
وزیراعظم کی بینکوں کو ہدایت: زراعت، ہاؤسنگ اور ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کی فراہمی تیز کی جائے
چھوٹے کاروباروں، زرعی شعبے اور اپنا گھر اسکیم کے لیے فنانسنگ میں سست روی برداشت نہیں ہوگی، اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ مؤثر نگرانی کریں، شہباز شریف؛ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز)، ہاؤسنگ اور زراعت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور مالی وسائل کی فراہمی سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ حکومتی اقدامات کے تحت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں تیزی لائی جائے اور اس ضمن میں سست روی اختیار کرنے والے بینکوں کے معاملے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کسی قسم کی رعایت نہ برتیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، متعلقہ حکام، گورنر اسٹیٹ بینک، ارکان قومی اسمبلی اور معروف کمرشل بینکوں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ہاؤسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے پیش رفت، مالیاتی اہداف، بینکوں کی کارکردگی اور قرضوں کے حصول میں حائل رکاوٹوں پر بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ترجیحی شعبوں میں مالی وسائل کی رسائی بہتر بنانے کے لیے ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرات اور اخراجات میں شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ سمیت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے اور حکومت کو توقع ہے کہ بینک بھی زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے اسی جذبے کے ساتھ مالی معاونت فراہم کریں گے جس طرح حکومت اور اس کے ادارے بینکنگ سیکٹر کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی برداشت نہیں ہوگی
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وہ بینک قابلِ ستائش ہیں جو حکومتی اقدامات کے تحت زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے بینک جو حکومتی پالیسیوں کے تحت کسانوں، کاروباری افراد اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر کر رہے ہیں، ان کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی کے عمل کی مؤثر نگرانی کی جائے اور بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ حکومتی اقدامات کے ثمرات متعلقہ طبقات تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد محض قرضوں کے اہداف مقرر کرنا نہیں بلکہ ان مالی وسائل کو کسانوں، کاروباری افراد اور گھر بنانے کے خواہش مند شہریوں تک پہنچانا ہے تاکہ وہ اپنی معاشی سرگرمیوں کو وسعت دے سکیں اور ملکی معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں۔
اجلاس میں تینوں ترجیحی شعبوں کے حوالے سے کمرشل بینکوں کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کیے گئے۔ وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کی تعریف کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ دیگر بینک بھی اپنے طریقہ کار کو بہتر بناتے ہوئے قرضوں کی فراہمی کے مقررہ اہداف کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری
اجلاس کو دی گئی بریفنگ کے مطابق 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی تھی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس پروگرام کے تحت 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی گئی، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو مجموعی طور پر 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے تھے۔
یہ اعدادوشمار قرضوں کی منظوری اور عملی طور پر رقم جاری کیے جانے کے درمیان فرق کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ منظور شدہ قرضوں کے مقابلے میں جاری کیے گئے قرضوں کی تعداد اور مالیت اس امر کی اہمیت اجاگر کرتی ہے کہ منظوری کے بعد رقم کی فراہمی کا عمل بھی بروقت اور مؤثر ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضوں کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ اہل درخواست گزاروں کو مالی معاونت کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔
ہاؤسنگ فنانس کے مجموعی شعبے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ قرضوں کا حجم 455 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس شعبے سے مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپنا گھر اسکیم سے نہ صرف شہریوں کو رہائشی سہولت کے حصول میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اس کے ذریعے ہاؤسنگ اور تعمیرات سے منسلک متعدد صنعتوں کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی سے تعمیراتی صنعت کو فائدہ پہنچنے کی توقع
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہاؤسنگ کا شعبہ معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی ترقی سے تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
تعمیرات کے شعبے کا تعلق سیمنٹ، سریا، اینٹوں، ٹائلز، بجلی کے سامان، لکڑی، پلمبنگ اور دیگر تعمیراتی اشیا کی تیاری و فراہمی سے وابستہ صنعتوں کے ساتھ ہے۔ رہائشی منصوبوں میں اضافے سے ان شعبوں میں طلب بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو فروغ ملنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپنا گھر اسکیم کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قرضوں کی فراہمی کا طریقہ کار آسان ہو اور درخواست گزاروں کو غیر ضروری مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے انہیں حل کیا جائے اور اس مقصد کے لیے بینکوں، متعلقہ اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے اس شعبے کو ترجیح دینے کا مقصد رہائش کے حصول کے لیے مالی سہولتوں کو بہتر بنانا اور تعمیراتی سرگرمیوں کے ذریعے معاشی ترقی کے امکانات کو وسعت دینا ہے۔
زرعی شعبے کے قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے تک پہنچ گیا
