اہم خبریںپاکستان

پاکستان اور جرمنی میں معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، ڈاکٹر اِنّا لیپل

دوطرفہ تجارت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، جرمن سفیر؛ علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، امریکی ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم- ادارت پاکستان

پاکستان میں جرمنی کی سفیر ڈاکٹر اِنّا لیپل نے کہا ہے کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان معاشی ترقی، تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ اور مؤثر کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے دوطرفہ تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو معاشی تعاون کی نئی جہتوں تک وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جرمن سفیر نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے بین الاقوامی روابط کے اقدام ’’میٹ دی پریس‘‘ کے تحت صحافیوں کے ساتھ منعقدہ ایک خصوصی نشست میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے حل، کشیدگی میں کمی اور خطے کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔

ڈاکٹر اِنّا لیپل نے یوکرین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے روس کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی اور یوکرین کے عوام کے ساتھ جرمنی اور یورپی برادری کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کے لیے جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع، ویزا درخواستوں میں اضافے اور کارروائی کے دورانیے سے متعلق امور پر بھی روشنی ڈالی۔

جرمن سفیر کی نیشنل پریس کلب آمد، صحافیوں سے خصوصی نشست

پاکستان میں جرمنی کی سفیر ڈاکٹر اِنّا لیپل نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال، سیکریٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، گورننگ باڈی کے ارکان اور سینئر صحافیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

دورے کے دوران جرمن سفیر نے نیشنل پریس کلب کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور ادارے کی سرگرمیوں، صحافتی کردار اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے کلب کے احاطے میں پودا بھی لگایا، جسے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور ماحولیاتی پائیداری کی علامت قرار دیا گیا۔

اس موقع پر صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے جرمن سفیر کو خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سفارت کاروں اور صحافتی برادری کے درمیان روابط اور تبادلۂ خیال کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

سیکریٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے جرمن سفیر کو ادارے کی تاریخ، صحافتی سرگرمیوں، ادارہ جاتی کردار اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی پاکستان کا ایک اہم ترقیاتی شراکت دار ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، ترقیاتی منصوبوں اور جمہوری اداروں کے استحکام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی طویل تاریخ موجود ہے۔ جرمنی پاکستانی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور وظائف فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

دوطرفہ تجارت میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے پر جرمن سفیر کا اظہارِ تشویش

’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اِنّا لیپل نے پاکستان اور جرمنی کے دوستانہ تعلقات کو اہم قرار دیا، تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں گزشتہ برسوں کے دوران مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا۔

جرمن سفیر نے بتایا کہ وہ 2017ء میں بھی پاکستان میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور اب دوبارہ بطور سفیر پاکستان آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں خاطر خواہ بہتری نہ آنا افسوس ناک ہے، حالانکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان معاشی تعاون کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو اپنے دیرینہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں سے دونوں ملکوں کے کاروباری اداروں کو نئے مواقع میسر آ سکتے ہیں اور باہمی معاشی تعلقات زیادہ مستحکم ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر اِنّا لیپل کے مطابق پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعاون کو صرف روایتی شعبوں تک محدود رکھنے کے بجائے کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور تجارت کے نئے امکانات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے اداروں اور کاروباری حلقوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانا اہم ہو سکتا ہے۔

جرمن سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ معاشی تعاون ایسا ہونا چاہیے جس سے دونوں ممالک کو یکساں فائدہ پہنچے۔ ان کے مطابق دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی، کاروباری روابط اور تجارت میں اضافے کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔

پاکستان اور جرمنی کے معاشی تعاون میں وسعت کے امکانات

پاکستان اور جرمنی کے تعلقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کو اہم مقام حاصل ہے۔ جرمن سفیر کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے امکانات موجود ہیں، تاہم ان امکانات کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

معاشی تعاون میں اضافے کے لیے کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینا، تجارتی مواقع سے آگاہی پیدا کرنا اور ممکنہ سرمایہ کاری کے شعبوں کی نشاندہی اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم اور ترقیاتی تعاون کے شعبوں میں موجود روابط کو بھی دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔

نیشنل پریس کلب میں ہونے والی نشست کے دوران اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرکاری سطح کے رابطوں کے ساتھ میڈیا، تعلیمی اداروں اور عوامی روابط کو بھی اہمیت حاصل ہے۔

جرمن سفیر نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کی ضرورت پر زور دے کر اس جانب توجہ دلائی کہ دوستانہ تعلقات کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے مستقل اور عملی کوششیں درکار ہیں۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تعلقات کو مزید مؤثر معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا

علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جرمن سفیر ڈاکٹر اِنّا لیپل نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

انہوں نے بالخصوص حالیہ امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اہم سفارتی اقدامات کیے ہیں۔

جرمن سفیر کے مطابق تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکنے اور ان کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے سفارت کاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اختلافات اور کشیدگی کے حالات میں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے پاکستان کی ان کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کا مقصد تنازعات کے پرامن حل کے امکانات کو فروغ دینا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستے اختیار کرنا ہے۔

ڈاکٹر اِنّا لیپل کے بیان میں اس امر کی اہمیت نمایاں تھی کہ علاقائی تنازعات کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان سے وسیع تر خطے کے امن، استحکام اور معاشی ماحول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے سفارتی روابط اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے جرمن سفیر نے بالواسطہ طور پر اس اصول کو اجاگر کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ مسائل کے پُرامن حل کے امکانات برقرار رہیں۔

یوکرین کے عوام کے ساتھ جرمنی اور یورپی برادری کی یکجہتی

یوکرین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اِنّا لیپل نے روس کی فوجی کارروائیوں پر شدید تنقید کی اور یوکرین کے عوام کے ساتھ جرمنی اور یورپی برادری کی یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی اور یورپی ممالک یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو یوکرین میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیے اور امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔

جرمن سفیر نے مزید کہا کہ یورپی ممالک یوکرین کو سیاسی، اقتصادی اور انسانی بنیادوں پر مسلسل حمایت فراہم کر رہے ہیں۔

یوکرین کے معاملے پر ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی بین الاقوامی تنازعات میں خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے روس کی فوجی کارروائیوں پر اپنے ملک کے مؤقف کا اظہار کیا۔

جرمن سفیر نے یوکرین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ جنگ اور تنازعات کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی اصولوں کا احترام ضروری ہے۔

پاکستانی طلبہ کے لیے جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے وسیع مواقع

پاکستانی طلبہ کے لیے جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اِنّا لیپل نے کہا کہ معیاری تعلیمی اداروں، تحقیق کے وسیع امکانات اور سازگار تعلیمی ماحول کی وجہ سے جرمنی پاکستانی طلبہ کے لیے ایک اہم تعلیمی منزل بن چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے پاکستانی طلبہ کے لیے جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، تاہم درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث بعض اوقات ویزا پراسیسنگ میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

جرمن سفیر کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش مند ہے، جس کے نتیجے میں ویزا درخواستوں کا حجم بڑھ رہا ہے۔ درخواستوں کی زیادہ تعداد بعض اوقات ان کی جانچ پڑتال اور کارروائی کے عمل کو طویل کر دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمن حکام ویزا پراسیسنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور درخواستوں پر کارروائی کو مزید مؤثر اور تیز رفتار بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع پاکستانی طلبہ کے لیے اس لحاظ سے اہم ہیں کہ وہاں انہیں مختلف تعلیمی شعبوں میں تعلیم اور تحقیق کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ تاہم طلبہ کے لیے ویزا درخواستوں کی تیاری، متعلقہ دستاویزات کی تکمیل اور مقررہ تقاضوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

جرمن سفیر نے ویزا درخواستوں میں اضافے اور کارروائی میں تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ درخواستوں کی زیادہ تعداد ایک اہم چیلنج ہے، جبکہ متعلقہ حکام اس عمل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تعلیمی روابط دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے میں اہم

