پیر مشتاق رضویکالمز

امریکہ کا ایران پر ممکنہ ایٹمی حملہ۔۔ کیوں؟؟……پیر مشتاق رضوی

اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں دیکھا جائے تو طاقت کا استعمال صرف دو صورتوں میں جائز ہے، سلامتی کونسل کی اجازت سے یا دفعہ 51 کے تحت حقِ دفاعِ خودی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

امریکہ ایران پر ایٹمی حملہ کر کے ہیروشیما اور ناگاساکی کی تاریخ دہرانا چاہتا ہے گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری امریکہ ایران جنگ، جو 28 فروری 2026ء کو شروع ہوئی تھی، اب ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں امریکی میڈیا میں Pickaxe Mountain نامی تین سو فٹ گہری ایرانی جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے زمینی ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار کے استعمال کی باتیں ہو رہی ہیں۔امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حملہ اس قدر خطرناک ہوگا کہ اس کی تابکاری خلیج فارس کے پانی کو آلودہ کر سکتی ہے اور وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ابھی بھی ایران کے جزیرہ قشم جیسے اڈوں پر حملے جاری ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی بنکر بسٹر بم اس گہری تنصیب کو تباہ کرنے میں ناکام رہے ہیں اسی لیے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ امریکہ ہر صورت میں یہ جنگ جیتنا چاہتا ہے۔یہ تاثر عام ہے کہ امریکہ میں مڈٹرم الیکشن اور اسرائیل میں الیکشن کے بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کے لیے ایران پر بڑا حملہ سیاسی طور پر ضروری ہے، امریکہ میں مڈٹرم الیکشن ہو رہے ہیں اور ان کے حتمی نتائج ابھی آنا باقی ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اندرونی سیاسی بحران اور احتجاج کا سامنا ہے، اران پر ایٹمی حملے سے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے ووٹرز کو متحد کر سکتے ہیں، ٹرمپ اور یاھو قومی سلامتی کے ایشو پر توجہ مرکوز کر کے اندرونی مسائل جیسے مہنگائی یا عدالتی اصلاحات سے توجہ ہٹا سکتے ہیں، اور ایران کو مشترکہ دشمن کے طور پر پیش کر کے امریکہ اسرائیل اتحاد کو مضبوط دکھا سکتے ہیں۔ ایران پر خوفناک حملہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں ووٹرز طویل جنگوں سے تنگ ہیں، تیل کی قیمت 105 ڈالر تک پہنچنے سے امریکی معیشت پر دباؤ بڑھے گا جو مڈٹرم میں حکمران جماعت کے خلاف جاتا ہے۔ اسرائیل میں بھی عوام پہلے ہی 8 ماہ سے جاری جنگ سے تھک چکے ہیں۔ ریپبلکن رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے خود ایسے کسی بھی ممکنہ ایٹمی حملے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی حملے کا فیصلہ صرف اندرونی سیاست سے نہیں بلکہ جوہری پروگرام کی نوعیت، آبنائے ہرمز کی صورتحال، اور عالمی دباؤ جیسے کئی اسٹریٹجک عوامل سے جڑا ہوتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں دیکھا جائے تو طاقت کا استعمال صرف دو صورتوں میں جائز ہے، سلامتی کونسل کی اجازت سے یا دفعہ 51 کے تحت حقِ دفاعِ خودی میں جب کسی ملک پر مسلح حملہ ہو ایران نے امریکی سرزمین پر براہ راست حملہ نہیں کیا اور نہ ہی سلامتی کونسل نے طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے، اس لیے یہ حملے چارٹر کی دفعہ 2(4) کی خلاف ورزی ہیں۔ جبکہ ایران کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے اقوام متحدہ چارٹر کی دفعہ 51 ہر ملک کی طرح ایران کو بھی مسلح حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق دیتی ہے اور دفعہ 2(4) اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کرتی ہے۔ NPT معاہدے کی دفعہ 4 کے تحت اسے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا حق بھی حاصل ہے۔ ایران اسی بنیاد پر کہتا ہے کہ اس کی تنصیبات پر حملہ اس کی خودمختاری پر حملہ ہے اور اس کے جوابی میزائل حملے جائز دفاع ہیں۔ لیکن بین الاقوامی قانون میں دفاع کے دو اصول ہیں، ضرورت اور تناسب، یعنی جواب فوری اور حملے سے بڑا نہ ہو۔ جب ایران تجارتی جہازوں پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ اسے عالمی تجارت پر حملہ کہتا ہے اور جب امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران اسے جارحیت کہتا ہے، اور سلامتی کونسل میں امریکی ویٹو کی وجہ سے اس قانونی تعطل کا کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔
امریکہ کے اس ممکنہ ایٹمی حملے پر روس اور چین کا ردعمل انتہائی سخت اور واضح آیا ہے۔ گذشتہ روز
