علی عباس کاظمیکالمز

تہران اجلاس اور امن کا مستقبل….. علی عباس کاظمی

تہران میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس اسی تضاد کی ایک اہم مثال ہے۔ چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ اس اتفاق سے حالات کتنے بدلیں گے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

حکمران جب امن کی بات کرتے ہیں تو ان کے الفاظ میں امید سنائی دیتی ہے، لیکن ان کے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے تو اکثر اس امید کے پیچھے طاقت کے تحفظ کی خواہش بھی دکھائی دیتی ہے۔ تہران میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس اسی تضاد کی ایک اہم مثال ہے۔ چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ اس اتفاق سے حالات کتنے بدلیں گے۔ پاکستان کی کوشش سے چاروں ممالک کا ایک میز پر بیٹھنا یقیناً اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ایسے ماحول میں رابطے کا قائم رہنا بھی تصادم کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن کسی ملاقات کی اہمیت اس کے شرکا کے مرتبے، تصاویر یا اعلامیے کے خوش نما الفاظ سے طے نہیں ہوتی۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس کے بعد کشیدگی میں کتنی کمی آئی، باہمی بداعتمادی کتنی دور ہوئی اور اختلافات کو حل کرنے کے لیے کون سا عملی راستہ اختیار کیا گیا۔ اگر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے مگر زمینی حالات میں کوئی بہتری نہ آئے تو سفارت کاری اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہے گی۔ قوموں کو امید دلانا ضروری ہے، لیکن امید کو کامیابی بنا کر پیش کرنا، اس سے پہلے کہ نتائج سامنے آئیں، عوام کے اعتماد کے ساتھ ناانصافی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ ہر ملک چاہتا ہے کہ اس کی سرحدیں محفوظ ہوں، اس کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے اور اس کے مخالف کی طاقت محدود رہے۔ یہ خواہش اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن جب ہر ریاست دوسرے کی طاقت کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگے تو دفاعی اقدامات بھی کشیدگی بڑھانے کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک ملک اسلحہ خریدتا ہے تو دوسرا اپنی تیاری بڑھاتا ہے، دوسرا اتحاد بناتا ہے تو پہلا اسے اپنے خلاف صف بندی سمجھتا ہے۔ یوں خوف خود اپنا جواز پیدا کرتا رہتا ہے۔ حکمران اپنی تیاریوں کو دفاع کہتے ہیں، مگر مخالف کی تیاریوں کو جارحیت سمجھتے ہیں۔ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دوہرا معیار ہے۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون اور ایران کے ساتھ براہِ راست مکالمہ اس خطے کی پیچیدہ حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اتحاد بناتی ہیں، مگر اتحاد کی اصل افادیت صرف اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ جنگ کو روکنے اور تنازعات کو محدود رکھنے میں مدد دے۔ اگر کسی معاہدے سے مخالف ملک میں مزید خوف پیدا ہو اور جواباً نئی صف بندی شروع ہو جائے تو سلامتی کا دائرہ وسیع ہونے کے بجائے سکڑنے لگتا ہے۔ اس لیے ہر دفاعی معاہدے کو صرف اس سوال پر نہیں پرکھنا چاہیے کہ وہ اپنے ارکان کو کتنا طاقت ور بناتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ خطے میں تصادم کا امکان کم کرتا ہے یا بڑھاتا ہے۔ طاقت ضروری ہو سکتی ہے، لیکن طاقت کے استعمال پر سیاسی ضبط اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے تہران اجلاس ایک موقع بھی ہے اور ایک سنجیدہ امتحان بھی۔ ایران اس کا ہمسایہ ہے، سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات ہیں اور ترکیہ کے ساتھ تعاون کے کئی امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے دانش مندی اس میں نہیں کہ وہ ہر صورت کسی ایک فریق کی حمایت میں دوسرے سے دور ہو جائے، بلکہ اس میں ہے کہ اپنے تعلقات کو علاقائی استحکام کے لیے استعمال کرے۔ تاہم متوازن سفارت کاری کا مطلب ہر معاملے پر خاموش رہنا یا سب کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا نہیں۔ اس کا مطلب واضح اصولوں کے ساتھ بات کرنا، قومی مفادات کا تحفظ کرنا اور کسی بھی فریق کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان کے لیے جنگ کا پھیلاؤ نہیں بلکہ اس کا روکنا اہم ہے۔ اس کردار کی کامیابی کے لیے جذباتی نعروں سے زیادہ مستقل پالیسی، مضبوط سفارتی تیاری اور معاشی خودمختاری درکار ہے۔ خارجہ پالیسی صرف حکمرانوں کی ملاقاتوں کا نام نہیں۔ کسی ملک کی معاشی حالت، داخلی سیاسی استحکام اور عوام کا اداروں پر اعتماد اس کی سفارتی قوت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ جو ریاست معاشی دباؤ میں ہو، جسے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہو اور جس کی داخلی سیاست مسلسل کشمکش کا شکار ہو، اس کے لیے علاقائی بحران محض اخباری خبر نہیں رہتا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں میں رکاوٹ اور سرمایہ کاری میں کمی عام شہری کے بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کیا حکومتی کامیابی کا معیار عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری نہیں ہونا چاہیے؟

