
حوثی حملوں میں شدت کے بعد مصر کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی حمایت کا فیصلہ
مصری پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے صدر السیسی کو سعودی عرب کی سرزمین، خودمختاری اور مقدس مقامات کے دفاع میں مدد دینے کا اختیار دے دیا؛ فوجی تعیناتی کی تفصیلات تاحال واضح نہیں، یمن کا تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ
قاہرہ (وائس آف جرمنی اردو نیوز) یمن کے حوثی گروپ کے حملوں میں شدت اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع میں فوجی حمایت فراہم کرنے کے لیے صدر عبدالفتاح السیسی کو اختیار دے دیا ہے۔ مصری ارکانِ پارلیمنٹ اور مقامی میڈیا کے مطابق، پیر کو بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے دوران یہ منظوری دو تہائی اکثریت سے دی گئی۔ اس فیصلے سے مصر کے علاقائی تنازع میں براہِ راست کردار ادا کرنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، تاہم تاحال مصری فوجیوں کی تعیناتی یا کسی مخصوص فوجی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور بحیرہ احمر کے اہم تجارتی راستوں کی سلامتی پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ مصر کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور اس کے ذریعے جہاز نہرِ سویز تک پہنچتے ہیں۔ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے میں عدم استحکام مصر کی معیشت اور خطے کی بحری سلامتی کو متاثر کرسکتا ہے۔
صدر السیسی کی درخواست پر پارلیمانی منظوری
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر سعودی عرب حوثیوں کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران مدد طلب کرے تو مصر کو اپنے خلیجی اتحادی کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے کی اجازت دی جائے۔
پارلیمنٹ کے بیان کے مطابق، قانون سازوں نے صدر کی درخواست پر 18، 19 اور 26 اکتوبر کو بند کمرے کے اجلاسوں میں علاقائی صورتحال، مصر اور عرب ممالک کی قومی سلامتی اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا۔ پیر کو ہونے والے اجلاس میں غور و خوض کے بعد صدر کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر اس کی سرزمین، خودمختاری اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔
اجلاس کی صدارت پارلیمنٹ کے اسپیکر ہشام بدوی نے کی۔ مبینہ طور پر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور آزاد ارکان نے بھی بحث میں حصہ لیا۔
پارلیمانی بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ فیصلہ مصر کی قومی دفاعی کونسل کے 18 اکتوبر کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق ہے۔ تاہم، بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ مصر کس نوعیت کی فوجی یا دفاعی مدد فراہم کرے گا، آیا اس میں فضائی دفاع، بحری تعاون، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ یا زمینی فوجیوں کی تعیناتی شامل ہوگی۔
اس لیے پارلیمانی منظوری کو مصری فوج کی فوری تعیناتی یا یمن میں براہِ راست جنگ میں شمولیت کا حتمی اعلان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی عرب اور دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی گروپ کے درمیان تنازع ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں میں لڑائی اور علاقائی کشیدگی میں اضافے نے اس تنازع کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
حوثی گروپ کو ایران کی حمایت حاصل رہی ہے، جبکہ سعودی عرب یمن کی تسلیم شدہ حکومت کا اہم حامی ہے۔ اس تنازع میں مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اہم اہداف، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو شامل ہیں، کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں پروازوں اور تیل کی برآمدات میں خلل پڑنے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ تاہم، ان مخصوص حملوں، ان کے نقصانات اور ذمہ داری کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
سعودی عرب کے لیے توانائی کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کا تحفظ نہ صرف قومی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔ سعودی تیل کی ترسیل یا بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی متاثر ہونے کی صورت میں بین الاقوامی منڈیوں اور سپلائی چینز پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مصر کی حمایت سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رکھنے کا عندیہ
مصر نے حالیہ عرصے میں خلیجی ممالک پر ایران اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کے حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن قاہرہ نے براہِ راست فوجی کارروائی میں شمولیت کے معاملے پر محتاط طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور ملک کے انٹیلی جنس چیف حسن رشاد کے ریاض کے دورے کو بھی اسی سفارتی اور سکیورٹی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، دونوں حکام نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صدر السیسی کا پیغام پہنچایا۔
صدر السیسی نے مبینہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ مصر کی ممکنہ فوجی حمایت سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی، نہ کہ یمن پر حملوں میں شرکت کے لیے۔
ریاض کے دورے کے بعد بدر عبدالعاطی نے کہا کہ قاہرہ یمن کے تنازع کے سفارتی حل کے لیے ہر ممکن موقع تلاش کرنے کا حامی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر ایک طرف سعودی عرب کے دفاع کے لیے تعاون کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب تنازع کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔
مکہ باہمی دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت پر غور
