
تاریخ کا ادھورا سچ……علی عباس کاظمی
جب ایک معاشرے میں محنت کرنے والے کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی جدوجہد کرنا پڑے، جبکہ وسائل اور تعلقات رکھنے والے کے لیے راستے آسان ہوں، تو مسئلہ صرف بے روزگاری نہیں رہتا
معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری اپنی جگہ سنگین مسائل ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی صلاحیتوں، محنت اور مستقبل پر اپنے ہی وطن میں بھروسا کھو بیٹھتا ہے۔ آج پاکستان کے بہت سے نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک جانا محض بہتر آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسے نظام سے نجات کی کوشش بن چکا ہے جس میں انہیں اپنی قابلیت سے زیادہ سفارش، اپنی محنت سے زیادہ تعلقات اور اپنے خوابوں سے زیادہ دوسروں کی مرضی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کسی نوجوان کو بہتر زندگی کی تلاش میں جانے سے روکنا ناانصافی ہے، لیکن یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ ایک ایسا ملک، جس کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اپنی سب سے قیمتی انسانی قوت کو اپنے مستقبل کی تعمیر میں شریک کرنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتا ہے؟ہم اکثر نوجوانوں کی ہجرت کو ڈالر، تنخواہ اور روزگار کے حساب سے دیکھتے ہیں، مگر اس فیصلے کے پیچھے موجود بے اعتمادی کا حساب کون لگائے گا؟ ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرتا ہے، والدین اپنی جمع پونجی اس پر خرچ کرتے ہیں، خاندان اپنی ضروریات کم کرکے اس کی فیس ادا کرتا ہے، مگر تعلیم مکمل ہونے کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ ڈگری ملازمت کی ضمانت نہیں اور قابلیت ترقی کا یقینی راستہ نہیں۔ دوسری طرف بااثر خاندانوں کے لیے مواقع کے دروازے نسبتاً آسانی سے کھلتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب ایک معاشرے میں محنت کرنے والے کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی جدوجہد کرنا پڑے، جبکہ وسائل اور تعلقات رکھنے والے کے لیے راستے آسان ہوں، تو مسئلہ صرف بے روزگاری نہیں رہتا، انصاف پر اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔ نوجوان ایسی صورتِ حال میں ملک سے کم اور اس نظام سے زیادہ بددل ہوتا ہے جو اس کی محنت کو مناسب مقام دینے میں ناکام ہو۔
اس بحران کا ایک پہلو ہماری قومی تاریخ کو سمجھنے کے انداز میں بھی پوشیدہ ہے۔ برصغیر کی تاریخ کو اگر صرف مذہبی تقسیم، سیاسی تصادم اور قومی سرحدوں کے تناظر میں پڑھایا جائے تو نئی نسل اس خطے کی تہذیبی پیچیدگی، مشترکہ معاشرتی تجربات اور فکری تنوع سے محروم رہ جاتی ہے۔ اس سرزمین پر زبانیں ایک دوسرے سے اثر قبول کرتی رہیں، شاعری نے مذہبی اور سماجی حدوں سے آگے انسان کی مشترکہ محرومیوں کو آواز دی اور مختلف عقائد کے لوگ ایک دوسرے کے روزمرہ تجربات کا حصہ رہے۔ اس تاریخ کو تسلیم کرنے سے پاکستان کی شناخت کمزور نہیں ہوتی، بلکہ اسے ایک وسیع تر تاریخی شعور میسر آتا ہے۔جب کوئی قوم اپنی تاریخ کے ایک حصے کو ہی پوری حقیقت سمجھ لے اور باقی حقائق کو رد کر دے تو اس کا شعور تحقیق کے بجائے عقیدت کا محتاج بن جاتا ہے۔ ایسی عقیدت وقتی طور پر جذبات ابھار سکتی ہے، مگر پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتی۔پاکستان کا قیام ایک حقیقی تاریخی عمل تھا، جس کے پیچھے سیاسی مطالبات، نمائندگی کے اختلافات، نوآبادیاتی حکمتِ عملی، معاشی مفادات اور مذہبی شناخت سمیت متعدد عوامل کارفرما تھے۔ اس تاریخ کا سنجیدہ مطالعہ نہ قیامِ پاکستان کی اہمیت سے انکار کا تقاضا کرتا ہے، نہ کسی ایک نظریے کو ہر مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی اجازت دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کو سیاسی ضرورت کے مطابق تراشنے کے بجائے اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھا جائے۔ جب نئی نسل کو صرف وہ واقعات اور شخصیات دکھائی جائیں جو پہلے سے طے شدہ قومی بیانیے کی تائید کرتے ہوں تو اس کی فکری تربیت ادھوری رہ جاتی ہے۔ جو طالب علم اپنی درسی کتاب سے اختلاف کرنے، کسی تاریخی دعوے کی تصدیق کرنے یا استاد سے دلیل مانگنے کا حوصلہ نہیں پاتا، وہ عملی زندگی میں طاقت ور کے سامنے سوال اٹھانے کی عادت کیسے پیدا کرے گا؟ فکری آزادی کا آغاز کتاب سے ہوتا ہے، مگر اس کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سوال کسی بااختیار شخص کے مفاد کو چھونے لگے۔
ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے انتظامات کرتی ہیں، لیکن سلامتی کا تصور جب شہریوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی ضرورتوں پر غالب آ جائے تو ترجیحات کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ قومی تحفظ صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ بھوکے بچے کی خوراک، بیمار شہری کا علاج، طالب علم کی معیاری تعلیم، مزدور کی اجرت اور عام آدمی کو انصاف کی فراہمی بھی قومی سلامتی کے بنیادی اجزا ہیں۔ اگر ایک ریاست خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل تو جمع کر لے، مگر اپنے شہریوں کو عدم تحفظ، معاشی بے یقینی اور ناانصافی سے نہ بچا سکے تو اس کی کامیابی کا پیمانہ نامکمل رہتا ہے۔ دفاع اور انسانی ترقی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں، لیکن قومی وسائل کی تقسیم، پالیسیوں کی ترجیحات اور اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ عوام سے وفاداری کا مطالبہ کرنے والے اداروں کو بھی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے۔سیاسی اور معاشی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا ایک آسان طریقہ معاشرے کو مستقل خوف میں مبتلا رکھنا ہے۔ کبھی کسی بیرونی دشمن کا خطرہ، کبھی کسی اندرونی گروہ سے نفرت، کبھی زبان اور مذہب کے نام پر تقسیم، اور کبھی اختلاف کرنے والوں کی حب الوطنی پر سوال۔ اس ماحول میں عام شہری کی توجہ اس بات سے ہٹ جاتی ہے کہ اس کی آمدنی کیوں کم ہو رہی ہے، تعلیم کیوں مہنگی ہے، سرکاری ادارے کیوں جواب دہ نہیں اور وسائل کی تقسیم میں انصاف کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ شناخت، مذہب اور وطن سے وابستگی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن انہیں شہری حقوق سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بنا دینا معاشرے کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔ جو شخص اپنے بنیادی مسائل پر بات کرنے کے بجائے ہر وقت کسی دوسرے شہری کی وفاداری جانچنے میں مصروف رہے، وہ انجانے میں ان خرابیوں کو مضبوط کر سکتا ہے جن سے خود بھی متاثر ہو رہا ہوتا ہے۔
اس صورتِ حال میں نوجوانوں کی بے عملی کا الزام لگانا بھی آسان ہے اور ان کی تمام مشکلات کا ذمہ دار ریاست کو قرار دے دینا بھی۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ایسا نوجوان جس نے سیاسی احتجاج کے نتائج میں تشدد، گرفتاری، تعلیمی نقصان یا معاشی غیر یقینی دیکھی ہو، وہ اجتماعی جدوجہد سے دور رہنے کو دانش مندی سمجھ سکتا ہے۔ جب اس کے سامنے روزگار کے محدود مواقع ہوں اور گھر کی ذمہ داریاں فوری فیصلوں کا تقاضا کریں تو وہ برسوں کی سیاسی جدوجہد کے بجائے بیرونِ ملک ملازمت کو ترجیح دے سکتا ہے۔ اسے بزدل کہنا آسان ہے، مگر اس کے خوف اور مجبوریوں کو سمجھے بغیر اس پر اخلاقی فیصلہ صادر کرنا ناانصافی ہوگی۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہر باصلاحیت فرد صرف اپنی نجات کی فکر کرے اور مشترکہ مسائل سے لاتعلق ہو جائے تو ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے مزید کم ہوتے جائیں گے۔ انفرادی کامیابی ضروری ہے، لیکن اجتماعی زندگی سے مکمل لاتعلقی آخرکار انفرادی زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ ہم نے کامیابی کا معیار بہت محدود کر دیا ہے۔ اچھا گھر، زیادہ تنخواہ، بیرونِ ملک ملازمت اور بہتر طرزِ زندگی کامیابی کے اہم پہلو ہو سکتے ہیں، مگر کیا کسی معاشرے کی کامیابی صرف اس بات سے ناپی جا سکتی ہے کہ اس کے افراد کتنی رقم کماتے ہیں؟ اگر ایک استاد کو اپنے ملک میں مناسب تنخواہ نہ ملے، ایک محقق کو تحقیق کے وسائل میسر نہ ہوں، ایک ہنر مند نوجوان کو کاروبار شروع کرنے کے لیے قرض اور سہولت نہ ملے اور ایک عام شہری کو اپنے جائز حق کے لیے سفارش ڈھونڈنی پڑے تو اسے صرف حب الوطنی کا درس دینا مسئلے سے فرار ہے۔ وطن سے تعلق جذباتی تقریروں سے مضبوط نہیں ہوتا، بلکہ اس تجربے سے پیدا ہوتا ہے کہ یہاں انسان کی عزت محفوظ ہے، قانون اس کے لیے بھی موجود ہے اور اس کی محنت کسی بااثر شخص کی اجازت کی محتاج نہیں۔
اصلاح کا راستہ بھی نعروں کے بجائے عملی تبدیلیوں سے نکلے گا۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، تعلیمی نصاب کو تحقیق اور تنقیدی سوچ سے جوڑنا، بھرتیوں میں میرٹ یقینی بنانا، چھوٹے کاروباروں کے لیے آسان شرائط پر مالی سہولت فراہم کرنا، سرکاری اداروں کو جواب دہ بنانا اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار دینا بنیادی اقدامات ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو نوجوانوں کو محض انتخابی جلسوں کا ہجوم بنانے کے بجائے پالیسی سازی میں شریک کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں اختلاف کو بدتمیزی اور سوال کو بغاوت سمجھنے کے رویے بدلنے ہوں گے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی نوجوانوں کے مسائل کو صرف مایوسی، جرائم یا بیرونِ ملک روانگی کی خبروں تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے اسباب اور ممکنہ حل پر گفتگو کرنی چاہیے۔ خاندانوں کو اپنی اولاد کے خوابوں کو سمجھنا ہوگا، جبکہ نوجوانوں کو بھی اپنے حقوق کے شعور کے ساتھ ذمہ داری، تنظیم اور مسلسل سیکھنے کی عادت اپنانی ہوگی۔جس نسل کو فیصلوں میں شریک نہ کیا جائے، اس سے ہر ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کی توقع رکھنا غیر منصفانہ ہے۔ ریاست کو مواقع پیدا کرنے ہوں گے، اداروں کو قانون کا پابند ہونا ہوگا، سیاسی قیادت کو ذاتی اقتدار سے آگے دیکھنا ہوگا اور معاشرے کو اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو شہری تسلیم کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اپنی زندگی بہتر بنانے اور اجتماعی حالات بدلنے کی کوششیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں۔ بیرونِ ملک جانا کسی کی غداری نہیں، جس طرح ملک میں رہ جانا خودبخود حب الوطنی کا ثبوت نہیں۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ انسان جہاں بھی ہو، اپنے کردار، دیانت اور صلاحیت سے زندگی کو بہتر بنانے میں کیا حصہ ڈالتا ہے۔اگر نوجوانوں کو اپنے ملک میں رہنے کی ترغیب دینی ہے تو انہیں ماضی کے قصوں سے زیادہ حال کی منصفانہ حقیقت دکھانا ہوگی۔ انہیں ایسا نظام چاہیے جہاں محنت کا صلہ تعلقات کے تابع نہ ہو، سوال کرنے پر کردار کشی نہ کی جائے اور ترقی کے راستے چند مخصوص طبقوں تک محدود نہ رہیں۔ نوجوانوں کو وطن سے محبت کا سبق پڑھانے والے یہ بھی بتائیں کہ وطن ان کے خوابوں کے لیے کیا جگہ پیدا کر رہا ہے۔ جب تک اس سوال کا جواب عملی زندگی میں نہیں ملتا، روانگی کے خواہش مند نوجوانوں کی تعداد کم کرنے کے لیے تقریریں کافی نہیں ہوں گی۔ قومیں اپنی نسلوں کو سرحدوں کے اندر قید کرکے نہیں، ان کے لیے امید، انصاف اور باوقار مستقبل پیدا کرکے اپنے ساتھ جوڑتی ہیں۔


