اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

فرانسیسی کمپنیاں بجلی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے اور جدید آلات کی تیاری میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں، فرانسیسی سفیر

نیشنل گرڈ پاکستان قابلِ تجدید توانائی کو قومی نظام میں شامل کرنے کے لیے ترسیلی نیٹ ورک مضبوط بنا رہا ہے، انجینئر الطاف حسین ملک

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید قاسم بخاری-پاکستان

پاکستان میں فرانس کے سفیر ژاں نوئل پواریے (Jean-Noël Poirier) کی سربراہی میں پانچ رکنی فرانسیسی وفد نے نیشنل گرڈ پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک سے واپڈا ہاؤس لاہور میں ملاقات کی، جس میں پاکستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز، بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مستقبل میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان اور فرانس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے، بجلی کی ترسیل کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس شعبے میں فرانسیسی کمپنیوں کی ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر توجہ مرکوز رہی۔ فرانسیسی سفیر نے اس موقع پر کہا کہ فرانس کی کمپنیاں پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام کے بنیادی ڈھانچے اور اس شعبے میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

انہوں نے نیشنل گرڈ پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کی جانب سے توانائی کے نظام کو بہتر بنانے اور جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کے اقدامات کو سراہا۔

بجلی کی ترسیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات

ملاقات کے دوران پاکستان کے توانائی کے شعبے میں موجود امکانات اور ان سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کے لیے درکار اقدامات پر گفتگو کی گئی۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے مختلف ذرائع اور بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے تناظر میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانا اہمیت اختیار کر گیا ہے، تاکہ پیدا ہونے والی بجلی کو قابلِ اعتماد انداز میں صارفین اور مختلف علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔

فرانسیسی سفیر نے واضح کیا کہ فرانسیسی کمپنیوں کی دلچسپی صرف بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس شعبے میں درکار آلات کی تیاری میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں۔ اس نوعیت کا تعاون پاکستان کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تکنیکی مہارت اور صنعتی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم، ملاقات میں سرمایہ کاری کے کسی حتمی معاہدے، مخصوص منصوبے یا مالی حجم کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے فرانسیسی کمپنیوں کی دلچسپی کو ممکنہ تعاون کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے عملی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے مزید مشاورت اور منصوبہ بندی درکار ہوگی۔

قابلِ تجدید توانائی کو قومی ترسیلی نظام میں شامل کرنے کی تیاری

منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل گرڈ پاکستان انجینئر الطاف حسین ملک نے ملاقات کے دوران پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی وسیع استعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے توانائی کے وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بجلی کی ترسیل کے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیشنل گرڈ پاکستان انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) کے تحت قابلِ تجدید توانائی کو قومی ترسیلی نظام میں شامل کرنے کے لیے اپنے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، بالخصوص شمسی اور ہوائی بجلی، پاکستان کے توانائی کے مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کی مقدار موسم اور قدرتی حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی نظام میں مؤثر انداز سے شامل کرنے کے لیے جدید ترسیلی نیٹ ورک، بہتر نظامِ نگرانی اور توانائی کے ذخیرے کی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس تناظر میں نیشنل گرڈ پاکستان کی جانب سے ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے کی کوششیں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ جدید نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو نظام میں شامل کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ بجلی کی فراہمی کے تسلسل اور نظام کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کو نظام کا حصہ بنانے کا منصوبہ

انجینئر الطاف حسین ملک نے ملاقات میں بتایا کہ نیشنل گرڈ پاکستان بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کو تیز رفتار بنیادوں پر ترسیلی نظام کا حصہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ مستقبل میں اس نظام کو مزید وسعت دینے کا بھی ارادہ ہے۔

بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم جدید توانائی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ضرورت سے زائد دستیاب بجلی کو ذخیرہ کرکے بعد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے خاص طور پر ایسے اوقات میں مدد مل سکتی ہے جب بجلی کی طلب میں اضافہ ہو یا شمسی اور ہوائی توانائی کی پیداوار کم ہو جائے۔

پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی ترقی کے ساتھ بجلی کے ذخیرے کی ٹیکنالوجی کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ اگر بیٹری اسٹوریج کے نظام کو مؤثر منصوبہ بندی اور مناسب تکنیکی انتظامات کے ساتھ قومی گرڈ میں شامل کیا جائے تو بجلی کی طلب اور رسد میں توازن پیدا کرنے، نظام پر دباؤ کم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے بہتر استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم، ایسے منصوبوں کی کامیابی کے لیے سرمایہ کاری، جدید آلات، تکنیکی مہارت، نظام کی حفاظت اور طویل المدتی دیکھ بھال جیسے عوامل اہم ہوں گے۔ نیشنل گرڈ پاکستان کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو مرحلہ وار وسعت دینے کی منصوبہ بندی توانائی کے نظام کو جدید بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ پر زور

ملاقات کے دوران نیشنل گرڈ پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی شمولیت اور کام کی جگہ پر مساوی مواقع فراہم کرنے کے اقدامات بھی زیرِ بحث آئے۔

انجینئر الطاف حسین ملک نے کہا کہ نیشنل گرڈ پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے اور ادارے میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ادارے کے ’’آواز‘‘ (Awaaz) فورم اور صنفی تنوع کے لیے قائم مخصوص نیٹ ورک کا ذکر کیا، جن کی قیادت بھی خواتین منیجرز کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق ادارے کی بنیادی اقدار میں ایسا ماحول فراہم کرنا شامل ہے جہاں ملازمین کو عزت، مساوی مواقع اور پیشہ ورانہ ترقی کے یکساں امکانات میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے گی۔

توانائی اور بجلی کی ترسیل جیسے تکنیکی شعبوں میں خواتین کی مؤثر شرکت اداروں کے لیے مختلف مہارتوں سے فائدہ اٹھانے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خواتین کو قیادت کے مواقع، تربیت اور فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی فراہم کرنا اہمیت رکھتا ہے۔

نیشنل گرڈ پاکستان کی جانب سے خواتین کی قیادت میں فورمز اور صنفی تنوع کے نیٹ ورک کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ تکنیکی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے انتظامی اور پیشہ ورانہ ماحول کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔

ملازمین کی حفاظت اور فلاح و بہبود اولین ترجیح

منیجنگ ڈائریکٹر نے ادارے میں سیفٹی کلچر کو فروغ دینے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کام کی جگہ پر ذاتی حفاظتی آلات (PPE) کا لازمی استعمال یقینی بنایا جا رہا ہے، کیونکہ ملازمین کی حفاظت اور فلاح و بہبود ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

بجلی کی ترسیل کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کو مختلف تکنیکی اور پیشہ ورانہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد، مناسب تربیت اور ضروری حفاظتی آلات کی دستیابی حادثات کے امکانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انجینئر الطاف حسین ملک کے مطابق ادارے میں ملازمین کے لیے بہتر معاوضے، مراعات اور مجموعی فوائد کے پروگرام بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ملازمین کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا اور ایک محفوظ، مؤثر اور پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی حفاظت، حوصلہ افزائی اور پیشہ ورانہ ترقی بھی ضروری ہے۔

فرانسیسی سفیر کا نیشنل گرڈ پاکستان کے اقدامات پر اعتماد کا اظہار

فرانسیسی سفیر ژاں نوئل پواریے نے نیشنل گرڈ پاکستان کی جانب سے توانائی کے شعبے میں جدید تقاضوں کے مطابق اقدامات، ملازمین کی فلاح و بہبود اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے پاکستانی ادارے کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں جانب کے درمیان تعاون کے امکانات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔

پاکستان اور فرانس کے درمیان توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے، جدید آلات، تکنیکی مہارت اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اگر اس دلچسپی کو ٹھوس منصوبوں اور باہمی معاہدوں میں تبدیل کیا جاتا ہے تو پاکستان کے بجلی کے نظام کو جدید بنانے کی کوششوں میں معاونت مل سکتی ہے۔

مجموعی طور پر واپڈا ہاؤس لاہور میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے امکانات کو اجاگر کرتی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے کردار، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی منصوبہ بندی اور بجلی کی ترسیلی صلاحیت میں بہتری کے تناظر میں جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری مستقبل کی اہم ضروریات میں شامل ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button