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 329 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ تقریباً 35 لاکھ افراد اس شعبے میں قرضوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کو مالی وسائل کی فراہمی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ ویلیو ایڈیشن سے مراد زرعی پیداوار کو مزید پراسیس کرکے ایسی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے جن کی مارکیٹ میں قدر زیادہ ہو۔ اس عمل میں خوراک کی پراسیسنگ، پیکجنگ، ذخیرہ کرنے اور مصنوعات کو بہتر معیار کے مطابق تیار کرنے جیسے مراحل شامل ہو سکتے ہیں۔
زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ اگر پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے مواقع کو بہتر بنایا جائے تو ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے کسانوں کو مناسب مالی وسائل کی فراہمی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ زرعی سرگرمیوں میں بیج، کھاد، زرعی مشینری، آبپاشی اور دیگر ضروریات کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ آسان قرضوں تک رسائی کسانوں کو اپنی پیداواری ضروریات پوری کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زرعی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو درپیش مالیاتی مسائل حل کیے جائیں اور بینکوں کے ذریعے کسانوں تک قرضوں کی رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے کرنے کا ہدف
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
موجودہ رپورٹ کردہ حجم ایک ہزار 329 ارب روپے کو مدنظر رکھا جائے تو مقررہ ہدف کے حصول کے لیے مزید قرضوں کی فراہمی، درخواستوں کی مؤثر پراسیسنگ اور مالیاتی سہولتوں تک رسائی میں بہتری اہم ہوگی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بینکوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مالی معاونت کے حکومتی اقدامات سے کسانوں کو حقیقی فائدہ پہنچے۔
زرعی شعبے میں قرضوں کے حجم میں اضافہ صرف اسی صورت میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب مالی وسائل مناسب شرائط کے تحت متعلقہ افراد تک پہنچیں اور ان کے استعمال سے پیداواری سرگرمیوں کو تقویت ملے۔
حکومت کی جانب سے زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے فروغ پر توجہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زرعی ترقی کو صرف پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے مصنوعات کی تیاری، معیار میں بہتری اور منڈیوں تک رسائی کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایس ایم ای سیکٹر کو 1148 ارب روپے کے قرضے فراہم
اجلاس میں بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، یعنی ایس ایم ایز، کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا حجم ایک ہزار 148 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد تین لاکھ 42 ہزار 458 ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور استعداد رکھتے ہیں۔ اس شعبے کو مالی وسائل کی فراہمی سے کاروباری افراد اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے سکتے ہیں، پیداوار بڑھا سکتے ہیں اور نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔
ایس ایم ایز ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم ایسے کاروباروں کو اکثر سرمایہ حاصل کرنے، قرضوں کی شرائط پوری کرنے اور مطلوبہ دستاویزات تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے قرضوں کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانا اور مالیاتی اداروں تک رسائی بہتر بنانا اس شعبے کی ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی کے لیے بینک کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔
ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کی فراہمی کا ہدف 1500 ارب روپے
بریفنگ کے مطابق مالی سال 2027 کے اختتام تک ایس ایم ای شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس ہدف کے حصول کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت، درخواستوں کی بروقت جانچ اور مالیاتی اداروں کے طریقہ کار میں بہتری کو اہم قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ ایس ایم ای سیکٹر، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو فنانسنگ کے حصول میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
انہوں نے چھوٹے کاروباروں کو قرضوں کی آسان فراہمی کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس اقدام کا مقصد قرضوں کی فراہمی کے دوران مالیاتی خطرات کے حوالے سے درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے انتظامات کی نشاندہی کرنا ہے جو بینکوں اور کاروباری افراد دونوں کے لیے قابلِ عمل ہوں۔
اسٹیٹ بینک کے تین بنیادی ستونوں پر مبنی اقدامات
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے۔
ان میں پہلا ستون ضوابط اور قواعد میں بہتری ہے، جس کا مقصد قرضوں کے حصول کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا اور متعلقہ شعبوں کی ضروریات کے مطابق طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔
دوسرا ستون حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرات اور اخراجات میں شراکت داری ہے۔ اس حوالے سے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی جیسے انتظامات پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں درپیش رکاوٹوں کو کم کرنے کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔
تیسرا ستون ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ ہے، جس کے ذریعے قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے، درخواستوں کی پیش رفت معلوم کرنے اور مالیاتی خدمات تک رسائی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بریفنگ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی میں اضافے کے ساتھ اس عمل کو زیادہ شفاف، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔
ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل کا آغاز
اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے حال ہی میں ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے حصول کے لیے درخواست دے سکیں گے اور اپنی درخواستوں کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔
ڈیجیٹل پورٹل کا مقصد کاروباری افراد کو قرضوں کی درخواست کے عمل میں سہولت فراہم کرنا اور درخواست کی صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے زیادہ آسان ذریعہ مہیا کرنا ہے۔