2 نومبر کو قطر میں ایران امریکہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہونے کے بعد چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایرانی سلامتی عہدیدار علی باقری کنی سے ملاقات میں کہا کہ تمام فریقوں کو ہتھیار اٹھانے کے بجائے سیاسی حل پر توجہ دینی چاہیے۔ ماسکو میں روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ نئی فوجی کارروائی کی رپورٹس انتہائی تشویش کا باعث ہیں ٹکر کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ روس نے دو دیگر حکومتوں کو بتا دیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر ایٹمی حملہ کیا تو روس کو بھی یوکرین میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی آزادی مل جائے گی۔ چین خلیجی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور روس یوکرین جنگ میں مصروف ہے، اس لیے دونوں کے لیے یہ جنگ عالمی معیشت اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ دنیا پر مکمل غلبہ چاہتا ہے اور ایران کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے، اس سے قبل عراق، لیبیا، افغانستان اور شام کو تباہ کر چکا ہے اور خلیجی عرب ریاستیں اس کی دستِ نگر ہیں۔ حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ امریکی حکمتِ عملی کا سرکاری نام American Primacy ہے، یعنی 1945ء کے بعد بنے ہوئے ڈالر، سمندری راستوں اور عالمی اداروں کے نظام کو برقرار رکھنا۔ اس نظام کو امریکہ کے نزدیک دو چیلنج ہیں، ایک چین اور روس کا عالمی اور طویل مدتی چیلنج، جسے امریکی دستاویزات میں قریب ترین حریف اور فوری خطرہ کہا جاتا ہے، اور دوسرا مشرقِ وسطیٰ کا علاقائی اور فوری چیلنج۔ ایران کو اس لیے رکاوٹ سمجھا جاتا ہے کہ وہ چار چیزوں کو یکجا کرتا ہے، جوہری پروگرام، میزائل پروگرام، خطے میں پراکسی نیٹ ورک اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔خلیجی ریاستیں امریکہ کی غلام بنی ہوئی ہیں،وہ امریکہ سےسیکیورٹی لیتی ہیں اور بدلے میں اڈے اور سرمایہ کاری دیتی ہیں، لیکن حالیہ جنگ میں سعودی عرب اور عمان نے چین اور ایران سے رابطے بڑھا کر یک طرفہ انحصار سے نکلنے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ امریکہ کو روس اور چین سے بڑھ کر دنیائے اسلام سے خطرہ ہے امریکہ کو اسلام بطور مذہب نہیں بلکہ اس سیاسی قوت سے تشویش ہے جو اس کے مشرقِ وسطیٰ کے نظام کو چیلنج کرے۔
اس تباہی کو روکنے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کی سفارتی کوششیں اس وقت سب سے زیادہ متحرک ہیں۔ 23 اکتوبر کو استنبول میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ تنازع کو بات چیت سے حل کیا جائے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت بحال کی جائے۔ اس کے بعد 26 اکتوبر کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ پاکستان اس جنگ میں امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے بڑا ثالث بنا ہوا ہے اور آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 30 اکتوبر کو کہا تھا کہ پاکستان محتاط طور پر پرامید ہے۔ ان کوششوں نے امریکہ کو مڈٹرم الیکشن تک حملہ نہ کرنے پر تو آمادہ کیا ہے لیکن مستقل کامیابی کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست معاہدہ ضروری ہے، جس میں ایران ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکہ افزودہ یورینیم کی منتقلی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اگر اس کے باوجود امریکہ نے ایٹمی حملہ کیا تو اس کے نتائج صرف ایران میں خوفناک تباہی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں معاشی تباہی، عالمی انتشار اور بدامنی پھیلے گی۔ پہلے 48 گھنٹوں میں Pickaxe Mountain کے اطراف تابکار مٹی پھیلے گی اور ایران خلیجی امریکی اڈوں پر جوابی حملہ کرے گا۔ ایک ہفتے سے ایک ماہ میں خلیج فارس کا پانی تابکار ہو جائے گا، جس سے سعودی عرب، امارات، قطر، کویت سمیت دس کروڑ لوگوں کے پینے کے پانی کا بحران پیدا ہوگا اور تابکار بادل بلوچستان تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک سے چھ ماہ میں تیل 105 ڈالر سے بڑھ کر 180 سے 250 ڈالر تک جا سکتا ہے، دنیا کی 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی سپلائی بند ہو جائے گی اور کھاد و خوراک کی قیمتوں میں 60 فیصد اضافہ ہوگا۔ چھ ماہ سے دو سال میں 1945 کے بعد قائم جوہری عدم پھیلاؤ کا نظام ٹوٹ جائے گا، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر بھی جوہری دوڑ میں شامل ہو جائیں گے اور روس کو یوکرین میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا جواز مل جائے گا۔ طویل مدت میں مسلم دنیا میں شدید ردعمل، دنیا کا دو بلاکس میں تقسیم ہونا اور اقوامِ متحدہ کی ساکھ کا خاتمہ ہوگا۔ اسی لیے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، چین اور روس سب کا ایک ہی پیغام ہے کہ اس تباہی کو روکنے کا واحد راستہ ایٹمی حملہ نہیں بلکہ سفارت کاری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button