
رانا ذاہد اشفاق-پاکستان
پاکستان رینجرز نے نارووال کے اسپورٹس سٹی ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ہاکی سیریز کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں چین کی ٹیم گوانگ ڈونگ (Guangdong) کو 1-3 سے شکست دے دی۔ میچ کے پہلے حصے میں دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم دوسرے ہاف میں پاکستان رینجرز نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے دو مزید گول کیے اور کامیابی اپنے نام کرلی۔ مقابلہ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
نارووال میں منعقد ہونے والا یہ مقابلہ پاکستان میں ہاکی کے فروغ اور مقامی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہوا۔ شائقین کی بھرپور موجودگی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی کے لیے اب بھی عوامی دلچسپی موجود ہے اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو اس کھیل کو دوبارہ مقبول بنایا جا سکتا ہے۔
پہلے ہاف میں سخت مقابلہ، دونوں ٹیمیں برابر رہیں
پاکستان رینجرز اور گوانگ ڈونگ کے درمیان میچ کے ابتدائی دو کوارٹرز میں دونوں جانب سے بھرپور مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ کھلاڑیوں نے حریف ٹیم کے دفاع کو توڑنے اور گول کرنے کے لیے متعدد کوششیں کیں، تاہم پہلے ہاف میں مقابلہ برابر رہا۔
دونوں ٹیموں نے دفاعی حکمت عملی کے ساتھ حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ گوانگ ڈونگ کی ٹیم نے پاکستانی کھلاڑیوں کو سخت چیلنج دیا، جبکہ پاکستان رینجرز نے بھی میدان میں اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی کوشش کی۔
میچ کے دوسرے حصے میں پاکستان رینجرز نے بہتر تال میل اور مؤثر حملوں کے ذریعے مقابلے کا رخ اپنے حق میں موڑ دیا۔ اہم مواقع پر گول کرنے کی صلاحیت نے ٹیم کو فیصلہ کن برتری دلائی اور بالآخر رینجرز نے 1-3 سے کامیابی حاصل کی۔
محمد سمیع کا شارٹ کارنر، رینجرز کو برتری
میچ کے 37ویں منٹ میں پاکستان رینجرز کے محمد سمیع نے شارٹ کارنر پر شاندار گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ ان کے اس گول نے مقابلے میں پاکستان رینجرز کی پوزیشن مضبوط کی اور میدان میں موجود شائقین کی توجہ حاصل کی۔
تاہم گوانگ ڈونگ نے ہمت نہ ہاری اور صرف تین منٹ بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے میچ برابر کر دیا۔ 40ویں منٹ میں چینی ٹیم کے کھلاڑی فونگ ژیانگ ژوان (Fong Xiang Xuan) نے پینالٹی کارنر پر گول کرکے مقابلے کا اسکور 1-1 کر دیا۔
اس گول کے بعد میچ میں ایک مرتبہ پھر سنسنی پیدا ہوگئی اور دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا۔ گوانگ ڈونگ کی جانب سے اسکور برابر کیے جانے کے باوجود پاکستان رینجرز نے دباؤ میں آنے کے بجائے اپنے حملے جاری رکھے۔
عامر سہیل اور محمد حماد کے فیصلہ کن گول
پاکستان رینجرز نے میچ کے 45ویں منٹ میں ایک مرتبہ پھر برتری حاصل کرلی، جب عامر سہیل نے عمدہ فیلڈ گول اسکور کیا۔ ان کے گول کے نتیجے میں پاکستان رینجرز کو 1-2 کی سبقت حاصل ہوگئی۔
اس گول نے میچ کے آخری حصے میں پاکستانی ٹیم کو نفسیاتی برتری فراہم کی، جبکہ گوانگ ڈونگ نے خسارہ ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردیں۔ چینی ٹیم نے واپسی کے لیے حملے کیے، لیکن پاکستان رینجرز نے اپنے دفاع کو منظم رکھتے ہوئے حریف کو مزید گول کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
مقابلے کے 55ویں منٹ میں محمد حماد نے ایک اور شاندار فیلڈ گول کرکے پاکستان رینجرز کی برتری 1-3 کر دی۔ اس گول کے بعد رینجرز نے دو گول کی سبقت حاصل کرلی اور میچ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی۔
باقی وقت میں گوانگ ڈونگ کے لیے اسکور برابر کرنا مشکل ثابت ہوا اور پاکستان رینجرز نے 1-3 سے کامیابی حاصل کی۔ میچ میں محمد سمیع، عامر سہیل اور محمد حماد کے گول پاکستان رینجرز کی فتح میں اہم ثابت ہوئے۔
احسن اقبال اور پی ایچ ایف صدر کی اسٹیڈیم میں موجودگی
میچ کے موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کے صدر محی الدین احمد وانی بھی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔
دونوں شخصیات کی اسٹیڈیم میں موجودگی نے مقابلے کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا۔ نارووال میں اس نوعیت کے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد مقامی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو ہاکی کی جانب راغب کرنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی، جو بین الصوبائی رابطہ ڈویژن (IPC) کے سیکرٹری بھی ہیں، نے احسن اقبال اور نارووال کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مقابلے کے کامیاب انعقاد کے لیے تعاون اور مقامی شائقین کی جانب سے ملنے والی حوصلہ افزائی کو سراہا۔
وانی کے مطابق مقامی ہاکی شائقین کا پرجوش خیرمقدم پاکستان میں اس کھیل کے مستقبل کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ شائقین کی بڑی تعداد میں اسٹیڈیم آمد اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ہاکی کے مقابلوں کو عوام تک پہنچانے اور کھیلوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت برقرار ہے۔
سیریز کے پانچویں میچ میں رینجرز کی کامیابی
پاکستان رینجرز اور گوانگ ڈونگ کے درمیان یہ مقابلہ جاری ہاکی سیریز کا پانچواں میچ تھا۔ سیریز کے دوران مختلف پاکستانی ٹیموں نے چینی ٹیم کے خلاف مقابلے کیے، جن میں کئی دلچسپ اور سنسنی خیز لمحات دیکھنے میں آئے۔
اس سے قبل ماری انرجیز (Mari Energies) نے گوانگ ڈونگ کو 2-5 سے شکست دی تھی، جبکہ کسٹمز کی ٹیم بھی چینی حریف کے خلاف 2-3 سے کامیاب رہی تھی۔
اسلام آباد کے نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک اور مقابلے میں نیوی نے گوانگ ڈونگ کو 1-3 سے ہرایا۔ دوسری جانب مہمان چینی ٹیم نے بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد شوٹ آؤٹ میں پاکستان آرمی کو 2-4 سے شکست دی۔
ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیریز میں پاکستانی ٹیموں اور چینی مہمان ٹیم کے درمیان مختلف مقابلوں میں سخت مسابقت دیکھنے میں آئی۔ ایسے مقابلے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں آزمانے، کھیل کے معیار کو بہتر بنانے اور مختلف حکمت عملیوں کے تجربے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان میں ہاکی کی بحالی کی امیدیں
پاکستان ہاکی فیڈریشن ملک میں قومی کھیل کی سابقہ شان بحال کرنے اور ہاکی کو دوبارہ عوامی مقبولیت دلانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان ایک وقت میں عالمی ہاکی کی نمایاں طاقتوں میں شمار ہوتا تھا اور اس نے بین الاقوامی سطح پر متعدد اہم کامیابیاں حاصل کیں، تاہم گزشتہ برسوں میں قومی ٹیم کو عالمی مقابلوں میں اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
ہاکی کے زوال کی وجوہات پر مختلف حلقوں میں بحث ہوتی رہی ہے، جن میں کھیل کے بنیادی ڈھانچے، کھلاڑیوں کی تربیت، جدید سہولیات، مسلسل بین الاقوامی مقابلوں اور نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش جیسے امور کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں مقامی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کا انعقاد کھلاڑیوں کو عملی تجربہ فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
نارووال میں پاکستان رینجرز اور گوانگ ڈونگ کے درمیان مقابلہ بھی اسی سلسلے کی ایک سرگرمی ہے، جس نے مقامی شائقین کو معیاری ہاکی دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ اسٹیڈیم میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی اس بات کی امید پیدا کرتی ہے کہ اگر کھیل کے مقابلوں کو باقاعدگی سے منعقد کیا جائے، نوجوان کھلاڑیوں کو مناسب تربیت دی جائے اور ہاکی کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تو اس کھیل میں عوامی دلچسپی کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ہاکی کی حقیقی بحالی کے لیے صرف چند میچوں کا انعقاد کافی نہیں ہوگا، بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی، مضبوط کلب نظام، مؤثر کوچنگ، نوجوانوں کی تربیت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تیاری بھی ضروری ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں کو بڑے شہروں سے باہر مختلف اضلاع تک وسعت دینا بھی اہمیت رکھتا ہے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں موجود باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں۔
نارووال میں شائقین کی شرکت حوصلہ افزا
نارووال اسپورٹس سٹی ہاکی اسٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد نے مقابلے کو ایک بھرپور کھیلوں کی تقریب میں تبدیل کردیا۔ عوامی شرکت نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کھیلوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
پاکستان رینجرز کی 1-3 سے کامیابی نے مقابلے کو پاکستانی شائقین کے لیے یادگار بنا دیا، تاہم سیریز کے دیگر میچوں میں گوانگ ڈونگ کی کامیابی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ مہمان ٹیم نے مختلف حریفوں کے خلاف مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
مجموعی طور پر نارووال میں کھیلا گیا یہ میچ پاکستان میں ہاکی کے فروغ، عوامی دلچسپی میں اضافے اور مقامی سطح پر کھیلوں کے انعقاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اب توجہ اس امر پر ہوگی کہ ایسے مقابلوں سے حاصل ہونے والے تجربے کو کس طرح مستقل تربیتی پروگراموں اور بہتر کھیلوں کے نظام میں تبدیل کیا جاتا ہے، تاکہ پاکستان مستقبل میں عالمی ہاکی میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی جانب پیش رفت کرسکے۔



