اہم خبریںپاکستان

پاکستانی جیلوں میں خواتین قیدیوں کی تعداد میں 32 فیصد اضافہ، مقدمات کے انتظار میں خواتین اور بچوں کی زندگیاں متاثر

”خواتین کی بھاری اکثریت انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ زیادہ تر شادی شدہ، ایک بڑی تعداد اپنے خاندانوں سے کٹی ہوئی اور ناخواندہ ہے۔"

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
فاروق اعظم

پرزن ڈیٹا رپورٹ 2026 کے مطابق، ملک کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کی تعداد 2024 کے دوران 1,534 تھی جو اب بڑھ کر 2,020 ہو گئی ہے، یعنی دو برس میں تقریباً 32 فیصد اضافہ۔

سائرہ (فرضی نام) حمل کے ابتدائی مرحلے میں تھیں، جب انہیں منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق گھر کی تلاشی میں منشیات نہیں ملیں، تاہم مقدمہ درج ہونے سے پہلے انہیں دو روز حراست میں رکھا گیا۔

جیل میں مسلسل درد اور خون بہنے کے باوجود انہیں ماہر ڈاکٹر کے بجائے معمول کی ادویات دی گئیں۔ بالآخر ہسپتال پہنچنے تک ان کا حمل ضائع ہو چکا تھا۔ گرفتاری کے بعد ان کی دو سالہ بچی اور باقی چھ بچے بھی ان سے جدا ہو گئے۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی حال ہی میں جاری ہونے والی پرزن ڈیٹا رپورٹ میں یہ واقعہ درج ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مقدمے کی سماعت سے پہلے حراست میں رکھے جانے سے ایک پورا خاندان کس طرح متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی خواتین کو صحت سے متعلق ایسے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو خاص طور پر ان کی صنفی ضروریات سے وابستہ ہیں۔

 ایک تہائی اضافہ

پرزن ڈیٹا رپورٹ 2026 کے مطابق، ملک کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کی تعداد 2024 کے دوران 1,534 تھی جو اب بڑھ کر 2,020 ہو گئی ہے، یعنی دو برس میں تقریباً 32 فیصد اضافہ۔ ان میں 78 فیصد سے زیادہ خواتین کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ قتل کے بعد منشیات سے متعلق مقدمات خواتین کی قید کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک عائشہ گردیزی بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں، ”خواتین کی بھاری اکثریت انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ زیادہ تر شادی شدہ، ایک بڑی تعداد اپنے خاندانوں سے کٹی ہوئی اور ناخواندہ ہے۔”

مردوں کے لیے بنی جیلیں

عائشہ گردیزی کے مطابق ملک میں خواتین کے لیے مخصوص جیلیں محض تین ہیں۔ دو سندھ میں اور ایک پنجاب میں۔ زیادہ تر خواتین ان جیلوں کے الگ حصوں میں رکھی جاتی ہیں جو بنیادی طور پر مردوں کے لیے بنی ہیں، اور وہاں خواتین کی ضروریات کے مطابق سہولیات موجود نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ”راولپنڈی کی اڈیالہ جیل جیسی بڑی جیلوں میں خواتین اور ان کے بچوں کے لیے کھیلنے اور چہل قدمی کی جگہ ہے، مگر چھوٹی جیلوں کی صورتحال مختلف ہے۔ مثلاً، میں باغ کی جیل میں ایک ایسی خاتون سے ملی جو پوری جیل میں اکیلی عورت تھی۔ حفاظت کے نام پر اس کی نگرانی اتنی سخت تھی کہ وہ تقریباً ہر وقت ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں بند رہتی، ابھی عدالت میں اس کا جرم ثابت بھی نہیں ہوا تھا، لیکن اسے ایسے رکھا جا رہا تھا جیسے وہ سزائے موت کی سزا بھگت رہی ہو۔”

بیرک کے اندر کی زندگی

مردوں کی جیلوںمیں خواتین قیدیوں کے لیے الگ سے احاطے اور بیرک بنے ہوتے ہیں۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تقریباً ایک سال تک بیرک میں شب و روز گزارنے والی کرشمہ (فرضی نام) سے ڈی ڈبلیو اردو نے اندر کے حالات جاننے کے لیے تفصیل سے بات کی۔

وہ بتاتی ہیں کہ، ان کی بیرک میں خواتین اور بچوں سمیت سو سے ایک سو بیس افراد تھے۔ صبح چھ بجے بیرک کھلتی اور سہ پہر تین بجے دوبارہ بند ہو جاتی۔ سب کے استعمال کے لیے محض دو واش روم تھے۔

طبی سہولیات کے حوالے سے وہ کہتی ہیں، ”ڈاکٹر صبح سویرے راؤنڈ پر آتی، جسے جو بھی مسئلہ ہے پیناڈول پکڑا دی جاتی۔ ذہنی مسائل سے دوچار خواتین کو سہہ پہر کے بعد ایک ماہرِ نفسیات کے مختصر معائنے کے بعد دوائیں دے دی جاتیں۔”

’لاوارث قیدی‘

رپورٹ کے مطابق، طبی عملے کی کمی کے باعث قیدی خواتین کے ڈپریشن، بے چینی اور صدمے جیسے مسائل کا علاج بھی متاثر ہوتا ہے۔ کرشمہ کے مطابق سب سے کٹھن زندگی ان خواتین کی تھی جن سے ملنے کوئی نہیں آتا تھا۔ ان کی بیرک میں ایسی دس سے پندرہ خواتین تھیں، جنہیں ‘لاوارث قیدی‘ سمجھا جاتا تھا۔ انہیں دوسری قیدیوں کے کپڑے اور برتن دھونے، جوتے صاف کرنے اور بستر درست کرنے پڑتے، جیل عملے سے لے کر قیدیوں تک، جس کا جیسے دل کرتا انہیں ویسے ہی ٹریٹ کرتا۔ ”اول تو وہ بیچاری کسی بھی مشقت سے انکار کر ہی نہیں سکتی تھیں، اگر کر دیں تو دوسری خواتین کی مرضی ہے انہیں تھپڑ ماریں یا محض گالیوں پر اکتفا کریں۔”

کرشمہ کے مطابق، سپرنٹنڈنٹ کے جمعے کے دورے سے پہلے بیرک صاف کرکے سفید چادریں بچھائی جاتیں، جو ان کے جانے کے بعد اتار لی جاتی تھیں۔

آزادانہ جانچ پڑتال کا کمزور نظام

کیا قیدی خواتین کو اعلیٰ افسران کے دوروں کے دوران آزادانہ شکایت کرنے کا موقع ملتا تھا؟ کرشمہ کہتی ہیں کہ ایک سال کے دوران انہوں نے کسی خاتون کو اعلیٰ افسر سے آزادانہ شکایت کرتے نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق، افسران کے دوروں سے پہلے قیدیوں کو ہدایت دی جاتی تھی کہ کھانے یا دیگر سہولیات کے بارے میں پوچھے جانے پر سب اوکے کی رپورٹ دینی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم شارپ پاکستان کے سربراہ محمد مدثر جاوید کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں قیدیوں کے اصل حالات جاننے کے لیے شفاف نظام نہیں۔

بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”مجھے برطانیہ میں قیدیوں کے ساتھ رہ کر ان کی رہائش، سونے جاگنے کی روٹین اور کھانے کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا، مگر پاکستان میں حکام آپ کو چند منٹ کے لیے بھی قیدیوں کے ساتھ اکیلا نہیں چھوڑتے۔ حکام سکیورٹی رسک کی آڑ لیتے ہیں، ہمیں تو چھوڑیں، جیلوں کا دورہ کرنے والے جج صاحبان کو بھی قیدیوں سے آزادانہ ملاقات کا موقع نہیں ملتا۔”

عائشہ گردیزی کہتی ہیں کہ نگرانی میں ہونے والی ملاقاتیں مسائل کی درست نشاندہی میں رکاوٹ بنتی ہیں، ”جیل حکام عملے کی نگرانی میں چند قیدیوں سے ملاقات کروا دیتے ہیں، اس طرح کیسے ممکن ہے کہ جیل اور قیدیوں کے حقیقی حالات معلوم ہو سکیں۔”