ڈاکٹر اِنّا لیپل نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلیمی روابط اور عوامی تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں میڈیا، عوامی روابط اور تعلیمی تبادلوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔

تعلیمی روابط کے ذریعے طلبہ، اساتذہ اور محققین کو ایک دوسرے کے تعلیمی اور تحقیقی ماحول سے واقف ہونے کے مواقع ملتے ہیں۔ اسی طرح عوامی سطح پر روابط مختلف معاشروں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

نیشنل پریس کلب میں منعقدہ نشست کے دوران جرمن سفیر نے پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی، جن میں تجارت، تعلیم، علاقائی سلامتی اور عالمی صورتحال شامل تھے۔

صحافیوں نے ان موضوعات کے حوالے سے مختلف سوالات کیے، جن کے جرمن سفیر نے تفصیلی جوابات دیے۔ اس تبادلۂ خیال میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے میڈیا اور عوامی رابطوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

میڈیا اور صحافتی اداروں کے کردار پر زور

جرمن سفیر کا نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ سفارت کاروں اور صحافتی برادری کے درمیان براہِ راست مکالمے کے فروغ کے لیے اہم موقع قرار دیا گیا۔

’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام کے تحت ہونے والی نشست میں صحافیوں کو جرمن سفیر سے دوطرفہ تعلقات، عالمی امور اور علاقائی صورتحال کے بارے میں سوالات کرنے کا موقع ملا۔

نیشنل پریس کلب کے سیکریٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے جرمن سفیر کو ادارے کے صحافتی کردار، سرگرمیوں اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے جرمنی کو پاکستان کا اہم ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے تعلیم، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔

اس موقع پر صحافتی اداروں اور سفارتی مشنز کے درمیان روابط کی اہمیت بھی نمایاں ہوئی۔ ایسے مکالموں کے ذریعے مختلف ممالک کے نمائندوں کو صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے اور اپنے مؤقف کی وضاحت کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ صحافتی برادری کو بھی بین الاقوامی امور پر براہِ راست معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

دوستی اور ماحولیاتی پائیداری کی علامت کے طور پر شجرکاری

دورے کے دوران ڈاکٹر اِنّا لیپل نے نیشنل پریس کلب کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔ اس اقدام کو پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوستی اور ماحولیاتی پائیداری کی علامت قرار دیا گیا۔

شجرکاری کی اس سرگرمی نے دورے کو سفارتی مکالمے کے ساتھ ایک علامتی پہلو بھی فراہم کیا۔ ماحولیاتی پائیداری اور قدرتی وسائل کے تحفظ جیسے موضوعات دنیا بھر میں اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ شجرکاری ماحول کے تحفظ کے حوالے سے عوامی آگاہی اور مثبت اقدامات کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

دورے کے دوران نیشنل پریس کلب کے مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کیا گیا، جس سے جرمن سفیر کو ادارے کی سرگرمیوں اور صحافتی برادری کے لیے اس کے کردار سے آگاہ ہونے کا موقع ملا۔

پاکستان اور جرمنی کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی امید

دورے کے اختتام پر صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے جرمن سفیر کا صحافتی برادری کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے نیشنل پریس کلب آمد پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور جرمنی کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل پریس کلب سفارت کاروں، پالیسی سازوں اور صحافیوں کے درمیان بامقصد مکالمے اور روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

جرمن سفیر ڈاکٹر اِنّا لیپل کے دورے اور ان کے خطاب میں دوطرفہ تجارت میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، تعلیمی روابط، علاقائی امن اور عالمی تنازعات کے پُرامن حل جیسے موضوعات نمایاں رہے۔

مجموعی طور پر جرمن سفیر کے بیان سے یہ پیغام سامنے آیا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے معاشی تعاون اور دوطرفہ تجارت میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ علاقائی امن کے لیے سفارت کاری، پاکستانی طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع اور صحافیوں و سفارت کاروں کے درمیان بامقصد مکالمہ دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button