
چین کنزیومر ٹیکنالوجی کی دنیا پر کیسے چھا گیا؟
ماضی میں "میڈ اِن چائنا" عام طور پر کم قیمت مصنوعات کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن ماہرین کے مطابق اب صورتحال بدل چکی ہے۔
بینیامین باتھکے
چینی کمپنیوں ڈی جے آئی اور انسٹا360 نے گزشتہ چند برسوں میں ایکشن کیمروں کی مارکیٹ میں قدم رکھا اور اب یہ عالمی اسمارٹ ہینڈ ہیلڈ کیمرا مارکیٹ کا بڑا حصہ اپنے نام کر چکی ہیں۔
الیگزینڈر ہانیمان اپنی موٹر سائیکل رائڈز کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دو سال قبل گو پرو چھوڑ کر انسٹا360 استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے مطابق تصویر کا معیار بہتر ہے، خاص طور پر تیز رفتار سفر کے دوران۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں چین کا بدلتا امیج
ماضی میں "میڈ اِن چائنا” عام طور پر کم قیمت مصنوعات کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن ماہرین کے مطابق اب صورتحال بدل چکی ہے۔

کینیڈین کاروباری شخصیت اور مصنف کرس پریرا کے مطابق چین آج بھی نسبتاً سستی مصنوعات بناتا ہے، لیکن اب ان کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں متعارف ہونے والی نئی کنزیومر ٹیکنالوجی مصنوعات کا بڑا حصہ چینی کمپنیوں کی جانب سے آ رہا ہے۔
یہ رجحان صرف کیمروں تک محدود نہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں میں بی وائی ڈی اور ایکس پینگ جیسی چینی کمپنیوں نے عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اسی طرح روبوٹ ویکیوم کلینرز کی مارکیٹ میں بھی چینی کمپنیوں کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے۔
چینی کمپنیاں کیسے آگے نکل رہی ہیں؟
ماہرین کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ چین کے بڑے شہروں شین ژین، ہانگ ژو اور شنگھائی میں سخت کاروباری مسابقت کمپنیوں کو تیزی سے جدت لانے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مضبوط سپلائی چین، جدید فیکٹریاں، مصنوعی ذہانت کا استعمال اور نسبتاً کم لاگت بھی چینی مصنوعات کو مسابقتی برتری دیتی ہے۔

امریکہ میں مقیم کاروباری شخصیت جوئی چینگ، جن کی کمپنی کی تیاری کا زیادہ تر کام شین ژین میں ہوتا ہے، کہتے ہیں کہ نئی مصنوعات کو جلد مارکیٹ میں لانے کے لیے چین کی سپلائی چین تقریباً ناگزیر ہے۔
ان کے بقول اگر کوئی کمپنی تیزی سے نئی مصنوعات متعارف نہ کرا سکے تو مقابلے میں پیچھے رہ سکتی ہے۔
صارفین کے خدشات بھی برقرار
اگرچہ دنیا بھر میں چینی مصنوعات کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، لیکن ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری سے متعلق خدشات اب بھی موجود ہیں۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق یورپ کے بیشتر شہری چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اپنے ذاتی ڈیٹا کے حوالے سے مکمل اعتماد نہیں کرتے۔ جرمنی میں یہ خدشات خاص طور پر زیادہ پائے جاتے ہیں۔
جرمن ٹریول بلاگر نادین، جو ڈی جے آئی اور انسٹا360 کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ اپنے گھر کے لیے غیر یورپی روبوٹ ویکیوم استعمال نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق گھر کے اندر موجود آلات سے ذاتی معلومات اور ویڈیو ڈیٹا تک رسائی کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔
چینی کمپنیاں کہتی ہیں کہ وہ یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی پابندی کرتی ہیں، تاہم بعض ماہرین کے مطابق صارفین کا اعتماد حاصل کرنا ان کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
کیا نئی تجارتی جنگ شروع ہو رہی ہے؟
چینی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث امریکہ اور بعض مغربی ممالک نے درآمدی محصولات، پابندیوں اور دیگر قواعد متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ حالیہ برسوں میں متعدد چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اقدامات کر چکا ہے۔ بعض حکومتوں کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر یورپی یونین بھی چینی کمپنیوں پر مزید محصولات عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال کے جواب میں چینی کمپنیاں بیرون ملک فیکٹریاں قائم کرنے اور صرف کم قیمت مصنوعات کے بجائے اعلیٰ معیار کے پریمیم برانڈز کے طور پر خود کو منوانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کیا یورپ مقابلہ کر سکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی کمپنیوں کو مقابلے کے لیے مخصوص شعبوں میں مہارت پیدا کرنا ہوگی یا پھر چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ماڈلز اپنانا ہوں گے۔
کرس پریرا کے مطابق یورپ کو ایک اور چیلنج کا سامنا ہے: ضابطہ سازی کی رفتار۔ ان کے بقول چین میں کمپنیوں کو نسبتاً تیزی سے حکومتی رہنمائی مل جاتی ہے، جبکہ یورپ میں فیصلوں اور منظوریوں میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
ان کے مطابق تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں سست روی کاروباری نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
چین کی بڑھتی ہوئی تکنیکی برتری سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی صارفین کی ٹیکنالوجی کی منڈی میں مقابلہ اب صرف قیمت کا نہیں بلکہ جدت، رفتار اور اعتماد کا بھی ہے۔ مغربی کمپنیوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ اس نئی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھال سکتی ہیں یا نہیں۔