پاکستان میں جیل اصلاحات کی کوششوں کو اجاگر کرتا ایک پوسٹر
پاکستان میں جیل اصلاحات کی کوششوں کو اجاگر کرتا ایک پوسٹر جو جیلوں کے حالات میں مزید بہتری کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔تصویر: Farooq Azam/DW

ماں، بچہ اور جیل کی زندگی

جیل میں قید ماں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ عموماً چھ سے آٹھ سال تک کے بچوں کو اپنے  ساتھ رکھ سکتی ہیں۔

ارم (فرضی نام) اقدام قتل کی ملزمہ کے طور پر تقریباً دو سال بہاولپور جیل میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئی ہیں۔ ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں، ”میں نے اپنی تینوں بچیاں جیل میں اپنے ساتھ رکھیں، کیونکہ باہر انہیں سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔ غریب عورت کے لیے فیصلہ مشکل ہوتا ہے کہ بچوں کو ساتھ رکھے یا باہر چھوڑ دے۔ بعض مائیں بچوں کی عمر کم بتاتی ہیں تاکہ وہ کچھ عرصہ اور ساتھ رہ سکیں۔”

وہ تسلیم کرتی ہیں کہ جیل میں بچے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے لیکن ان کے بقول، ”چلیں بچے آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں تو اطمینان ہوتا ہے کہ باہر کے لوگوں کی دھتکار سے تو محفوظ ہیں، کوئی کسی کے بچوں کو کہاں تک سنبھالتا ہے۔‘‘

عائشہ کے مطابق بہت سی خواتین کے لیے اس کے سوا کوئی آپشن نہیں رہتا کہ وہ بچوں کو ساتھ رکھیں۔ یہاں تک کہ بعض خواتین اس بات پر ہی مطمئن رہتی ہیں کہ جیل میں ان کے بچوں کو ٹائم پر کھانا تو مل جاتا ہے۔

عائشہ کے مطابق، ”بڑی جیلوں میں بچوں کے لیے پارک اور کھیلنے کے لیے جھولے اور کھلونے وغیرہ دستیاب ہوتے ہیں، البتہ چھوٹے اور دور دراز شہروں کی جیلوں میں اتنی سہولیات نہیں۔”

جیل سے رہائی، نئی جد و جہد کا آغاز

جیل سے رہائی کے بعد بھی خواتین کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ رپورٹ کے مطابق، بدنامی اور خاندان کی جانب سے قبول نہ کیے جانے کے باعث ان کے لیے رہائش اور روزگار تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ عدالتیں خواتین کی غربت، حمل اور بچوں کی ذمہ داری کو مدِنظر رکھتے ہوئے غیر متشدد جرائم میں متبادل سزاؤں پر غور کریں۔

ارم کہتی ہیں، جیل میں جب ضمانت کی خبر ملی تو بہت خوشی تھی لیکن ساتھ ہی خوف کہ معاشرے کا سامنا کیسے کرنا ہے، لوگ کیا پوچھیں گے، کن نظروں سے دیکھیں گے۔

ان کے بقول، واپسی کے بعد سب سے زیادہ مشکل بچوں کو معاشرے میں ایڈجسٹ کرنا تھا۔ ”میں نے بچیوں کو سکول داخل کروایا، ایک دن انہیں لینے گئی تو وہ رو رہی تھیں، ٹیچر نے کلاس میں سب کے سامنے ان سے جیل کی سٹوریاںسنانے کا کہا تھا۔”

کرشمہ کہتی ہیں، ”ایسا لگتا ہے جیسے میں انسان نہیں، کوئی اور مخلوق ہوں۔ لوگ مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے میری قید آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ اب ان کی باتوں کی پروا نہیں رہی، مگر نظروں میں چھپے سوال، کھسر پھسر آج بھی چبھتی ہے۔ مرد قیدی شاید رہائی کے بعد معمول کی زندگی میں لوٹ آتے ہیں، مجھے لگتا ہے خواتین کے لیے ایسا نہیں ہے۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button