
سخت سردیاں اور امدادی بحران، لاکھوں بے گھر افراد خطرے میں
ادارے کے مطابق 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں 11 کروڑ 78 لاکھ افراد جبری بے دخلی کا شکار تھے، جو 2024 کے ریکارڈ 12 کروڑ 32 لاکھ افراد کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتا ہے۔
اے ایف پی، روئٹرز
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے جمعے کے روز کہا ہے کہ یوکرین، شام ، لبنان اور افغانستان میں آنے والے موسم سرما کے لیے نو ملین افراد کو اضافی مدد کی ضرورت ہوگی۔
فنڈ ریزنگ اپیل کا آغاز کرتے ہوئے، UNHCR نے کہا کہ اسے موسم سرما کی امداد کے لیے کم از کم 50 ملین ڈالر جمع کرنے کی امید ہے۔ 3 ملین ڈالر اس نے پچھلے سال جمع کیے تھے۔
ایجنسی کے خارجہ تعلقات کے شعبے کی ڈائریکٹر ڈومینک ایزابیلے ہائیڈ نے کہا، ”وسائل کی کمی ہے اور جیسے جیسے شمالی نصف کرہ میں موسم سرما شروع ہو رہا اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا، ” جنگ سے متاثرہ خستہ حال ممالک میں لاکھوں افراد کو سردی سے بچنے کے لیے میسر ناکافی سہولیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں انہیں فوری طور پر تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔‘‘
جنیوا میں قائم اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) نے خبردار کیا کہ یوکرین سمیت چار ممالک میں موسمِ سرما کے دوران انسانی ضروریات انتہائی بڑھ گئی ہیں۔ ادارے کے مطابق لاکھوں افراد خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ہیٹنگ اور کھانا پکانے کے لیے ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

UNHCR کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے پانچویں موسمِ سرما میں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے۔ اس دوران شہری آبادی اور امدادی کارکنوں پر حملوں میں اضافہ اور بجلی کی مسلسل بندشیں جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔
افغانستان
افغانستان میں جنوری 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان تقریباً 40 لاکھ افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس اپنے ملک لوٹے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق ان میں سے بہت سے افراد کے پاس نئی زندگی شروع کرنے اور اپنے گھر بار دوبارہ آباد کرنے کے لیے بہت محدود وسائل ہیں۔
شام
شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد لاکھوں پناہ گزین اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس موسمِ سرما میں رہائش، گرم کپڑوں اور حرارتی ایندھن جیسی بنیادی ضروریات کے لیے مزید مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو واپس آنے والے افراد کی صورتحال مزید غیر یقینی اور مشکل ہو سکتی ہے۔

لبنان
لبنان میں تقریباً تین لاکھ افراد کو موسمِ سرما کے دوران امداد کی ضرورت کا اندازہ ہے، تاہم مالی وسائل کی کمی کے باعث اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) صرف نصف متاثرین تک ہی مدد پہنچا سکے گا۔
ادارے کے مطابق 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں 11 کروڑ 78 لاکھ افراد جبری بے دخلی کا شکار تھے، جو 2024 کے ریکارڈ 12 کروڑ 32 لاکھ افراد کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتا ہے۔ تاہم پناہ گزینوں کی بلند تعداد کے باوجود بجٹ میں کٹوتیوں نے UNHCR کو اپنے عملے میں کمی پر مجبور کر دیا ہے۔
UNHCR نے 2026 کے لیے اپنے امدادی پروگراموں کی مد میں 8.5 ارب ڈالر کی اپیل کی تھی، لیکن 9 اکتوبر تک اسے صرف 3 ارب ڈالر فنڈز دستیاب ہو سکے تھے۔