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان اگست میں طے پانے والے مکہ باہمی دفاعی معاہدے میں مصر کی عدم شمولیت بھی علاقائی دفاعی تعاون کے تناظر میں اہم ہے۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے رواں ماہ کہا تھا کہ اس معاہدے میں شمولیت کے معاملے پر قاہرہ میں سنجیدہ غور و فکر جاری ہے۔ تاہم، مصر کی پارلیمنٹ کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے دی گئی حالیہ منظوری کو اس معاہدے میں شمولیت کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ دونوں معاملات کی قانونی اور سفارتی حیثیت الگ ہے، جب تک مصری حکومت کی جانب سے اس حوالے سے واضح اعلان سامنے نہ آئے۔
مصر خطے کی بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور عرب دنیا میں اس کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے قریبی سیاسی اور اقتصادی تعلقات بھی ہیں، اس لیے قاہرہ کا کوئی بھی دفاعی فیصلہ علاقائی توازن پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
یمن میں مصر کی سابقہ فوجی مداخلت
مصر اس سے پہلے بھی یمن کے تنازع میں فوجی کردار ادا کرچکا ہے۔ مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی کارروائیوں کے آغاز پر مصر اس اتحاد کا حصہ بنا تھا۔ اس وقت مصری کردار میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیجنا اور فضائی مدد فراہم کرنے کا وعدہ شامل تھا۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، مصر نے تقریباً 800 زمینی فوجی بھی تعینات کیے تھے، تاہم جنگی کارروائیوں میں ان کا کردار محدود رہا۔
اس سے پہلے 1960 کی دہائی میں مصر یمن میں ایک بڑے فوجی تنازع کا حصہ بن چکا تھا، جس میں اسے بھاری فوجی اور مالی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ اس تاریخی تجربے کے باعث بیرونِ ملک بڑی تعداد میں زمینی فوج بھیجنے کے فیصلے کو مصر کے لیے ایک اہم تزویراتی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے مصر نے بیرونِ ملک اتنے بڑے پیمانے پر زمینی فوج تعینات نہیں کی، جیسا کہ اس کی سابقہ مداخلتوں میں دیکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ پارلیمانی منظوری کے بعد بھی فوجی تعیناتی کی نوعیت، دائرۂ کار اور ممکنہ مدت کے بارے میں واضح معلومات اہم ہوں گی۔
سعودی عرب مصر کا اہم اقتصادی شراکت دار
مصر اور سعودی عرب کے تعلقات صرف دفاعی اور سفارتی تعاون تک محدود نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی روابط بھی موجود ہیں۔
صدر عبدالفتاح السیسی کے دور میں سعودی عرب نے مصر کو اربوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی، مصری مرکزی بینک میں رقوم جمع کرائیں اور توانائی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیا۔ سعودی مالی معاونت مصر کی معیشت کے لیے اہم رہی ہے، خصوصاً ایسے ادوار میں جب قاہرہ کو مالیاتی دباؤ اور زرمبادلہ کے مسائل کا سامنا رہا۔
اس پس منظر میں سعودی عرب کے دفاع سے متعلق مصر کا فیصلہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، کسی بھی فوجی اقدام کے لیے مصر کو علاقائی سلامتی، داخلی اقتصادی ضروریات اور بیرونِ ملک فوجی مداخلت کے ممکنہ اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
باب المندب اور نہرِ سویز کی سلامتی اہم مسئلہ
بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی مصر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ باب المندب خلیج عدن اور بحیرہ احمر کے درمیان اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے گزرنے والے جہاز آگے نہرِ سویز کے ذریعے بحیرہ روم تک پہنچ سکتے ہیں۔
نہرِ سویز مصر کی معیشت کے لیے آمدنی اور عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس سمندری گزرگاہ میں حملوں، عدم استحکام یا جہاز رانی میں رکاوٹوں کے نتیجے میں بحری کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
اسی لیے مصر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو محض دو فریقوں کا تنازع نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنی بحری سلامتی، تجارتی مفادات اور وسیع تر عرب قومی سلامتی سے بھی جوڑتا ہے۔
انسانی بحران پر بھی تشویش
یمن میں جاری تنازع نے پہلے ہی بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ امدادی ادارے ملک میں خوراک، صحت، بے گھر ہونے والے افراد اور بنیادی سہولیات کی صورتحال پر مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
اگر لڑائی مزید شدت اختیار کرتی ہے یا علاقائی طاقتیں براہِ راست اس میں شامل ہوتی ہیں تو عام شہریوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔
مصر کی جانب سے سفارتی حل کی حمایت اسی تناظر میں اہم ہے، کیونکہ تنازع کا پھیلاؤ نہ صرف سعودی عرب اور یمن بلکہ پورے خطے کے امن، تجارت اور انسانی صورتحال کو متاثر کرسکتا ہے۔
علاقائی صورتحال کا آئندہ رخ
مصری پارلیمنٹ کی منظوری سعودی عرب کے دفاع کے لیے قاہرہ کی سیاسی حمایت کو مضبوط کرتی ہے، لیکن عملی فوجی اقدامات کے بارے میں کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ ان میں ممکنہ فوجی تعیناتی، تعاون کی نوعیت، کارروائیوں کا دائرۂ کار اور مصر کی شمولیت کی مدت شامل ہیں۔
آئندہ پیش رفت کا انحصار سعودی عرب کی جانب سے باضابطہ درخواست، مصری حکومت کے فیصلوں اور یمن میں جاری تنازع کی صورتحال پر ہوگا۔ اگر قاہرہ محدود دفاعی تعاون تک رہتا ہے تو اس کا کردار مختلف ہوگا، جبکہ زمینی فوج یا براہِ راست جنگی کارروائیوں میں شمولیت خطے میں تنازع کو مزید وسیع کرسکتی ہے۔
مجموعی طور پر مصر کی پارلیمانی منظوری سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے حقیقی اثرات کا تعین اس وقت ہوگا جب مصری حکومت ممکنہ اقدامات کی تفصیلات واضح کرے گی اور یہ سامنے آئے گا کہ قاہرہ دفاعی حمایت، سفارتی کوششوں اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔



