پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

کامن ویلتھ آف مسلم نیشنز کے قیام کی تجویز، مسلم ممالک اور عالمی مسلم کمیونٹیز کے مشترکہ دفاع کے لیے نئی تنظیم بنانے پر زور

ان کا یہ بیان عالمی اداروں کی جانب سے فلسطین کے معاملے پر اختیار کیے جانے والے مؤقف اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ان کی مؤثریت سے متعلق ان کے ذاتی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ڈاکٹر اصغر واہلہ-پاکستان

اسلام آباد: وائس آف جرمنی اردو نیوز: پاکستان کے معروف قانون دان اور 1973 کے آئین کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے سینئر وکیل صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری نے اقوام متحدہ کے موجودہ کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے مسلم ممالک اور غیر مسلم ریاستوں میں آباد مسلم کمیونٹیز کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک نئی عالمی تنظیم قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے مجوزہ تنظیم کا نام ’’کامن ویلتھ آف مسلم نیشنز‘‘ (Commonwealth of Muslim Nations) تجویز کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون اور مشترکہ تحفظ کے اصولوں کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

یہ تجویز انہوں نے اسلام آباد میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمد اللہ زید سے ملاقات کے دوران پیش کی۔ ملاقات میں فلسطین کی موجودہ صورتحال، مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز، بین الاقوامی اداروں کے کردار اور فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فلسطینی سفیر نے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس تجویز کو سراہا۔

ملاقات میں ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر، میجر محمد شریف صابر (ریٹائرڈ) اور فلسطینی نائب سفیر معمر ملحم بھی موجود تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فلسطین میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید، مسلم دنیا کے لیے متبادل پلیٹ فارم کی تجویز

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری نے ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے اثر و رسوخ میں آ کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ایک ایسے ادارے سے تشبیہ دی جس کے فیصلوں پر ان کے بقول مخصوص سیاسی اور مذہبی مفادات کا اثر نمایاں ہے۔

ان کا یہ بیان عالمی اداروں کی جانب سے فلسطین کے معاملے پر اختیار کیے جانے والے مؤقف اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ان کی مؤثریت سے متعلق ان کے ذاتی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

قصوری صاحب کے مطابق، مسلم ممالک اور دنیا بھر میں آباد مسلم کمیونٹیز کو اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم تشکیل دینا چاہیے جو انہیں اجتماعی طور پر منظم کرے اور بین الاقوامی سطح پر ان کی آواز مؤثر انداز میں بلند کرنے میں مدد دے۔

ان کی تجویز کے مطابق، نئی تنظیم کا مقصد صرف مسلم ممالک کے درمیان روابط بڑھانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان مسلم کمیونٹیز کو بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل کیا جانا چاہیے جو غیر مسلم اکثریتی ممالک میں آباد ہیں۔

اس تصور کے تحت مختلف ممالک میں مسلمانوں کو درپیش مسائل، ان کے حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی اور اجتماعی مفادات سے متعلق امور پر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

’’کامن ویلتھ آف مسلم نیشنز‘‘ کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری نے مجوزہ تنظیم کے لیے ’’کامن ویلتھ آف مسلم نیشنز‘‘ کا نام تجویز کیا اور اس کے ذریعے مسلم ممالک اور مسلم کمیونٹیز کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کے پیش کردہ تصور کا بنیادی نکتہ اجتماعی تحفظ ہے۔ ان کے مطابق، کسی ایک مسلم ملک یا کسی غیر مسلم ملک میں آباد مسلم کمیونٹی پر حملے کو تمام متعلقہ ممالک اور مسلم برادریوں کے لیے مشترکہ مسئلہ تصور کیا جانا چاہیے۔

اس تجویز کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک ملک یا کمیونٹی کو درپیش سنگین خطرات کی صورت میں دیگر مسلم ممالک اور متعلقہ کمیونٹیز بھی اس معاملے کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھیں اور سفارتی، سیاسی اور انسانی بنیادوں پر تعاون کریں۔

اگر اس تصور کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی تنظیم قائم کی جاتی ہے تو اس کے دائرۂ کار، رکنیت، فیصلہ سازی کے طریقہ کار، مالی وسائل اور عملی ذمہ داریوں کا تعین بنیادی اہمیت رکھے گا۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہوگا کہ تنظیم کے مقاصد کو بین الاقوامی قوانین، ریاستوں کی خودمختاری، انسانی حقوق اور پُرامن تنازعات کے حل کے اصولوں کے مطابق واضح کیا جائے۔

تاہم یہ امر اہم ہے کہ فراہم کردہ معلومات میں تنظیم کے قیام، اس کے آئینی ڈھانچے یا کسی باضابطہ معاہدے پر دستخط کی تصدیق موجود نہیں۔ فی الحال اسے صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

فلسطینی سفیر کی جانب سے تجویز کا خیرمقدم

پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمد اللہ زید سے ملاقات کے دوران مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مجوزہ تنظیم کے تصور پر گفتگو ہوئی۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، فلسطینی سفیر نے کامن ویلتھ آف مسلم نیشنز کی تجویز کو سراہا۔ اس خیرمقدم کو مسلم دنیا کے درمیان تعاون اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر حمایت بڑھانے کی ضرورت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

فلسطین کا مسئلہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کا اہم موضوع رہا ہے۔ فلسطینی عوام کے حقوق، ریاستی حیثیت، انسانی تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام سے متعلق معاملات پر عالمی سطح پر مختلف ممالک اور اداروں کے درمیان بحث جاری ہے۔

اس تناظر میں مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ مؤقف اور سفارتی تعاون کو اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم کسی نئی تنظیم کی عملی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس کے ارکان مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کس حد تک متفقہ اقدامات کرتے ہیں۔

فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی، شہداء کے لیے فاتحہ خوانی

ملاقات کے دوران فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق، فلسطین میں جاں بحق ہونے والے 75 ہزار سے زائد افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اس موقع پر فلسطین میں انسانی جانوں کے ضیاع اور جاری بحران کے انسانی اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ فلسطینی عوام کی مشکلات، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کے معاملات بین الاقوامی سطح پر مسلسل اہمیت رکھتے ہیں۔

ملاقات میں شریک افراد نے فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

فلسطین میں ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق اعدادوشمار مختلف اوقات میں تبدیل ہوتے رہے ہیں، اس لیے 75 ہزار سے زائد شہادتوں کے دعوے کو اشاعت سے قبل متعلقہ تاریخ اور مستند ذرائع سے جانچنا ضروری ہے۔

قصوری صاحب کی نیتن یاہو، ٹرمپ اور مودی پر تنقید

ملاقات کے دوران صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی۔

فراہم کردہ بیان کے مطابق، انہوں نے ان تینوں رہنماؤں کو اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن قرار دیا۔ یہ الفاظ ان کی جانب سے سیاسی قیادت کے بارے میں اختیار کیا گیا سخت مؤقف ظاہر کرتے ہیں۔

اس نوعیت کے بیانات فلسطین، مسلم دنیا اور بین الاقوامی سیاست سے متعلق موجودہ اختلافات کے تناظر میں سامنے آتے ہیں۔ تاہم متعلقہ رہنماؤں کے بارے میں ایسے الزامات اور سیاسی تبصروں کو بیان کرتے وقت انہیں مقرر کے مؤقف کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے، نہ کہ غیر متنازع ثابت شدہ حقیقت کے طور پر۔

وفد میں ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر اور میجر محمد شریف صابر کی شرکت

ملاقات میں ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر اور میجر محمد شریف صابر (ریٹائرڈ) بھی شریک تھے، جبکہ فلسطینی نائب سفیر معمر ملحم نے بھی گفتگو میں شرکت کی۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر نے ایم بی بی ایس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات اور مغربی تاریخ و بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔

وفد کی شرکت کے دوران مسلم دنیا کے باہمی روابط، عالمی سیاست میں مسلمانوں کو درپیش مسائل اور فلسطین کی صورتحال جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔

ملاقات میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطین کے معاملے اور مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات پر گفتگو صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں، بلکہ قانونی، علمی اور سماجی حلقے بھی ان امور پر اپنی آرا پیش کرتے ہیں۔

مسلم دنیا کے اتحاد کے امکانات اور عملی چیلنجز

کامن ویلتھ آف مسلم نیشنز کی تجویز کے تناظر میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، مشترکہ سفارتی حکمت عملی اور دنیا بھر میں مسلم کمیونٹیز کے حقوق کے تحفظ سے متعلق کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔

مسلم ممالک سیاسی نظام، معاشی ترجیحات، خارجہ پالیسی اور علاقائی مفادات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس لیے کسی مشترکہ عالمی تنظیم کے قیام کے لیے صرف مشترکہ مذہبی شناخت کافی نہیں ہوگی، بلکہ واضح مقاصد، متفقہ اصول، مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچہ اور عملی تعاون بھی درکار ہوگا۔

اگر مجوزہ تنظیم کا مقصد مسلم کمیونٹیز کے حقوق کا تحفظ ہے تو اس کے لیے قانونی معاونت، انسانی حقوق کی نگرانی، سفارتی رابطوں اور انسانی امداد جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح فلسطین سمیت دیگر تنازعات کے حوالے سے مشترکہ سفارتی کوششیں، انسانی امداد اور بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کے تحفظ کے اقدامات بھی کسی ایسے پلیٹ فارم کی ممکنہ ترجیحات میں شامل ہو سکتے ہیں۔

تاہم تنظیم کی تشکیل، رکنیت اور اختیارات کے بارے میں باضابطہ تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کی عملی نوعیت اور ممکنہ اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

نتیجہ: مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے نئی بحث کا آغاز

اسلام آباد میں فلسطینی سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمد اللہ زید سے صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری کی ملاقات کے دوران کامن ویلتھ آف مسلم نیشنز کے قیام کی تجویز نے مسلم ممالک اور دنیا بھر میں آباد مسلم کمیونٹیز کے درمیان تعاون کے ایک نئے تصور کو سامنے رکھا ہے۔

اس تجویز میں اجتماعی تحفظ، مشترکہ سفارتی کوششوں اور فلسطینی عوام سمیت مسلم دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ فلسطینی سفیر کی جانب سے اس تجویز کا خیرمقدم، فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس موضوع پر مزید گفتگو اور تبادلے کے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے مسلم ممالک کے درمیان مشاورت، مشترکہ اہداف کا تعین اور قانونی و ادارہ جاتی معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں مسلم دنیا کے اتحاد، فلسطینی عوام کے حقوق اور عالمی سطح پر مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک نئی تنظیم کے قیام کا تصور پیش کیا گیا، جس کی عملی پیش رفت کا انحصار مستقبل میں ہونے والی مشاورت اور باضابطہ اقدامات پر ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button