ڈیجیٹل نظام کے ذریعے درخواستوں کے اندراج اور ان کی پیش رفت کی نگرانی سے کاروباری افراد کو معلومات تک رسائی میں سہولت مل سکتی ہے۔ تاہم قرض کی منظوری کا انحصار متعلقہ بینک کے قواعد، درخواست گزار کی اہلیت اور دیگر مقررہ شرائط پر ہوگا۔
وزیراعظم نے قرضوں کے حصول کے عمل میں غیر ضروری پیچیدگیوں کو دور کرنے اور ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے مالیاتی وسائل تک رسائی مزید بہتر بنائی جا سکے۔
رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی سے قرضوں کی رسائی بہتر بنانے کی کوشش
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی سے متعلق اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔
رسک شیئرنگ کے انتظامات میں قرضوں سے وابستہ بعض مالیاتی خطرات کو متعلقہ فریقوں کے درمیان تقسیم کرنے کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے، جبکہ کریڈٹ گارنٹی کے ذریعے مقررہ شرائط کے تحت قرض دینے والے اداروں کو اضافی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں درپیش مشکلات کم کرنا اور بینکوں کے لیے ایسے کاروباری افراد اور درخواست گزاروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے امکانات بہتر بنانا ہے جو مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہوں۔
وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی تیار کرنے پر زور دیا، تاکہ قرضوں کی فراہمی میں موجود رکاوٹوں کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔
اجلاس میں قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات کی تعداد کم کرنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے ٹیکس مسائل حل کرنے کی ہدایت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنندگان کو درپیش ٹیکس مسائل حل کرنے کے لیے مل کر کام کیا جائے۔
اس ہدایت کا مقصد متعلقہ کاروباری طبقات کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرنا ہے۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے مالیاتی سہولتوں تک رسائی کے ساتھ ٹیکس سے متعلق معاملات کی وضاحت اور ان کے حل کا مؤثر طریقہ کار بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح برآمد کنندگان کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور بڑھانے کے دوران مختلف مالیاتی اور انتظامی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ان معاملات کو باہمی تعاون سے حل کیا جائے تاکہ چھوٹے کاروباروں اور برآمدی سرگرمیوں کو درپیش مسائل کم کیے جا سکیں۔
حکومت اور بینکوں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور اس کے ادارے بینکنگ سیکٹر کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ بینک بھی ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں اسی نوعیت کا تعاون کریں گے۔
انہوں نے نجی شعبے کی ترقی کے لیے بینکوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ زراعت، ہاؤسنگ اور ایس ایم ایز میں مالی وسائل کی فراہمی معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں کمرشل بینکوں کی کارکردگی کے اشاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اچھی کارکردگی دکھانے والے اداروں کو سراہا گیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ قرضوں کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے بینکوں کی کارکردگی میں بہتری اور درخواست گزاروں کو بروقت سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ تینوں ترجیحی شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے مسائل حل کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے، جبکہ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو چھوٹے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے ٹیکس مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ہدایت کی۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء اور بینکوں کے نمائندوں کی شرکت
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ اور شزہ فاطمہ خواجہ شریک ہوئیں۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ارکان قومی اسمبلی حفیظ الدین اور چوہدری افتخار نذیر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں معروف کمرشل بینکوں کے سربراہان اور نمائندے بھی موجود تھے۔
شرکاء کو ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی فراہمی کی صورتِ حال، بینکوں کی کارکردگی اور آئندہ کے اہداف سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی اقدامات پر عمل درآمد، قرضوں کی رسائی بہتر بنانے اور متعلقہ شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف کے زیر صدارت اجلاس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار اور ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ہاؤسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی وسائل کی فراہمی میں اضافے کو معاشی پالیسی کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے۔
زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کسانوں کی پیداواری سرگرمیوں اور زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن میں مددگار ہو سکتی ہے۔ ایس ایم ایز کو مالی معاونت ملنے سے کاروباری سرگرمیوں کی توسیع اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ ہاؤسنگ فنانس کی بہتری سے تعمیرات اور اس سے منسلک صنعتوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
تاہم مقررہ اہداف کے حصول کے لیے صرف قرضوں کی منظوری کافی نہیں ہوگی بلکہ بروقت رقم کی فراہمی، درخواستوں کی شفاف جانچ، آسان طریقہ کار اور مؤثر نگرانی بھی ضروری ہوگی۔
حکومت نے مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کی تکمیل کے لیے بینکوں، اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون بنیادی اہمیت رکھے گا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی اختیار کرنے والے بینکوں کے معاملے میں رعایت نہیں برتی جائے گی۔ حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ ترجیحی شعبوں کے لیے مختص مالی سہولتیں متعلقہ افراد تک پہنچیں اور ان کے ذریعے معاشی سرگرمیوں، برآمدات اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔



