لاہورانویسٹی گیشن ونگ کا کریمنلز کے خلاف شکنجہ مزید تنگ
کہا جاتاہے اگر کمان اچھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ کسی بھی مجرم کو نکیل نہ ڈالی جا سکے یا قانون کی گرفت میں نہ لایاجا سکے
لاہور پاکستان(نمائندہ وائس آف جرمنی): کہا جاتاہے اگر کمان اچھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ کسی بھی مجرم کو نکیل نہ ڈالی جا سکے یا قانون کی گرفت میں نہ لایاجا سکے۔ کامیاب لیڈر وہی ہوتا ہے جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے اپنے ماتحتان کے لیے رول ماڈل ثابت ہو۔ ڈی آئی جی اطہر اسماعیل ایک کامیاب اور منجے ہوئے پولیس آفیسر ہیں جنہوں نے اپنے روشن ماضی میں بڑے بڑے ہائی پروفائل کیسز کو حل کیا بلکہ ان میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک بھی پہنچایا اور بطور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اپنے مختصر عرصہ میں بہت سی کامیابیاں سمیٹیں اوران کی دن رات کی محنت شاقہ سے انویسٹی ونگ روز بروز ترقی کی راہوں پر گامزن ہے اور ان کی سربراہی میں انویسٹی گیشن ونگ کی سپیشل ٹیمیں جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا نے کے لیے دن رات سر گرم عمل ہے اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو رہی ہے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے ونگ کی کارکردگی پراظہار اطمینان کیا ہے۔ یہاں میں لاہور انویسٹی گیشن ونگ کی گزشتہ ماہ کی بہترین کارکردگی کا ذکر کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔لاہور انویسٹی گیشن پولیس نے رواں سال درجنوں پیشہ ور گینگز کو گرفتار کر کے کروڑوں روپے ریکوری کی اور خطر ناک اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اطہر اسماعیل کی ہدایات پر ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن کی سربراہی میں ماڈل ٹاؤن ڈویژن نے گزشتہ دو ماہ کے دوران قتل، اندھے قتل، تیزاب گردی اوراغواء برائے تاوان میں ملوث25 ملزمان سمیت ڈکیتی، چوری و دیگر جرائم کے 3730ملزمان گرفتار کر کے ان سے 04کروڑ روپے سے زائد کا مالِ مسروقہ برآمد کیا جبکہ4802مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے اور 1745جھوٹے مقدمات خارج کیے اور کل5455ملزمان گرفتار کیے۔ اے کیٹگری کے51خطرناک اشتہاریوں سمیت309اشتہاری ملزمان گرفتارکیے جبکہ 297عدالتی مفروران،55سابقہ ریکارڈ یافتگان بھی گرفتارکیے گئے۔علاوہ ازیں پیشہ ور17گینگز کے42ملزمان گرفتارکیے گئے جن کے خلاف422مقدمات ٹریس کیے گئے اور ان سے53لاکھ سے زائد مالیت کا مالِ مسروقہ برآمدکیا گیا۔ اسی طرح عورتوں، بالغان اور بچوں کے اغواء کے 182مقدمات میں 184 مغویان بازیاب کروائے گئے۔ انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت نے شہری کے اندھے قتل میں اس کی سگی بہن کوساتھیوں سمیت گرفتارکر لیا ہے۔شہری عدنان کو چند روز قبل کوٹ لکھپت کے علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ مقتول کی بہن آسیہ، عباس سمیت شوٹرز مرتضی اور نعیم کو CCTVکیمروں اور جدیدٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ ملزم آسیہ اٹلی میں مقیم وقاص سے شادی کرنا چاہتی تھی جبکہ مقتول عدنان اس بات پر راضی نہ تھا جس پر ملزم وقاص نے آسیہ سے پلاننگ کر کے اپنے بھائی عباس کے ذریعے شوٹرز کو 2لاکھ70ہزار کی رقم دے کر عدنان کو قتل کروادیا۔ ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے آلہ قتل پسٹل برآمد کر لیا گیا ہے۔انویسٹی گیشن فیصل ٹاؤن نے ایڈووکیٹ فیصل شہزاد کے اندھے قتل کی سنگین واردات میں ملوث ملزم علی احمد کو گرفتارکر لیا ہے۔ ملزم علی احمد نے سابقہ مقدمہ بازی کی رنجش پر مقتول فیصل شہزاد کو اس کے گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔انویسٹی گیشن پولیس نشتر کالونی نے اندھے قتل کی واردات میں ملوث بہنوئی کو قتل کرنیوالے 03ملزمان کو گرفتارکر لیا ہے۔مقتول عثمان کی ملزمان دلاور، جابر علی اور اکبر علی کی بہن سعدیہ سے پسند کی شادی ہوئی تھی۔مقتول عثمان نے ملزم دلاور کی بیوی سے بھی ناجائز تعلقات استوار کر لیے تھے، جس کا انہیں رنج تھا۔ملزمان نے عثمان کو چھریوں کے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور مقتول کی نعش آشیانہ سکیم کے عقب کھلی جگہ گہری کھائی میں پھینک دی تھی۔ مقتول کی موٹر سائیکل اور آلہ قتل 02چھریاں برآمد کر لی گئیں ہیں۔ انویسٹی گیشن کاہنہ نے بیٹی اور داماد کے ڈبل مرڈر کی واردات میں ملوث ملزم محمد شریف گرفتار کیا۔ مقتول عدنان نے ملزم کی17سالہ بیٹی فرح بی بی کے ساتھ شادی کر لی تھی جس کا ملزم کو رنج تھا۔ ملزم محمد شریف نے بیٹی اور داماد کو گھر بلایا اور فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل پسٹل برآمد کر لیا گیاہے۔انویسٹی گیشن پولیس کاہنہ نے ہی ڈبل مرڈر کی واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتارکر لیا۔مقتولین اسد اور حمزہ تقریباً ایک سال قبل اپنے والد عبدالقیوم(پولیس اہلکار) کے قتل کے جرم میں جیل گئے اور ضمانت پر رہا ہو کر آئے تو حقیقی چچا جاوید کے بیٹے حزیفہ اور صغیر نے قتل کر دیاتھا، دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا۔ انویسٹی گیشن پولیس کاہنہ نے بڑے بھائی کو قتل کرنے والے چھوٹے بھائی کو ساتھی سمیت گرفتار کر لیا۔ملزم شہباز عرف چھنو نے اپنے ساتھی کے ہمراہ اپنے بڑے بھائی حیدر علی کو منہ میں فائر مار کر قتل کر دیاتھا۔ملزم شہباز کو گرفتار کر کے آلہ قتل پسٹل برآمد کر لیا گیاہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن نے مزید بتایا کہ انویسٹی گیشن پولیس کاہنہ نے بیٹی کے اغواء کے مقدمہ کی پیروی کرنیوالے باپ کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتارکیا۔ مقتول ناصر حسین نے تھانہ کاہنہ میں اپنی بیٹی کے اغواء کا مقدمہ درج کروا رکھا تھا۔ ملزم دانش مقدمہ خارج کروانے اور صلح کے لیے ناصر حسین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا تھا،انکار پر ملزم نے گھر میں گھس کر ناصر حسین کے پیٹ میں فائرمارکر زخمی کر دیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔ اسی طرح انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت نے 22سالہ منگیتر کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا کر قتل کرنیوالے ملزم خرم شہزاد کو گرفتارکیا۔ ملزم خرم شہزاد کی 3سال قبل 22سالہ کرن شہزادی سے منگنی ہوئی تھی۔ مقتولہ کرن شہزادی نے شادی سے انکار کر دیا جس کا ملزم خرم شہزاد کو رنج تھا۔ملزم نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ گھر میں گھس کرپیٹرول چھڑک کر مقتولہ کو آگ لگا دی تھی۔ انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت نے سسر کو قتل کرنیوالے داماد کو بھائی سمیت گرفتارکر لیا ہے۔ ملزم معظم علی کی شادی گونگی لڑکی ماریہ سے ہوئی جن کا آپس میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ جھگڑوں کی وجہ سے ماریہ اپنے والدفریاد کے گھر رہ رہی تھی، مقتول صلح کے لیے سسرال آیا اورتلخ کلامی پر ملزم معظم علی اور ذوالفقارنے اپنے سسر فریاد کا سر دیوار کے ساتھ مار کر قتل کر دیا۔ انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت نے سگے باپ کو قتل کرنیوالے بیٹوں کو ماں سمیت گرفتارکیا۔ مقتول شوکت علی کا اپنی بیوی ناہید اختر سے جھگڑا ہوا تھا۔ ماں سے جھگڑا کرنے پر حسین عرف صابی اور حسنین نے فائرنگ کر اپنے والد شوکت علی کو قتل کر دیا۔ ملزمان سے آلہ قتل پسٹل برآمدکر لیا گیا ہے۔ انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت نے ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے اغواء ہونیوالے مغوی کو صوبہ سندھ سے بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔ چند روز قبل مغوی زبیر علی اور اس کے چچا شوکت علی کو ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے اغواء کر لیا گیا۔ پولیس ٹیم نے شب و روز کی محنت کے بعد مغویان کو گھوٹگی سندھ سے بحفاظت بازیاب کروا لیاہے۔ انویسٹی گیشن پولیس کاہنہ نے معمولی گھریلو جھگڑے پر اپنی بیوی کا ناک کاٹنے والے ملزم کوداماد سمیت گرفتارکر لیا ہے۔ ملزم قربان علی نے معمولی جھگڑے پر داماد علی رضا کی مدد سے اپنی بیوی کی ناک کاٹ دی تھی۔انویسٹی گیشن پولیس کاہنہ نے رشتہ سے انکار پر25سالہ لڑکی پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو گرفتارکیا۔ گرفتار ملزم آصف جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے، متاثرہ لڑکی تہمینہ سے بھی شادی کرنا چاہتا تھا۔ انکار پر گھر میں گھس کر ملزم آصف نے تہمینہ پر تیزاب پھینک دیا۔ تیزاب سے لڑکی کا چہرہ، بازو اور ٹانگ بری طرح جل گئے۔انویسٹی گیشن پولیس لیاقت آباد نے قتل کی سنگین واردات میں ملوث میاں بیوی کو کچے کے علاقے (رحیم یار خان) سے گرفتارکر لیا ہے۔ملزمان علی رضا اور اس کی بیوی حلیمہ بی بی نے معمولی جھگڑے پر22سالہ نورین کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ملزم علی رضا کی بیوی حلیمہ نے نورین کے گھر کے سامنے کوڑا پھینکا تھا جو جھگڑے کی وجہ بنا۔ میاں بیوی مقتولہ کے قتل کے بعد کچے کے علاقے میں چھپ گئے تھے۔پولیس ٹیم نے ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالسز کی مدد سے گرفتارکیا۔ ملزمان سے آلہ قتل پسٹل برآمدکر لیا گیا ہے۔ انویسٹی گیشن پولیس ماڈل ٹاؤن نے چوری کرنیوالی 02گھریلو ملازمہ گرفتارکر کے ان سے30تولے سونا اور 04لاکھ نقدی برآمدکر لی ہے۔گرفتارگھریلو ملازمہ روبینہ اور اقرانے گھر میں نقدی اور طلائی زیورات چوری کرنے کی واردات کی تھی۔
