تازہ ترینمشرق وسطیٰ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا شمالی عراق میں کرد گروپ کے ٹھکانوں پر حملہ

ایران عراق میں متعدد کرد گروپوں کو ’’دہشت گرد تنظیمیں‘‘ قرار دیتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایران میں آباد کرد اقلیت کو بھی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے شمالی عراق میں ایران کی سرحد کے قریب کردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ تہران کی حکومت کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی مہر نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔
مہر کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورسز نے رات کے وقت ڈرون کارروائی کرتے ہوئے عراق کے علاقے بالیسان میں کرد تنظیم کوملہ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔ ایجنسی نے اس کارروائی کو ’’پیشگی جارحانہ اقدامات‘‘ کا حصہ قرار دیا۔ ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ایران عراق میں متعدد کرد گروپوں کو ’’دہشت گرد تنظیمیں‘‘ قرار دیتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایران میں آباد کرد اقلیت کو بھی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب گزشتہ برسوں کے دوران عراق میں کردوں کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کر چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران اور عراق کی سرحد پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
کرد ایک نسلی گروہ ہیں جن کی مجموعی آبادی تقریباً تین کروڑ بتائی جاتی ہے۔ وہ بنیادی طور پر عراق، ایران، شام اور ترکی میں آباد ہیں۔ کرد کئی دہائیوں سے اپنی آزاد ریاست کے قیام کی جدوجہد کرتے آئے ہیں اور عراق و ایران دونوں میں انہیں طویل عرصے سے ظلم و جبر کا سامنا رہا ہے۔
عراق میں خودمختار کرد خطہ 2003ء میں آمر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وجود میں آیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button