
مذہبی دعوے اور تلخ حقائق….. علی عباس کاظمی
عبادت انسان کے اندر ذمہ داری، ضبطِ نفس، ہمدردی اور انصاف پیدا نہ کرے تو اسے اپنی کیفیت پر غور کرنا چاہیے
ہم نے اسلام کو اپنے نام کے ساتھ تو جوڑ لیا، مگر اپنے کردار میں اتارنے کی زحمت نہیں کی۔ ہماری شناخت مذہبی ہے، ہماری گفتگو میں دین کا ذکر ہے، ہمارے گھروں میں عبادت کی جگہ موجود ہے، لیکن جب معاملہ دیانت، انصاف، سچائی اور حقوق العباد کا آتا ہے تو ہمارے دعووں اور عمل کے درمیان ایک گہری خلیج دکھائی دینے لگتی ہے۔ ہم اپنی مذہبی وابستگی پر فخر کرتے ہیں، مگر یہ دیکھنے سے گریز کرتے ہیں کہ ہماری موجودگی سے دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے یا مشکلات بڑھتی ہیں۔دین محض چند عبادات کی ادائیگی یا مخصوص مواقع پر مذہبی جوش کے اظہار کا نام نہیں۔ عبادت انسان کے اندر ذمہ داری، ضبطِ نفس، ہمدردی اور انصاف پیدا نہ کرے تو اسے اپنی کیفیت پر غور کرنا چاہیے۔ نماز کے بعد بھی اگر کسی کا حق مارنا آسان محسوس ہو، روزے کے باوجود غصے اور بدزبانی پر قابو نہ رہے، حج سے واپسی کے بعد بھی کاروبار میں دھوکا معمول بن جائے اور مذہبی مجالس میں شرکت کے باوجود انسان دوسرے انسان کی تذلیل سے لطف اندوز ہو تو ہمیں اپنی دینداری کے عملی اثرات کا جائزہ لینا ہوگا۔ عبادات کی روح انسان کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ اسے اپنی خامیوں کے باوجود خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کا موقع فراہم کرنا۔ مذہب اگر ہمارے اندر عاجزی کے بجائے غرور اور اصلاح کے بجائے دوسروں کی نگرانی کا جذبہ پیدا کر رہا ہے تو خرابی کو پہچاننے کے لیے ہمیں اپنے رویوں کی طرف دیکھنا ہوگا۔ہماری اجتماعی کمزوری کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے علم کو زندگی بدلنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے سند، ملازمت اور سماجی مرتبے تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نئی ایجادات استعمال کرتے ہیں مگر ان کے پیچھے موجود تحقیق، نظم، مسلسل محنت اور علمی آزادی کی قدر کم سمجھتے ہیں۔ ماضی کے مسلم اہلِ علم کا ذکر فخر سے کرتے ہیں، لیکن ان کی اصل میراث، یعنی جستجو، تجربہ، تحقیق اور فکری جرأت کو اپنانے میں ہچکچاتے ہیں۔ تاریخ کا روشن باب دہرانے سے حال روشن نہیں ہوتا۔ اگر ہم علم کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو کتاب سے تعلق، معیاری تعلیم، تحقیق کے لیے وسائل اور اختلافِ رائے کے احترام کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ ہم کسی شخص کی غلطیوں کو اس لیے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے گروہ سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ مخالف کی معمولی لغزش بھی ناقابلِ معافی دکھائی دیتی ہے۔ یہ طرزِ عمل صرف سیاست تک محدود نہیں۔ تعلیمی اداروں، مذہبی تنظیموں، خاندانی معاملات اور مقامی سماجی زندگی میں بھی ہم اکثر اہلیت سے زیادہ قربت کو اہمیت دیتے ہیں۔معاشرہ صرف بدعنوان حکمرانوں سے نہیں بگڑتا، ان چھوٹی چھوٹی رعایتوں سے بھی بگڑتا ہے جنہیں عام لوگ اپنے مفاد میں جائز قرار دے دیتے ہیں۔
فرقہ واریت اور مذہبی نفرت بھی اسی اخلاقی تضاد کی پیداوار ہیں۔ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کی حقیقت ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، تحقیر اور تشدد میں بدل دینا ایک سنگین اخلاقی ناکامی ہے۔ اپنے عقیدے پر قائم رہنا کسی کو دوسرے انسان کی جان، عزت اور بنیادی حقوق پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ معاشرتی اتحاد کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تمام لوگ ہر معاملے میں ایک جیسا سوچیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انصاف، امن اور انسانی حرمت پر سمجھوتا نہ کیا جائے۔ جو معاشرہ اپنے اندر اختلاف کو مہذب انداز میں سنبھال نہیں سکتا، وہ بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ بھی کمزور اجتماعی قوت کے ساتھ کرتا ہے۔انصاف کے بغیر مذہبی اور اخلاقی دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ ہماری زندگی میں قانون کی حیثیت اکثر اس بات سے طے ہوتی ہے کہ اسے توڑنے والا کتنا طاقتور ہے اور اس کی زد میں آنے والا کتنا کمزور۔ رشوت کو سہولت، سفارش کو حق اور ناجائز فائدے کو ذہانت کا نام دے کر ہم نے اپنی اخلاقی حس کو کمزور کیا ہے۔ یہ رویے صرف ریاستی اداروں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ عام شہری کے دل سے قانون اور اجتماعی ذمہ داری کا احترام بھی ختم کرتے ہیں۔ انصاف کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ قانون سب پر یکساں لاگو ہو، مقدمات کا فیصلہ غیر ضروری تاخیر کے بغیر ہو، ادارے ذاتی دباؤ سے آزاد ہوں اور احتساب سیاسی یا گروہی انتقام کے بجائے شواہد پر قائم ہو۔ عورت کے معاملے میں ہمارا معاشرتی رویہ بھی کئی تضادات ظاہر کرتا ہے۔ ہم اس کی عزت کا ذکر کرتے ہیں، مگر اکثر اس کی رائے، تعلیم، وراثت اور فیصلے کے حق کو وہ اہمیت نہیں دیتے جس کا وہ مستحق ہے۔ کبھی خاندانی غیرت کے نام پر اس کی زندگی کے فیصلے اس سے چھین لیے جاتے ہیں اور کبھی اس کی شخصیت کو ظاہری شکل و صورت اور سماجی نمائش تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اگر ایک بیٹی تعلیم حاصل نہیں کر سکتی، ایک بہن اپنے جائز حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتی اور ایک عورت کو اپنے مستقبل کے فیصلے میں شریک نہیں کیا جاتا تو محض عزت کے دعوے اس محرومی کا ازالہ نہیں کر سکتے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ عورت کو تعلیم، تحفظ، معاشی مواقع اور قانونی حقوق حاصل ہوں۔ خاندان مضبوط تب ہوتا ہے جب اس کے افراد کو خاموش رکھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو پنپنے کا موقع دیا جائے۔نوجوانوں کی صورتِ حال بھی ہمارے لیے ایک سنجیدہ تنبیہ ہے۔ ہم ان سے کامیابی کی توقع رکھتے ہیں، لیکن معیاری تعلیم، روزگار، تحقیق، تخلیقی کام اور آگے بڑھنے کے منصفانہ مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ نوجوانوں کو محض ماضی کی عظمت کے قصے سنانا کافی نہیں۔ انہیں ایسا حال دینا ہوگا جس میں محنت کا صلہ ملے، قابلیت کی قدر ہو اور اختلاف کے باوجود آگے بڑھنے کا راستہ بند نہ ہو۔ جس نسل سے سوال کرنے کا حق چھین لیا جائے، اس سے نئی راہیں تلاش کرنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
عالمی طاقتوں کی پالیسیوں، تاریخی ناانصافیوں، معاشی دباؤ اور بیرونی مداخلت کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہر ناکامی کی وضاحت انہی عوامل سے کرنا اپنی ذمہ داری سے بچنے کا راستہ بھی بن سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں سے ہمیں ان کے ہر نظریے یا طرزِ زندگی کی نقل نہیں کرنی، مگر تحقیق، ادارہ جاتی نظم، قانون کی پابندی، وقت کی قدر اور شہری حقوق کے تحفظ جیسے اصولوں سے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ خود انحصاری کا مطلب دنیا سے کٹ جانا نہیں، بلکہ ایسی علمی، معاشی اور صنعتی بنیادیں قائم کرنا ہے جن کی بدولت ہم دوسروں کے محتاج بننے کے بجائے برابری کی سطح پر تعلقات قائم کر سکیں۔اصلاح کا آغاز بڑے نعروں یا اچانک انقلابی دعووں سے نہیں، ان فیصلوں سے ہوتا ہے جن میں انسان کو اپنا نقصان برداشت کرکے بھی درست راستہ اختیار کرنا پڑے۔ ریاستی اصلاحات، شفاف ادارے، معیاری تعلیم، آزاد تحقیق اور مؤثر احتساب ناگزیر ہیں، مگر ان کے لیے عوامی شعور اور اخلاقی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ صرف اچھے قوانین کافی نہیں، انہیں نافذ کرنے اور ان کی پابندی کرنے والے انسان بھی چاہییں۔دعا انسان کو امید اور حوصلہ دیتی ہے، مگر دعا کو اپنی ذمہ داری سے فرار کا وسیلہ نہیں بنانا چاہیے۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر حالات کے بدلنے کا انتظار نہیں، بلکہ درست نیت کے ساتھ پوری کوشش کرنا اور نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا ہے۔ اسی طرح دین کو سیاست اور معاشرت سے متعلق اصولوں کے طور پر سمجھنے کا تقاضا یہ ہے کہ اقتدار کو امانت، اختلاف کو برداشت، عوامی وسائل کو ذمہ داری اور حکمرانی کو خدمت سمجھا جائے۔ کسی نظام کو اسلامی نام دینے سے پہلے اس کے عملی نتائج دیکھنے چاہییں۔ کیا اس میں کمزور کو انصاف ملتا ہے؟ کیا حکمران جواب دہ ہیں؟ کیا شہریوں کی عزت محفوظ ہے؟ کیا علم اور محنت کی قدر ہوتی ہے؟ ان سوالوں کے جواب نعروں سے نہیں، زندگی کے تجربات سے ملتے ہیں۔ہمیں اپنے زوال کا ماتم کرنے سے زیادہ اپنے رویوں کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ محاسبہ دوسروں کی فہرستِ خطاؤں سے شروع نہیں ہوتا، اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ قومیں ایک دن میں عروج حاصل نہیں کرتیں اور نہ کسی ایک فیصلے سے ان کی تمام خرابیاں دور ہو جاتی ہیں۔ تبدیلی کے لیے مستقل مزاجی، ادارہ جاتی اصلاح، علمی ترقی اور اخلاقی جرأت درکار ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو انہیں صرف یہ نہ بتائیں کہ ہمارے اسلاف کیا تھے، یہ بھی دکھائیں کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں۔ تاریخ میں عزت پانے کی خواہش رکھنے والی قوم کو پہلے اپنے حال میں عزت کے قابل بننا پڑتا ہے۔ ہماری اصل کامیابی اس دن شروع ہوگی جب ہم اسلام کی عظمت بیان کرنے سے آگے بڑھ کر اس کے عدل، دیانت، علم اور رحم کو اپنی زندگیوں میں قابلِ مشاہدہ حقیقت بنا دیں گے۔



