
پاکستان میں جدید زراعت کے فروغ کے لیے این پی او اور ایشیائی پیداواری تنظیم کا مشترکہ اقدام، لاہور میں بین الاقوامی ورکشاپ کا افتتاح
زرعی پیداوار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ پر توجہ، قومی پیداواری ایوارڈز 2025 بھی تقسیم
قیصر مغل-ادارت
لاہور میں قومی پیداواری تنظیم (NPO) پاکستان نے ایشیائی پیداواری تنظیم (APO) جاپان کے اشتراک سے لاہور میں پانچ روزہ بین الاقوامی ورکشاپ بعنوان *’’زرعی شعبے میں جدید ویلیو ایڈڈ مصنوعات (سمارٹ ایگریکلچر)‘‘* کا افتتاح کر دیا۔ 2 سے 6 نومبر 2026ء تک جاری رہنے والی اس ورکشاپ میں مختلف ممالک کے بین الاقوامی مندوبین، زرعی ماہرین اور پاکستانی پیشہ ور افراد شرکت کر رہے ہیں۔ ورکشاپ کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، جدت، پائیدار زرعی طریقوں اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے زرعی پیداوار اور مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ندیم الرحمٰن، جوائنٹ سیکریٹری، وزارتِ صنعت و پیداوار، حکومتِ پاکستان تھے۔ تقریب کا ایک اہم حصہ اے پی او نیشنل پروڈکٹیوٹی ایوارڈز 2025 کی تقسیم بھی تھا، جن کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافے، جدت، بہترین کارکردگی اور مسلسل بہتری کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اداروں اور متعلقہ شعبوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ندیم الرحمٰن نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے، جو غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع، دیہی ترقی اور صنعتی شعبے کو خام مال کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے زمین اور مٹی کے پائیدار انتظام، قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید زرعی طریقوں کو اپنانا اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ حکومتِ پاکستان کے معاشی ترقی کے اہداف، بالخصوص *اڑان پاکستان (URAAN Pakistan) اور 5Es نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے حصول کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پیداواری صلاحیت، جدت اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے لیے ایشیائی پیداواری تنظیم کے مسلسل تعاون اور تکنیکی معاونت کو بھی سراہا۔
اس موقع پر محمد عالم گیر چوہدری، چیف ایگزیکٹو آفیسر، قومی پیداواری تنظیم (NPO) پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این پی او ملک کی معیشت کے مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت، جدت اور مسابقت کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ صنعتی پیداوار جتنا ہی اہم ہے، کیونکہ زراعت نہ صرف غذائی تحفظ اور روزگار کی فراہمی کا ذریعہ ہے بلکہ صنعتی شعبے کے لیے خام مال کی فراہمی میں بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سمارٹ ایگریکلچر، زمین اور مٹی کے پائیدار انتظام، وسائل کے مؤثر استعمال اور جدید ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے فروغ سے زرعی کارکردگی کو بہتر بنانے، زراعت اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط کرنے اور زرعی بنیادوں پر قائم کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی ماہرین کے تجربات اور بہترین طریقہ کار سے استفادہ کریں اور ورکشاپ کے دوران حاصل ہونے والے علم کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتے ہوئے زرعی پیداوار اور پائیداری میں قابلِ پیمائش بہتری لائیں۔
پانچ روزہ ورکشاپ کے دوران پائیدار زرعی طریقوں، زمین اور مٹی کے بہتر انتظام، وسائل کے مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کی مدد سے زرعی پیداوار میں اضافے، زرعی مصنوعات کے معیار میں بہتری اور ویلیو ایڈیشن کے جدید طریقوں پر توجہ دی جائے گی۔ اس پروگرام میں ایشیائی پیداواری تنظیم کے رکن ممالک کے ماہرین اور شرکاء کو اپنے تجربات اور بہترین عملی طریقہ کار کے تبادلے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
اس بین الاقوامی اقدام کے ذریعے کسانوں، زرعی کاروباری اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کار میں اضافہ، پیداواری لاگت اور وسائل کے ضیاع میں کمی، زرعی مصنوعات کے معیار میں بہتری اور زرعی ویلیو چین میں معاشی قدر بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
قومی پیداواری تنظیم پاکستان اور ایشیائی پیداواری تنظیم جاپان کا یہ مشترکہ اقدام پاکستان میں قومی پیداواری تحریک کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور ملک کے زرعی شعبے کو جدید، پائیدار اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔



