تازہ ترینصحت

پاکستانی ادویات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد ناگزیر قرار

پاکستانی ادویہ ساز اداروں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی معیار کے مطابق پیداواری طریقۂ کار اختیار کریں اور معیار کو یقینی بنانے والے نظاموں کو بہتر بنائیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

پاکستان کی ادویہ سازی اور نیوٹراسیوٹیکل صنعت کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے، ادویات کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے عالمی معیارِ پیداوار اور ضابطہ جاتی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین اور صنعت کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں بہتری، جدید تکنیکی مہارت، معیار کی مسلسل نگرانی اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے پاکستانی ادویات کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں قومی پیداواری تنظیم (نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن، این پی او)، وزارتِ صنعت و پیداوار، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے اشتراک سے تکنیکی معاونت اور آگاہی کا ایک خصوصی پروگرام جاری ہے۔ ایشیائی پیداواری تنظیم (ایشیئن پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن، اے پی او) کے تحت منعقد ہونے والا یہ پروگرام 20 سے 30 اکتوبر 2026ء تک جاری رہے گا۔

پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستانی ادویہ ساز اور نیوٹراسیوٹیکل کمپنیوں کی پیداواری استعداد بہتر بنانا، عالمی معیارِ پیداوار سے متعلق آگاہی فراہم کرنا اور انہیں بین الاقوامی ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل کے لیے تیار کرنا ہے، تاکہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی میں حائل تکنیکی اور معیار سے متعلق رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔

عالمی معیار پر عمل درآمد برآمدات کے فروغ کے لیے ضروری ہے: محمد عالم گیر چوہدری

لاہور میں 28 اکتوبر کو منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قومی پیداواری تنظیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عالم گیر چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی ادویہ سازی اور نیوٹراسیوٹیکل صنعت کو عالمی منڈی میں مؤثر انداز سے مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی معیار اور ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ادویات کی تیاری، معیار کی جانچ، پیداواری عمل کی نگرانی اور متعلقہ دستاویزات کے حوالے سے سخت تقاضے موجود ہیں۔ پاکستانی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پیداواری نظام کو ان تقاضوں کے مطابق بہتر بنائیں، تاکہ ان کی مصنوعات معیار، حفاظت، مؤثریت اور قابلِ اعتماد پیداواری عمل کے حوالے سے بین الاقوامی توقعات پر پوری اتر سکیں۔

محمد عالم گیر چوہدری نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے صنعتی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، معیار کی بہتری اور برآمدات کے فروغ کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق تکنیکی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت اور بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار سے آگاہی پاکستانی صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ صنعتی ادارے اپنے موجودہ پیداواری طریقوں کا جائزہ لیں، خامیوں کی نشاندہی کریں اور انہیں دور کرنے کے لیے منظم اقدامات کریں۔

پاکستان کے لیے ادویہ سازی کا شعبہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ معیار اور ضابطہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگی نہ صرف برآمدی مواقع بڑھانے میں مدد دیتی ہے بلکہ ملکی صنعت کی ساکھ اور بین الاقوامی خریداروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔

پی پی ایم اے کا تکنیکی استعداد اور صنعتی تعاون پر زور

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین، شمالی زون، حمید ایم زکی نے عالمی ضابطہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تکنیکی استعداد میں اضافے اور صنعت کی سطح پر مشترکہ کوششوں کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ادویہ ساز اداروں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی معیار کے مطابق پیداواری طریقۂ کار اختیار کریں اور معیار کو یقینی بنانے والے نظاموں کو بہتر بنائیں۔

ادویات کی تیاری ایک حساس اور ذمہ دارانہ عمل ہے، جس میں خام مال کے انتخاب سے لے کر پیداواری مراحل، تیار شدہ مصنوعات کی جانچ، پیکنگ، ذخیرہ کرنے اور تقسیم تک متعدد عوامل اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مراحل میں معیار کے یکساں اصولوں پر عمل درآمد نہ صرف مصنوعات کی قابلِ اعتماد حیثیت برقرار رکھنے بلکہ ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل کے لیے بھی ضروری ہے۔

حمید ایم زکی کے مطابق صنعت کے مختلف اداروں کے درمیان تعاون، تکنیکی معلومات کا تبادلہ اور جدید پیداواری طریقوں سے استفادہ پاکستانی کمپنیوں کو عالمی معیار کے قریب لانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

صنعتی سطح پر مشترکہ کوششوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ عالمی منڈیوں میں داخلے کے لیے صرف پیداواری صلاحیت کافی نہیں ہوتی، بلکہ کمپنیوں کو متعلقہ ممالک کے قوانین، معائنوں کے طریقۂ کار اور معیار کی دستاویزات سے متعلق تقاضے بھی پورے کرنا پڑتے ہیں۔

معیار کے انتظامی نظام کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین فیصل کھوکھر نے ادویات کی تیاری کے مختلف مراحل اور معیار کے انتظامی نظام کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ معیار میں تسلسل برقرار رکھنے اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل سے پاکستانی ادویات کی برآمدی استعداد بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں میں ان کی موجودگی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ادویہ سازی میں معیار کا مؤثر نظام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے کہ مصنوعات کی تیاری مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہو، پیداواری عمل کی مناسب نگرانی کی جائے اور ہر مرحلے کا قابلِ تصدیق ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔

اس ضمن میں خام مال کی جانچ، پیداواری آلات کی صفائی، مشینری کی توثیق، ملازمین کی تربیت، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور تیار شدہ مصنوعات کی جانچ جیسے عوامل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی طرح پیداواری عمل میں ہونے والی تبدیلیوں، معیار سے متعلق کسی ممکنہ خرابی اور اصلاحی اقدامات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس طرح کمپنیوں کو نہ صرف اپنی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ بین الاقوامی معائنوں کے دوران متعلقہ معلومات اور شواہد پیش کرنے کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔

فیصل کھوکھر کے مطابق معیار کے نظام میں بہتری اور عالمی ضابطہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگی پاکستانی ادویہ ساز اداروں کے لیے پائیدار ترقی اور برآمدی منڈیوں میں بہتر مقام حاصل کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

GMP، PIC/S اور امریکی ایف ڈی اے کے تقاضوں پر خصوصی توجہ

تکنیکی معاونت کے اس پروگرام میں بین الاقوامی معیارِ پیداوار (Good Manufacturing Practices — GMP)، فارماسیوٹیکل انسپیکشن کوآپریشن اسکیم (Pharmaceutical Inspection Co-operation Scheme — PIC/S) کے اصولوں اور امریکی ادارۂ خوراک و ادویات (US Food and Drug Administration — US FDA) کے متعلقہ تقاضوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

GMP سے مراد ایسے اصول اور طریقۂ کار ہیں جن کے تحت ادویات کی تیاری، جانچ، ذخیرہ اور معیار کی نگرانی کو منظم کیا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ادویات مسلسل مقررہ معیار کے مطابق تیار ہوں اور پیداواری عمل میں ایسی خامیوں سے بچا جا سکے جو مصنوعات کی حفاظت یا معیار کو متاثر کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب PIC/S ادویات کی تیاری سے متعلق اچھے پیداواری طریقوں اور ان کے معائنے کے نظام میں بین الاقوامی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے اصولوں سے آگاہی ادویہ ساز اداروں کو اپنے معیار کے نظام کا جائزہ لینے اور متعلقہ معائنوں کی تیاری بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اسی طرح امریکی ادارۂ خوراک و ادویات (US FDA) کے تقاضے ان مصنوعات اور کمپنیوں کے لیے اہم ہوتے ہیں جو امریکی مارکیٹ میں داخلے یا وہاں اپنی مصنوعات کی فراہمی کے خواہاں ہوں۔ ان تقاضوں کی تکمیل کے لیے کمپنیوں کو متعلقہ قوانین، مصنوعات کی نوعیت اور قابلِ اطلاق ضابطوں کے مطابق اپنے پیداواری اور معیار کے نظام تیار کرنا ہوتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ ان معیارات اور ضابطہ جاتی نظاموں کی نوعیت اور اطلاق میں فرق ہو سکتا ہے۔ کسی ایک معیار کے مطابق نظام قائم کرنا خودبخود تمام ممالک کی قانونی ضروریات پوری ہونے یا کسی مخصوص مارکیٹ میں فروخت کی منظوری ملنے کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس لیے کمپنیوں کو ہر ہدفی منڈی کے متعلقہ قوانین اور تقاضوں کو الگ سے سمجھنا اور پورا کرنا ہوتا ہے۔

سنگاپور کے بین الاقوامی ماہر کی تکنیکی معاونت

پروگرام کے تحت سنگاپور سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی ماہر مسٹر چوان یاؤ (Mr. Chuan Yao) پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں کو تکنیکی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق انہیں اس شعبے میں 30 سال سے زائد پیشہ ورانہ تجربہ حاصل ہے۔

ان کی معاونت میں ادویہ ساز کمپنیوں کے پیداواری نظام، معیار کی یقین دہانی، دستاویزات، ڈیٹا کی درستگی، توثیقی عمل، ضابطہ جاتی امور اور بین الاقوامی معائنوں کی تیاری کا جائزہ شامل ہے۔

اس عمل کے دوران کمپنیوں کے موجودہ طریقۂ کار کو متعلقہ بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاکہ ان شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد خامیوں کو دور کرنے کے لیے قابلِ عمل اقدامات تجویز کیے جا رہے ہیں۔

تکنیکی جائزے کا ایک اہم پہلو دستاویزات اور ڈیٹا کی درستگی ہے۔ ادویات کی تیاری کے دوران درست ریکارڈ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر پیداواری عمل کی نگرانی، معیار سے متعلق فیصلوں اور ضابطہ جاتی جانچ کے نتائج کی تصدیق کی جاتی ہے۔

اسی طرح مشینری اور پیداواری عمل کی توثیق سے یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ متعلقہ نظام مطلوبہ نتائج مسلسل فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر کسی مرحلے میں خامی سامنے آئے تو اسے درست کرنے، دوبارہ جانچنے اور مستقبل میں ایسی خرابی سے بچنے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہوتا ہے۔

بین الاقوامی ماہر کی رہنمائی کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کو ان تقاضوں کو عملی طور پر سمجھنے اور اپنے نظاموں میں ضروری بہتری لانے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

کراچی میں 30 اکتوبر کو آگاہی سیمینار ہوگا

پروگرام کے ثمرات ملک بھر کی ادویہ ساز صنعت تک پہنچانے کے لیے 30 اکتوبر 2026ء کو کراچی میں بھی آگاہی سیمینار منعقد کیا جائے گا۔

اس سیمینار کا مقصد صنعت سے وابستہ اداروں اور متعلقہ پیشہ ور افراد کو تکنیکی معلومات، بین الاقوامی ماہرین کی رہنمائی اور عالمی سطح پر رائج بہترین طریقۂ کار سے آگاہ کرنا ہے۔

کراچی میں پروگرام کے انعقاد سے ملک کے مختلف حصوں میں کام کرنے والی ادویہ ساز کمپنیوں کو بین الاقوامی معیارِ پیداوار، معیار کے انتظامی نظام اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے حوالے سے معلومات تک رسائی فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سیمینار میں GMP، PIC/S اصولوں اور امریکی ادارۂ خوراک و ادویات کے متعلقہ تقاضوں کی اہمیت اجاگر کی جائے گی، تاکہ ادارے اپنی موجودہ صلاحیتوں کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے مناسب حکمتِ عملی اختیار کر سکیں۔

پاکستان کی ادویہ سازی کی صنعت کے لیے ایسے پروگراموں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ عالمی منڈیوں میں کامیابی کے لیے معیار کی مسلسل نگرانی، تکنیکی مہارت اور متعلقہ ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تربیت اور آگاہی کو صنعتی ترقی کے مستقل عمل کا حصہ بنانا اہم ہوگا۔

فارماسیوٹیکلز ایکسپورٹ اسٹریٹجی اور اڑان پاکستان سے مطابقت

یہ اقدام پاکستان کی فارماسیوٹیکلز ایکسپورٹ اسٹریٹجی 2023–2027ء اور قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے اہداف سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔

ان منصوبوں میں برآمدات پر مبنی ترقی، افرادی قوت کی استعداد میں اضافے اور صنعتی مسابقت کو فروغ دینے جیسے اہداف شامل ہیں۔ ادویہ سازی کی صنعت میں معیار اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے اقدامات ان مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی کمپنیوں کے لیے عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے کا انحصار صرف مصنوعات کی دستیابی یا قیمت پر نہیں، بلکہ معیار، قابلِ اعتماد پیداواری عمل، متعلقہ ضابطوں کی تکمیل اور مستقل فراہمی کی صلاحیت پر بھی ہوتا ہے۔

بین الاقوامی معیار کے مطابق پیداواری نظام قائم کرنے سے کمپنیوں کو اپنے طریقۂ کار میں بہتری، خامیوں کی بروقت نشاندہی اور معیار کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی خریداروں اور متعلقہ اداروں کے سامنے کمپنیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ضابطہ جاتی تیاری کو بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، برآمدات میں حقیقی اضافے کے لیے معیار کی بہتری کے ساتھ منڈیوں کی ضروریات کو سمجھنا، تجارتی روابط قائم کرنا، مصنوعات کے اندراج اور منظوری کے متعلقہ تقاضے پورے کرنا اور مسابقتی قیمتوں پر معیاری مصنوعات فراہم کرنا بھی ضروری ہوگا۔

قومی پیداواری تنظیم اور پی پی ایم اے کا مشترکہ عزم

قومی پیداواری تنظیم اور پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے اس مشترکہ اقدام کے ذریعے پاکستان کی ادویہ سازی اور نیوٹراسیوٹیکل صنعت میں پیداواری صلاحیت، تکنیکی مہارت اور معیار کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس پروگرام کے ذریعے کمپنیوں کو بین الاقوامی اصولوں سے آگاہ کرنے، موجودہ پیداواری نظاموں کا جائزہ لینے اور بہتری کے لیے قابلِ عمل اقدامات تجویز کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات، جن میں غذائیت سے متعلق بعض مصنوعات اور سپلیمنٹس شامل ہو سکتے ہیں، کے لیے بھی متعلقہ مارکیٹ کے ضابطہ جاتی تقاضوں کو سمجھنا اہم ہے۔ ان مصنوعات کی درجہ بندی، معیار اور فروخت کے قواعد مختلف ممالک میں مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے برآمد کنندگان کو ہر منڈی کے قابلِ اطلاق قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔

صنعتی ماہرین کی رہنمائی، اداروں کے درمیان تعاون اور تکنیکی معاونت کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کو ان تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

مجموعی طور پر این پی او، پی پی ایم اے اور ایشیائی پیداواری تنظیم کے اشتراک سے جاری یہ پروگرام پاکستان کی ادویہ سازی کی صنعت کو عالمی معیار سے قریب لانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اگر اس کے تحت تجویز کردہ اصلاحات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے اور معیار کی بہتری کو مستقل ترجیح بنایا جائے تو پاکستانی ادویہ ساز اداروں کی تکنیکی استعداد، ضابطہ جاتی تیاری اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button