ایس پی انویسٹی گیشن سٹی عثمان ٹیپو کی سربراہی میں انویسٹی گیشن پولیس شاہدرہ ٹاؤن نے خاتون کے قتل میں ملوث 03منشیات فروشوں کو گرفتارکر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان ظفر خان، متین خان اور افضال نے آپسی فائرنگ کے دوران راہگیر خاتون صغراں بی بی کو قتل کر دیا تھا۔ تینوں گرفتار ملزمان منشیات فروش ہیں جو دوران لڑائی ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے،ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا ہے۔ انویسٹی گیشن پولیس شاہدرہ ٹاؤن نے سگی بہن کو قتل کرنیوالااشتہاری ملزم ڈیڑھ سال بعد گرفتارکیا۔ گرفتار ملزم فرحان عرف لبھا نے 23سالہ شبانہ بی بی کو اینٹوں کے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ گرفتار ملزم کے مطابق اس کی بہن کا چال چلن ٹھیک نہ تھا جس وجہ سے اسے قتل کیا۔ انویسٹی گیشن پولیس لوئر مال نے 60سالہ شہری کو قتل اور اس کے بیٹوں کو زخمی کرنیوالے 02اشتہاری ملزمان گرفتارکیا۔ گرفتار ملزمان شہزاد اور جنید نے فائرنگ کر کے 60سالہ اصغر علی کو قتل جبکہ اس بیٹوں احسان اور اسد کو زخمی کر دیا۔ مقتول بیٹوں کے ہمراہ داتا دربار پٹھورے تقسیم کر رہا تھا۔ پٹھورے دیر سے دینے پر ملزمان نے فائرنگ کر دی۔انویسٹی گیشن پولیس ٹبی سٹی نے40سالہ اعجاز خان کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث ملزم ریحان گرفتارکیا۔ گرفتار ملزم ریحان اور مقتول ملک اعجاز خان نشے کے عادی ہیں۔ملزم ریحان نے معمولی جھگڑے پر چھری کے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔انویسٹی گیشن پولیس اسلامپورہ نے27سالہ اخلاق کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث ملزم گرفتارکیا۔ گرفتار ملزم شہزاد اور مقتول اخلاق نشے کے عادی ہیں اور ہیروئن کا دھندہ کرتے تھے۔ ملزم نے مقتول سے کچھ رقم ادھار لی تھی، واپسی کے مطالبہ پر جھگڑا ہو گیا جس پرملزم نے دستی خنجر کے پے در پے وار کر کے مقتول اخلاق کو قتل کیا اور فرار ہو گیاتھا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی،آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہورغلام محمود ڈوگر کے ویژن کے مطابق لاہورانویسٹی گیشن ونگ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اطہر اسماعیل کی قیادت میں عوام والناس کے جان و مال کی حفاظت کے لیے اُٹھائے گئے تمام اقدامات میں مزیدبہتری اورجدت لانے کی بھر پورکوشش کر رہی ہے۔لاہور انویسٹی گیشن پولیس کے موجودہ افسران نے تفتیش کے طریقہ کار میں جدت پیدا کر کے اسے انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنا دیا ہے ہم اُمید کرتے ہیں کہ ملزمان کے گرد اسی طرح مضبوط گرفت رہی تو کوئی وجہ نہیں کہ شہر لاہور کرائم فری سٹی بن کر اُبھرے گا۔اب یہاں شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ پولیس کی کوششوں اور قربانیوں کے اعزاز میں ان سے بھر پور تعاون کریں تا کہ تبدیلی کا سفر جاری رہے۔ بحثیت ذمہ دار شہری ہماری بھی ذمہ داری ہے ایسے سفاک عناصر کی کردار کشی کی جائے اور اپنی پولیس کے شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر ایسے واقعات سے بچنے کی حتیٰ المکان کوشش کی جائے۔ اپنے ارد گرد علاقے میں ایسی سرگرمیاں ترتیب دی جائیں جس سے صبر، برداشت اور ذمہ داری جیسے رویوں کو فروغ دیا جا سکے۔



