پاکستاناہم خبریں

جھوٹے نعروں، بیرونی فنڈنگ اور جعلی مزاحمت کا چہرہ بے نقاب: سابق مزاحمت کار سرفراز بنگلزئی کی چشم کشا گواہی

میں نہ کسی ذاتی مفاد کے لیے واپس آیا ہوں، نہ کسی دھمکی کی وجہ سے۔ میں نے ان تنظیموں کی منافقت، جھوٹے بیانیے اور عالمی سازشوں کو قریب سے دیکھا ہے۔

کوئٹہ (خصوصی رپورٹ) — پاکستان کے حساس علاقے بلوچستان میں برسوں سے جاری بدامنی، شورش اور ریاست مخالف سرگرمیوں کی حقیقت پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے سابق مزاحمت کار سرفراز بنگلزئی نے انکشاف کیا ہے کہ "فتنہ الہندوستان” جیسے پروپیگنڈا نیٹ ورک اور تنظیمیں جیسے بی این ایم (BNM)، بی ایل اے (BLA)، بی ایل ایف (BLF) اور بی وائی سی (BYC)، نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور ریاست پاکستان کے خلاف صف آراء کرنے میں پیش پیش رہی ہیں۔

ان کے مطابق یہ گروہ نہ صرف خود پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں بلکہ بعد میں ریاستی اداروں پر الزام دھر کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرفراز بنگلزئی کا دعویٰ ہے کہ ان تنظیموں کے بیشتر مرکزی کردار بیرونی ممالک میں چھپے بیٹھے ہیں اور انہیں بین الاقوامی ایجنسیوں کی جانب سے مالی، سیاسی اور میڈیا سپورٹ حاصل ہے، جس کے ذریعے وہ بلوچستان کے نوجوانوں کو جھوٹے نعروں اور جذباتی شاعری کے ذریعے ورغلا کر مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔


بیرونی فنڈنگ اور جھوٹا بیانیہ: مزاحمت یا مفاد؟

سرفراز بنگلزئی کا کہنا ہے کہ یہ ساری مزاحمت، درحقیقت ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے، جہاں تنظیمی سربراہ اور کمانڈران مالی فائدے سمیٹ رہے ہیں جبکہ نیچے موجود کارکنوں اور عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ان گروہوں کو ماہانہ بنیادوں پر بیرونِ ملک سے فنڈز موصول ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنی عیش و عشرت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

"میں نہ کسی ذاتی مفاد کے لیے واپس آیا ہوں، نہ کسی دھمکی کی وجہ سے۔ میں نے ان تنظیموں کی منافقت، جھوٹے بیانیے اور عالمی سازشوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ ہم نے اپنے بچے اور 70 سے زائد قریبی ساتھی اس لڑائی میں کھو دیے۔ مگر یہ لوگ ابھی بھی معصوم نوجوانوں کو استعمال کر رہے ہیں،” — سرفراز بنگلزئی


BYC: نوجوانوں کی ذہن سازی کا مرکز

سرفراز بنگلزئی کے مطابق BYC (بلوچ یوتھ کونسل) ایک ایسی تنظیم بن چکی ہے جو نوجوانوں کو ریاست مخالف سوچ دینے اور مسلح جدوجہد کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کی "نرسری” کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوبصورت نعرے، رومانوی شاعری اور "بلوچیت” کے جذباتی بیانیے کے پیچھے ایک منظم سازش چھپی ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ نوجوانوں کو استعمال کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کئی خواتین کو بھی مسلح کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی نظریاتی تربیت کے ساتھ ساتھ عسکری تربیت بھی کی جا رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صہیب لانگو نامی شخص جو حالیہ جھڑپوں میں مارا گیا، اس کا تعلق بھی BYC سے تھا، اور وہ ایسی ہی ایک سرگرمی میں شامل تھا۔


تنظیمی انتشار اور ذاتی مفادات

سرفراز نے مزید بتایا کہ ان تنظیموں کے اندرونی حالات نہایت خراب ہیں۔ ایک طرف وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، مگر حقیقت میں:

  • کمانڈران ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں؛

  • پیسہ ذاتی استعمال میں لایا جا رہا ہے؛

  • تنظیمی فیصلے شخصی مفاد پر مبنی ہیں؛

  • کارکنوں کی جانوں کو ایک مہرے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

"یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جیبیں بھرنے کے لیے معصوم نوجوانوں کی لاشیں استعمال کرتے ہیں۔ خود ملک سے باہر بیٹھ کر آرام سے زندگی گزارتے ہیں اور یہاں لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔”


جذباتی بلیک میلنگ اور واپسی کا راستہ

سابق مزاحمت کار نے بتایا کہ کس طرح نوجوان بغیر تحقیق کیے، صرف شاعری اور نعروں سے متاثر ہو کر اس جھوٹی مزاحمت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت درجنوں نوجوان ایسے ہیں جو اس راستے پر جا کر اب واپس پلٹنے پر پچھتا رہے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس نام نہاد مزاحمت کے حقیقی چہرے کو پہچانیں، جذبات کی بجائے عقل و تحقیق سے کام لیں، اور ان جعلی تنظیموں کے جھانسے میں نہ آئیں۔


قبائلی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کے لیے پیغام

سرفراز بنگلزئی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچستان کے قبائلی رہنما، سیاسی شخصیات اور سول سوسائٹی اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کے خلاف آواز بلند کریں اور عوام کو شعور دیں تاکہ مزید نوجوان تباہی کے اس راستے پر نہ چلیں۔

"اگر ہم خاموش رہے تو مزید نسلیں تباہ ہوں گی، مزید ماں باپ اپنے بچوں کو کھوئیں گے اور فائدہ صرف وہی لوگ اٹھائیں گے جو ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔”


ریاستی اداروں سے مطالبہ

انہوں نے ریاستی اداروں سے بھی اپیل کی کہ واپس آنے والے نوجوانوں کے لیے ریہیب، روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ کسی ایسی تنظیم کا آلہ کار نہ بنیں۔


آخر میں…

سرفراز بنگلزئی کی یہ گواہی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک وارننگ ہے — کہ نام نہاد آزادی، خوبصورت نعرے، اور بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی تحریکوں کے پیچھے کچھ اور کہانیاں چھپی ہیں۔

یہ کہانیاں جذبات سے زیادہ حقائق، استحصال اور منافقت کی بنیاد پر کھڑی ہیں۔ اور اگر نوجوانوں نے ہوش سے کام نہ لیا، تو وہ بھی انہی کہانیوں کا حصہ بن کر ختم ہو جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button