
بھارت یورپی منڈیوں میں پاکستان کے لیے بڑا تجارتی چیلنج بننے کو تیار، ٹیکسٹائل برآمدات خطرے میں، ذرائع
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں اضافہ ہوا لیکن عملیاتی اخراجات اور خطے میں بڑھتا ہوا مقابلہ مزید فوائد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو یورپی منڈیوں میں اپنی مسابقتی برتری سے محروم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ ٹیکسٹائل صنعت کے ایک سرکردہ نمائندے نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ حریف ممالک کو تجارتی رسائی میں بہتری ملنے اور پاکستان میں پیداواری اخراجات میں اضافے سے یہ شعبہ خطرے میں ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پیداواری اخراجات میں کمی اور برآمدات کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش کرے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین بھارت کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدہ نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس معاہدے سے یورپی یونین کے جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی) پلس کے تحت پاکستان کو محصولات میں حاصل رعایت کم ہو سکتی ہے۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات جنوری میں مکمل ہوئے تھے۔ بھارت کے وزیرِ تجارت نے جمعرات کو کہا، یہ معاہدہ 2027 کے اوائل سے فعال ہو سکتا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (ایس اے آئی) کے صدر عبدالہادی نے کہا، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں اضافہ ہوا لیکن عملیاتی اخراجات اور خطے میں بڑھتا ہوا مقابلہ مزید فوائد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے صنعتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا، "مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات گذشتہ سال کے مقابلے میں 5.26 فیصد اضافے کے ساتھ 5.026 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں لیکن پیداواری اخراجات میں اضافہ اور علاقائی برآمد کنندگان کی جانب سے مقابلہ اس ترقی کو متأثر کر سکتا ہے۔”
پاکستان میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ اور روزگار اور زرِ مبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یورپی یونین اس کی ایک اہم ترین منڈی ہے جہاں جی ایس پی پلس کے تحت حاصل خصوصی مراعات کی بدولت پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی تعداد بغیر کسی ڈیوٹی کے یورپی یونین میں داخل ہو سکتی ہے۔
عبدالہادی نے کہا، پاکستان غیر معینہ مدت کے لیے موجودہ تجارتی مراعات پر انحصار نہیں کر سکتا اور مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اسے اپنی پیداواری صلاحیت، مصنوعات کا معیار اور صنعتی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تجارتی سفارت کاری کو مضبوط اور اضافی برآمدی منڈیوں تک محفوظ رسائی اور کاروباری اخراجات کم کرے۔
ایسوسی ایشن کے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات تقریباً 18 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ شعبہ ملک کی برآمدی آمدنی کا تقریباً 60 فیصد تھا۔
عبد الہادی نے کہا کہ پاکستان نسبتاً کم بیش قدر مصنوعات بشمول دھاگے، فیبرک اور بنیادی گھریلو ٹیکسٹائل پر بہت زیادہ انحصار کرتا رہا جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ منافع کمانے کی صلاحیت محدود رہی ہے۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری نیز تکنیکی ٹیکسٹائل، برانڈڈ ملبوسات اور دیگر اعلیٰ مارجن والی مصنوعات میں زیادہ سرمایہ کاری پر زور دیا۔
سائٹ کے سربراہ نے کپاس کی ملکی پیداوار میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے ٹیکسٹائل کا درآمدی خام مال پر انحصار بڑھ گیا۔
انہوں نے اس پر بھی زور دیا کہ مسابقتی قیمتوں پر معیاری خام مال کی قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت کپاس کی ملکی پیداوار کو بہتر اور زرعی و صنعتی شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرے۔



