانے کا موقع ملے تو اصول یاد نہیں رہتے۔ ہم حکمرانوں سے دیانت کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن اپنی روزمرہ زندگی میں دیانت کی قیمت ادا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار معاشرتی خرابیوں کو جڑ پکڑنے کا موقع دیتا ہے۔ بدعنوانی صرف بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے فیصلوں سے نہیں بڑھتی، اسے وہ چھوٹے چھوٹے سمجھوتے بھی طاقت دیتے ہیں جنہیں ہم معمولی کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
نئی نسل کے سامنے بھی ہم ایک متضاد تصویر پیش کر رہے ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں کہ محنت کرو، کردار بناؤ اور سچ کا ساتھ دو، لیکن عملی زندگی میں اکثر کامیابی کا تعلق دولت، تعلقات اور طاقت سے جوڑتے ہیں۔ نوجوان جب دیکھتا ہے کہ ایماندار آدمی مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور بااثر شخص قانون سے بچ نکلتا ہے تو اس کے ذہن میں محنت اور اصولوں کی اہمیت مشکوک ہونے لگتی ہے۔ اس کا علاج محض اخلاقی تقریروں سے ممکن نہیں۔ اسے ایسے ادارے چاہییں جہاں میرٹ پر داخلہ ملے، ملازمت کے لیے سفارش ضروری نہ ہو، عدالت میں انصاف خریدنا ممکن نہ ہو اور عوامی عہدہ ذاتی کاروبار نہ بن سکے۔ معاشرے کی اصلاح اس وقت شروع ہوتی ہے جب اچھا کردار صرف نصیحت میں نہیں، عملی زندگی میں بھی فائدہ مند ثابت ہونے لگے۔ قومی خدمت کا اعتراف اور قومی مفاد کا تحفظ کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں۔ کسی رہنما نے اچھا ہسپتال بنایا ہے تو اس خدمت کو تسلیم کیجیے، اس نے تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے تو اس کے مثبت نتائج کو سراہئے، لیکن اگر اس کے کسی فیصلے پر اعتراض ہے تو دلیل کے ساتھ تنقید کیجیے۔ اسی طرح جو شخص آپ کو پسند نہیں، اس کے اچھے کام سے انکار کرکے آپ اس کی شخصیت کو نہیں گھٹاتے، اپنی سوچ کو محدود کرتے ہیں۔ معاشرے کی پختگی اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مخالف کے درست مؤقف کو بھی تسلیم کر سکے اور اپنے محبوب رہنما کی غلطی پر بھی سوال اٹھا سکے۔ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے والی قومیں توانائی تعمیر کے بجائے باہمی لڑائی میں صرف کرتی رہتی ہیں۔ہم ایسے ادارے چاہتے ہیں جو شخصیات کے جانے کے بعد بھی مضبوط رہیں یا ایسے نظام کے عادی ہو چکے ہیں جہاں ہر کام کسی ایک رہنما کے نام سے شروع اور اسی کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایسے محسن درکار ہیں جن کی خدمات کا اعتراف ہو، مگر اس سے بھی زیادہ ایسے اصول چاہییں جو کسی کو قانون سے بالاتر نہ ہونے دیں۔ کیونکہ کسی قوم کی تباہی صرف اس وقت شروع نہیں ہوتی جب اس کے وسائل لوٹے جاتے ہیں، بلکہ اس وقت بھی شروع ہوتی ہے جب اس کے لوگ لوٹ مار پر سوال اٹھانا چھوڑ دیتے ہیں اور خدمت کو سیاسی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ جس دن ہم نے شخصیت کے بجائے کردار، نعرے کے بجائے دلیل اور وفاداری کے بجائے انصاف کو ترجیح دینا سیکھ لیا، اسی دن ہماری قومی اصلاح کا حقیقی آغاز ہوگا۔ ورنہ ہم محسنوں کے نام لیتے رہیں گے۔۔۔مگر ان کی قدر کرنے والی سوچ سے محروم رہیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button