ہم اکثر بین الاقوامی سیاست کو اپنے پسندیدہ ملک یا رہنما کی فتح اور مخالف کی شکست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جنگی بیانات کو سراہتے، مخالف قوموں کا مذاق اڑاتے اور طاقت کے مظاہروں کو قومی وقار سمجھتے ہیں۔ مگر جنگ کی آگ کسی قوم کی حدود اور کسی سیاسی جماعت کے حامیوں کو الگ الگ پہچان کر نہیں جلاتی۔ اس کے اثرات بچوں، مزدوروں، مریضوں اور ان خاندانوں تک پہنچتے ہیں جن کے پاس نہ پالیسی بنانے کا اختیار ہوتا ہے اور نہ اپنی تباہ شدہ زندگی دوبارہ تعمیر کرنے کے وسائل۔ امن کی کوششوں میں ایک بنیادی اصول یہ بھی ہونا چاہیے کہ تمام فریق اپنے کردار کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ اگر ہر ملک اپنے اقدامات کو درست اور دوسرے کے اقدامات کو غلط قرار دے تو مذاکرات محض الزام تراشی کا ایک مہذب طریقہ بن جاتے ہیں۔ پائیدار امن کے لیے سرحدوں کے احترام، شہریوں کے تحفظ، اشتعال انگیز کارروائیوں سے گریز اور تنازعات کے منصفانہ حل جیسے اصولوں پر عملی اتفاق ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ایسے مستقل رابطے بھی درکار ہیں جو کسی اچانک واقعے یا غلط اندازے کو بڑے تصادم میں بدلنے سے روک سکیں۔ مذاکرات کی کامیابی اس میں نہیں کہ فریق اپنے اختلافات چھپا لیں، بلکہ اس میں ہے کہ اختلافات کے باوجود ایسے اصول وضع کر لیں جن کی خلاف ورزی کسی کے مفاد میں نہ رہے۔

تہران اجلاس سے امید وابستہ کرنا درست ہے، لیکن امید کو تنقیدی شعور سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں چاروں ممالک اپنے وعدوں کو کس حد تک عملی اقدامات میں بدلتے ہیں۔ کیا رابطوں کا مستقل نظام قائم ہوگا؟ کیا کشیدگی کم کرنے کے لیے واضح اقدامات کیے جائیں گے؟ کیا اختلافات کے باوجود تعاون کی گنجائش پیدا ہوگی؟ ان سوالات کے جواب ہی اس ملاقات کی اصل اہمیت متعین کریں گے۔ عوام کو ہر سفارتی سرگرمی پر جشن منانے یا ہر پیش رفت کو شک کی نگاہ سے رد کرنے کے بجائے نتائج کی بنیاد پر رائے قائم کرنا سیکھنا ہوگا۔دنیا کو ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو اپنی قوموں کی حفاظت کے لیے طاقت رکھیں، مگر طاقت کے استعمال میں عقل اور ضبط بھی دکھائیں۔ ایسی سیاست درکار ہے جو اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے اس کے حل کا راستہ تلاش کرے۔ پاکستان کو بھی اپنی سفارتی کوششوں کے ساتھ معاشی مضبوطی، داخلی استحکام اور اصولی خارجہ پالیسی پر توجہ دینی ہوگی، کیونکہ کمزور بنیادوں پر کھڑی ریاست کے لیے دیرپا سفارتی اثر قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ تہران اجلاس کا مستقبل ابھی غیر یقینی ہے، مگر اس نے ایک اہم موقع ضرور پیدا کیا ہے۔ اب فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس موقع کو باہمی اعتماد کی بنیاد بناتے ہیں یا اسے چند رسمی بیانات تک محدود رہنے دیتے ہیں۔ امن کا دعویٰ کرنے والوں سے یہ سوال پوچھنا کیا غلط ہے کہ اگر طاقت بڑھانے کے تمام انتظامات کے باوجود انسان کی جان، روزگار اور مستقبل محفوظ نہیں تو پھر اس طاقت کا اصل فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button